حضرت نوح علیہ السلام – The Story of Prophet Nuh (A.S)

حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک تھے۔ آپ کو سب سے پہلے “اولوالعزم انبیاء” میں شمار کیا جاتا ہے۔ قرآن و حدیث میں آپ کی زندگی، قوم کو دعوت، صبر و استقامت اور اللہ کی نصرت کے کئی پہلو بیان کیے گئے ہیں۔ یہ کہانی نہ صرف ایمان افروز ہے بلکہ انسانیت کے لیے ایک عظیم سبق بھی ہے۔


حضرت نوح علیہ السلام کا تعارف (Introduction of Prophet Nuh A.S)

حضرت نوح علیہ السلام کا اصل نام “نوح” تھا، اور آپ کا تعلق حضرت آدم علیہ السلام کی نسل سے تھا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قوم کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا تاکہ وہ بت پرستی چھوڑ کر ایک اللہ کی عبادت کریں۔


قوم نوح کی حالت (Condition of the People of Nuh)

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے وقت کے ساتھ ساتھ اللہ کی عبادت چھوڑ دی اور بت پرستی میں مبتلا ہو گئی۔ انہوں نے “ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر” نامی بت بنا کر ان کی پوجا شروع کر دی تھی۔ یہی وہ گمراہی تھی جسے درست کرنے کے لیے اللہ نے نوح علیہ السلام کو بھیجا۔

The Story of Prophet Nuh (A.S)


حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت (Call of Prophet Nuh A.S)

حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو تقریباً 950 سال تک اللہ کی طرف بلایا۔ آپ نے دن رات، خفیہ و علانیہ دعوت دی۔ لیکن قوم کے سرداروں اور بڑے لوگوں نے آپ کی دعوت کو ٹھکرایا اور کمزوروں کو بھی آپ سے دور رکھنے کی کوشش کی۔


حضرت نوح علیہ السلام کا صبر اور استقامت (Patience and Perseverance)

950 سال تک لگاتار دعوت دینے کے باوجود قوم کے زیادہ تر لوگ ایمان نہ لائے۔ صرف چند مخلص لوگوں نے آپ کی دعوت قبول کی۔ اس کے باوجود آپ نے ہمت نہ ہاری اور اللہ کے حکم پر عمل کرتے رہے۔


قوم نوح کی ہٹ دھرمی (Stubbornness of the People)

قوم نے حضرت نوح علیہ السلام کا مذاق اڑایا، انہیں جادوگر اور جھوٹا کہا۔ وہ ہرگز اپنی گمراہی سے باز نہ آئے اور اپنے باطل خداؤں کو چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے۔


اللہ کا عذاب اور کشتی نوح (The Ark of Nuh A.S)

جب قوم کی ہٹ دھرمی حد سے بڑھ گئی تو اللہ نے حضرت نوح علیہ السلام کو ایک بڑی کشتی بنانے کا حکم دیا۔ آپ نے اللہ کے حکم کے مطابق ایک عظیم کشتی تیار کی۔ جب اللہ کا عذاب آیا تو آسمان سے بارش برسی اور زمین سے چشمے ابل پڑے۔ ہر طرف پانی ہی پانی ہو گیا۔


ایمان والوں کی نجات (Salvation of the Believers)

حضرت نوح علیہ السلام نے ایمان والوں اور جانوروں کے جوڑے کشتی میں سوار کیے۔ طوفان آیا اور کافروں کو غرق کر دیا گیا۔ ایمان والے اللہ کے حکم سے بچ گئے اور کشتی کوہِ جودی پر ٹھہر گئی۔


حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا (The Son of Nuh A.S)

قرآن میں ذکر ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کا ایک بیٹا کافروں میں شامل تھا۔ نوح علیہ السلام نے اسے کشتی پر سوار ہونے کی دعوت دی مگر اس نے انکار کیا اور پہاڑ کی طرف بھاگا۔ بالآخر وہ طوفان میں غرق ہو گیا۔


حضرت نوح علیہ السلام کی دعا (Supplication of Prophet Nuh A.S)

حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی کہ زمین پر کسی کافر کو باقی نہ چھوڑا جائے۔ اللہ نے ان کی دعا قبول کی اور زمین کو کافروں سے پاک کر دیا۔


حضرت نوح علیہ السلام کے اسباق (Lessons from the Story of Nuh A.S)

  1. صبر و استقامت انسان کو کامیاب بناتے ہیں۔

  2. حق کی دعوت طویل عرصے تک بھی دی جائے تو اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہوتی۔

  3. کفر و سرکشی کا انجام ہمیشہ تباہی ہے۔

  4. اللہ اپنے مخلص بندوں کو ہمیشہ نجات دیتا ہے۔

  5. والدین کی نیکی بھی نافرمان اولاد کو نہیں بچا سکتی۔

The Story of Prophet Nuh (A.S)


قرآن میں حضرت نوح علیہ السلام (Prophet Nuh in the Quran)

حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر قرآن پاک میں متعدد مقامات پر آیا ہے:

  • سورہ ہود

  • سورہ نوح

  • سورہ مؤمنون

  • سورہ شعراء


اضافی معلومات (Extra Information)

  • حضرت نوح علیہ السلام کو “آدم ثانی” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ طوفان کے بعد دنیا میں نسل نوح ہی باقی رہی۔

  • ان کی کشتی کو سب سے بڑی معجزاتی نشانی مانا جاتا ہے۔

  • آپ کی دعوت سے ہمیں دعوتِ دین کے اصول سمجھنے کو ملتے ہیں۔


FAQs (اکثر پوچھے جانے والے سوالات)

سوال 1: حضرت نوح علیہ السلام نے کتنے سال دعوت دی؟
جواب: تقریباً 950 سال۔

سوال 2: حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کہاں ٹھہری؟
جواب: کوہِ جودی پر۔

سوال 3: کیا حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا بچ گیا تھا؟
جواب: نہیں، وہ کافروں میں شامل تھا اور طوفان میں غرق ہوا۔

سوال 4: حضرت نوح علیہ السلام کو کس لقب سے یاد کیا جاتا ہے؟
جواب: “آدم ثانی” کے لقب سے۔

سوال 5: طوفان نوح کیوں آیا تھا؟
جواب: کفر و شرک اور انکارِ حق کی وجہ سے۔


نتیجہ (Conclusion)

حضرت نوح علیہ السلام کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صبر، استقامت اور ایمان کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ آپ کی قوم نے اللہ کے پیغام کو ٹھکرایا اور تباہ ہو گئی، مگر ایمان والوں کو نجات ملی۔ یہ واقعہ ہر انسان کو یاد دلاتا ہے کہ حق کو ماننا ہی کامیابی ہے۔

Leave a Comment