صبر کے بعد انسان کے ایمان کا دوسرا امتحان شکر ہے۔ صبر تنگی میں اللہ کی رضا پر راضی رہنا ہے، جبکہ شکر فراوانی میں عاجزی اختیار کرنا ہے۔ بہت سے لوگ تنگی میں اللہ کو یاد رکھتے ہیں، مگر آسائش میں بھول جاتے ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہے:
“اور اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔” (ابراہیم: 7)
یہی شکر کا اصول حضرت سالمؓ کی زندگی میں ایک بار پھر ظاہر ہوا۔
.آپ پڑھ سکتے ہیں
نئی زندگی کی روشنی (The New Life of Ease)

صبر کے انعام کے بعد حضرت سالمؓ کی زندگی میں سکون آگیا۔ وہ اب مدینہ کے ایک باغ کے نگران تھے۔ باغ ہرا بھرا تھا، درختوں سے کھجوریں لٹک رہی تھیں، اور پانی کے چشمے بہہ رہے تھے۔
حضرت سالمؓ صبح سویرے اُٹھ کر نمازِ فجر ادا کرتے، پھر باغ کی دیکھ بھال میں لگ جاتے۔ جب کوئی فقیر آتا تو وہ اسے کھجوروں سے بھری ٹوکری دے دیتے۔ وہ کہا کرتے:
“یہ سب کچھ میرا نہیں، اللہ کا عطا کردہ ہے۔ میں تو بس امانت دار ہوں۔”
ان کے اخلاص کی خوشبو پورے مدینہ میں پھیل گئی۔ لوگ ان کی سخاوت کی مثالیں دینے لگے۔
ایک نیا امتحان (A New Test)
ایک دن مدینہ میں ایک بڑا تجارتی قافلہ آیا۔ قافلے کے سردار نے حضرت سالمؓ کے باغ کی تعریف سنی اور کہا:
“میں تمہیں اتنی قیمت دوں گا کہ تمہاری نسلیں بھی امیر ہو جائیں گی۔ مجھے یہ باغ بیچ دو۔”
پہلے تو حضرت سالمؓ خاموش رہے۔ پھر دل میں خیال آیا کہ اگر وہ یہ باغ بیچ دیں تو بڑی دولت حاصل ہو سکتی ہے، جو فقراء کی مدد میں کام آسکے گی۔ مگر پھر انہیں وہ دن یاد آیا جب وہ بھوکے تھے، اور صرف دعا ان کا سہارا تھی۔
انہوں نے نرمی سے کہا:
“یہ باغ اللہ نے مجھے آزمائش کے طور پر دیا ہے، تجارت کے لیے نہیں۔ میں اسے فروخت نہیں کروں گا۔”
تاجر حیران ہوا اور بولا:
“کیا تمہیں دولت کی ضرورت نہیں؟”
حضرت سالمؓ مسکرائے:
“ضرورت ہے، مگر مجھے اپنے رب پر بھروسہ زیادہ ہے۔”
شکر کا امتحان شروع (The Trial of Gratitude Begins)
کچھ دنوں بعد ایک زبردست آندھی چلی۔ مدینہ کے کئی باغ اجڑ گئے۔ حضرت سالمؓ کا باغ بھی اس طوفان کی زد میں آیا۔ کھجوروں کے درخت گر گئے، نہر کا پانی رک گیا، اور سب کچھ برباد ہو گیا۔
لوگ کہنے لگے:
“سالمؓ کا باغ تو ختم ہو گیا، اب کیا کریں گے؟”
حضرت سالمؓ نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا:
“اے میرے رب! تو نے دیا، تو نے لے لیا۔ الحمد للہ علی کل حال۔”
یہ جملہ ان کے دل کی گہرائیوں سے نکلا۔ وہ مایوس نہیں ہوئے بلکہ مسجد نبوی جا کر شکرانہ کی نماز ادا کی۔
نبی ﷺ کی زیارت (Meeting the Prophet ﷺ)
جب نبی کریم ﷺ کو خبر ملی تو آپ ﷺ نے حضرت سالمؓ کو بلایا۔ فرمایا:
“اے سالم! تم نے اللہ کے فیصلے پر شکر ادا کیا، حالانکہ نقصان ہوا۔ تم جانتے ہو، یہ شکر کی سب سے بڑی صورت ہے۔”
حضرت سالمؓ نے عرض کیا:
“یا رسول اللہ ﷺ، جب میں فاقوں میں صبر کر سکتا تھا، تو خوشحالی میں ناشکری کیسے کر سکتا ہوں؟”
نبی ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تمہارے باغ سے بہتر باغ تمہیں جنت میں عطا فرمائے گا۔”
ایک نیا آغاز (A New Beginning)
چند ہفتوں بعد، مدینہ میں بارش ہوئی۔ اسی رات حضرت سالمؓ نے خواب میں دیکھا کہ ایک نورانی ہاتھ زمین کو چھو رہا ہے اور خشک درخت پھر سے ہرے ہو رہے ہیں۔
صبح وہ باغ پہنچے تو حیران رہ گئے — آندھی سے اجڑے درختوں میں نئی کونپلیں پھوٹ چکی تھیں۔ پانی کی نہر پھر بہنے لگی۔
انہوں نے سجدہ شکر ادا کیا اور کہا:
“اے اللہ! تیری قدرت بے مثال ہے۔ تو اگر چاہے تو خاک میں سے زندگی نکال دیتا ہے۔”
سخاوت کا دریا (The River of Generosity)
اب حضرت سالمؓ کے باغ میں پہلے سے زیادہ پھل آنے لگے۔ وہ ہر ہفتے مدینہ کے فقراء کو بلا کر کھانا کھلاتے۔ ان کے دروازے پر کوئی سائل خالی ہاتھ نہ لوٹتا۔
ایک دن ان کی بیوی نے کہا:
“سالم! تم اتنا سب کچھ بانٹ دیتے ہو، کچھ اپنے لیے بھی رکھ لیا کرو۔”
حضرت سالمؓ نے مسکرا کر جواب دیا:
“فاطمہ! جو شکر ادا کرتا ہے، اللہ اس کا رزق بڑھا دیتا ہے۔ میں دیتا نہیں، بلکہ اپنے رب کا وعدہ پورا کرتا ہوں۔”
نبی ﷺ کی بشارت (Prophet’s Glad Tidings)
ایک دن نبی ﷺ نے مسجد میں فرمایا:
“میری امت میں ایک شخص ہے جسے اللہ نے صبر اور شکر دونوں کے درجے عطا کیے ہیں۔”
صحابہ نے عرض کیا:
“یا رسول اللہ ﷺ! وہ کون ہے؟”
آپ ﷺ نے فرمایا:
“وہ سالمؓ بن حارث ہیں، جنہوں نے تنگی میں صبر اور فراوانی میں شکر کیا۔ اللہ نے ان کے لیے جنت میں ایک باغ تیار کیا ہے جو دنیا کے تمام باغوں سے بہتر ہے۔”
حضرت سالمؓ یہ سن کر رونے لگے۔ وہ عرض کرنے لگے:
“یا رسول اللہ ﷺ! اگر میرا رب راضی ہے تو دنیا کی کوئی خوشی اس کے برابر نہیں۔”
اختتام (Conclusion)
حضرت سالمؓ کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ صبر اور شکر دونوں مومن کی زینت ہیں۔ جب بندہ تنگی میں صبر اور آسانی میں شکر کرتا ہے، تو اللہ اس کے لیے دنیا و آخرت کے دروازے کھول دیتا ہے۔
قرآن میں فرمایا گیا:
“پس تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر ادا کرو، ناشکری نہ کرو۔” (البقرہ: 152)
سبق (Moral Lesson)
- صبر غم میں اللہ پر بھروسہ ہے، شکر خوشی میں اس کی پہچان۔
- جو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، وہ کبھی محروم نہیں رہتا۔
- شکر محض زبان سے نہیں، بلکہ عمل سے ہوتا ہے — دوسروں کی مدد کر کے۔
- صبر انسان کو مضبوط بناتا ہے، شکر اسے اللہ کے قریب کر دیتا ہے۔
“صبر اور شکر، دونوں ہی ایمان کے دو پروں کی مانند ہیں — جو ان پر اڑتا ہے، وہ جنت کی بلندیوں تک پہنچتا ہے۔”