امانت داری-Trustworthiness(The Light of Faith)

🌙 امانت داری – ایمان کا روشن چراغ(Trustworthiness)


مدینہ کا ایک دن (A Day in Madinah)

امانت داری-Trustworthiness(The Light of Faith)

مدینہ منورہ کا موسم خوشگوار تھا۔ سورج کی نرم روشنی مسجد نبوی ﷺ کے صحن میں پھیل رہی تھی۔ درختوں سے ٹھنڈی ہوا آ رہی تھی اور لوگ اپنے معمولاتِ زندگی میں مصروف تھے۔

انہی دنوں مدینہ میں ایک نوجوان رہتا تھا جس کا نام عبداللہ بن حارثؓ تھا۔ وہ ایک عام تاجر تھا مگر اس کے دل میں ایمان اور امانت داری کی روشنی تھی۔ اس کے والد محترم نبی کریم ﷺ کے زمانے میں مشہور امانت دار تاجر رہے تھے، اور وہی اوصاف عبداللہؓ میں بھی جھلکتے تھے۔

.آپ پڑھ سکتے ہیں

توکل کا انعام

احسان کا پھل

نیکی اور بدی کا انجام

قناعت اور سکون


بچپن کی تربیت (The Foundation of Honesty)

عبداللہؓ کی والدہ اکثر فرمایا کرتیں:

“بیٹا! امانت ایمان کا زیور ہے، اور خیانت ایمان کا زوال۔”

یہ بات اس کے دل میں گہرائی سے بیٹھ گئی۔ بچپن سے ہی وہ ہر چیز کو دیانت داری سے انجام دیتا۔ اگر کسی دوست کا قلم یا سکے زمین پر گرتے تو وہ فوراً لوٹا دیتا۔

ایک دن مسجد نبوی ﷺ میں ایک صحابیؓ نے کہا:

“جس کے دل میں امانت داری ہے، اس کے دل میں ایمان زندہ ہے۔”

یہ جملہ عبداللہؓ کے لیے زندگی کا اصول بن گیا۔


تجارت کی ابتدا (The Beginning of Trade)

امانت داری-Trustworthiness(The Light of Faith)

عبداللہؓ جوان ہوا تو اپنے والد کی تجارت سنبھالی۔ کھجوروں، کپڑوں اور مصالحوں کی خرید و فروخت کرتا۔ اس کی دیانت داری کے چرچے مکہ، یمن، اور شام تک پہنچ گئے۔

ایک دن ایک اجنبی شخص آیا، جس کا نام سعید بن عثمانؓ تھا۔ اس نے کہا:

“اے عبداللہ! میں سفر پر جا رہا ہوں۔ یہ میرے پاس کچھ سونا اور جواہرات ہیں، کیا تم انہیں بطور امانت رکھ لو گے؟”

عبداللہؓ نے مسکرا کر جواب دیا:

“یہ اللہ کی امانت سمجھ کر رکھوں گا۔ جب لوٹو گے تو بعافیت واپس پاؤ گے۔”


آزمائش کا لمحہ (The Test of Trust)

کچھ دن بعد مدینہ میں سخت بارش ہوئی۔ بازار بند ہو گئے، گوداموں میں پانی بھر گیا۔ عبداللہؓ کا بھی گودام متاثر ہوا۔ جب اس نے جا کر دیکھا تو سعید بن عثمانؓ کی امانت کا صندوق پانی میں بہہ چکا تھا۔

لوگوں نے کہا:

“اب تو وہ مال ختم ہو گیا، اتنی محنت کیوں؟”

لیکن عبداللہؓ نے کہا:

“یہ میرے رب کی امانت ہے۔ جب تک سانس ہے، تلاش کروں گا۔”

وہ کئی دن مٹی کھودتا رہا۔ آخرکار ایک دن صبح سویرے اُسے وہ لکڑی کا صندوق مل گیا، بالکل صحیح حالت میں۔


ایمان کی روشنی (The Light of Faith)

امانت داری-Trustworthiness(The Light of Faith)

جب سعید بن عثمانؓ سفر سے واپس آیا تو عبداللہؓ نے وہ صندوق اُس کے سامنے رکھ دیا۔

سعید نے حیرت سے کہا:

“میں نے تو سوچا تھا کہ وہ طوفان سب کچھ بہا لے گیا ہوگا!”

عبداللہؓ نے جواب دیا:

“امانت اللہ کے حوالے تھی، اُس نے حفاظت کی۔”

سعید کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

“اے عبداللہ! تم نے میرا مال ہی نہیں، میرا ایمان بھی لوٹا دیا۔”


قربانی اور دیانت (The Sacrifice of Honesty)

وقت گزرتا گیا۔ عبداللہؓ کی تجارت میں بے پناہ برکت ہوئی۔ لوگ اُس پر بھروسہ کرتے اور اُس کے پاس اپنی امانتیں رکھتے۔

ایک دن ایک بوڑھا تاجر اُس کے پاس آیا۔ اُس نے کہا:

“بیٹے، تمہارے والد نے میرے پاس کچھ دینار بطور امانت رکھوائے تھے۔ اب وہ رقم تمہاری ہے۔”

عبداللہؓ نے جواب دیا:

“میرے والد اگر زندہ ہوتے تو وہ یہ مال کسی یتیم یا محتاج کو دے دیتے۔ لہٰذا میں اسے اپنے لیے نہیں رکھ سکتا۔”

یہ کہہ کر اُس نے وہ رقم غریبوں میں تقسیم کر دی۔


نئی آزمائش (A New Test from Allah)

ایک دن عبداللہؓ تجارتی سفر پر گیا۔ راستے میں ڈاکوؤں نے حملہ کیا اور سارا مال چھین لیا۔ اُس کے ساتھی گھبرا گئے مگر عبداللہؓ نے صبر سے کہا:

“یہ مال بھی امانت تھا، اللہ چاہے گا تو واپس دے دے گا۔”

مدینہ واپس آیا تو خالی ہاتھ تھا، مگر دل مطمئن۔ کچھ دن بعد ایک قافلہ آیا جس میں وہی ڈاکو گرفتار ہو چکے تھے۔ اُن کے سامان سے عبداللہؓ کا مال برآمد ہوا۔

مدینہ کے حاکم نے کہا:

“اللہ نے تمہاری امانت تمہیں واپس کر دی، کیونکہ تم نے اُس پر بھروسہ رکھا۔”


نبی ﷺ کی تعلیم (The Prophet’s ﷺ Words)

جب نبی کریم ﷺ کو عبداللہؓ کی دیانت کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

“جب تم کسی بندے کو امانت دار دیکھو تو جان لو کہ ایمان زندہ ہے۔”

یہ جملہ عبداللہؓ کے لیے زندگی کا سب سے بڑا انعام تھا۔


سکون کا لمحہ (The Peaceful Ending)

سال گزرتے گئے۔ عبداللہؓ بڑھاپے میں بھی مسجد نبوی ﷺ کے صحن میں بیٹھا رہتا، اور اپنے شاگردوں کو نصیحت کرتا:

“بیٹے! امانت صرف مال کی نہیں، قول و فعل کی بھی ہوتی ہے۔ اگر وعدہ کرو تو پورا کرو، کیونکہ وعدہ بھی امانت ہے۔”

ایک دن مغرب کے وقت وہ دعا کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہو گیا۔ چہرے پر مسکراہٹ تھی، جیسے اطمینان کی نیند سو گیا ہو۔


نتیجہ (Moral of the Story)

امانت داری ایمان کا آئینہ ہے۔
جو بندہ امانت دار ہوتا ہے، اللہ اُس کے رزق میں برکت دیتا ہے، اُس کی عزت بڑھاتا ہے، اور لوگوں کے دلوں میں اُس کے لیے محبت ڈال دیتا ہے۔

“امانت دار وہ ہے جو اللہ اور بندوں دونوں کے حق ادا کرے۔”

Leave a Comment