The Reward
توکل یعنی اللہ پر مکمل بھروسہ، ایمان کا وہ درجہ ہے جس میں بندہ اپنے سارے معاملات اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔
یہ یقین رکھتا ہے کہ جو کچھ ہوگا، وہ اللہ کے حکم سے ہی ہوگا، اور وہی بندے کے لیے بہتر فیصلہ کرتا ہے۔
.آپ پڑھ سکتے ہیں
ابتدا – ایک غریب صحابی کی آزمائش (The Beginning – A Poor Companion’s Trial)
مدینہ منورہ کا وہ وقت جب مسلمان سخت حالات سے گزر رہے تھے۔ غربت عام تھی، مگر ایمان مضبوط۔
اسی دور میں ایک نیک صحابی، حضرت سلیمؓ بن عمر، اپنی دیانت، صبر اور توکل کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔
ان کا گھر بہت سادہ تھا۔ روزی کا کوئی خاص ذریعہ نہ تھا۔
ایک دن ان کی بیوی فاطمہؓ نے کہا:
“سلیم! بچوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں، گھر میں آٹا ختم ہو چکا ہے۔”
حضرت سلیمؓ کے دل پر بوجھ سا آ گیا، مگر لبوں پر صرف ایک بات تھی:
“اللہ رازق ہے، وہی سب کا خیال رکھتا ہے۔ میں آج بازار جا کر محنت کرتا ہوں۔”
وہ کھجوروں کی ٹوکری اٹھا کر بازار نکلے۔ دن بھر دھوپ میں کھڑے رہے مگر کوئی خریدار نہ آیا۔
جب شام ہوئی تو خالی ہاتھ واپس لوٹے۔ بچے سو چکے تھے، مگر فاطمہؓ جاگ رہی تھیں۔
انہوں نے نرمی سے کہا:
“اللہ پر بھروسہ رکھو فاطمہ، رزق کے دروازے وہی کھولے گا۔ میں کل پھر کوشش کروں گا۔”
اللہ کی آزمائش اور بندے کا صبر (Allah’s Test and the Servant’s Patience)

اگلے دن حضرت سلیمؓ نے ایک تاجر سے مزدوری مانگی۔ تاجر نے کہا:
“میرے لیے ایک اونٹ قافلے تک پہنچا دو، اجرت راستے میں دوں گا۔”
حضرت سلیمؓ نے کہا: “ان شاء اللہ، میں اللہ پر بھروسہ رکھتا ہوں۔”
راستہ لمبا اور گرم تھا۔ وہ تنہا اونٹ لیے سفر کرتے رہے۔ اچانک ایک وادی میں اونٹ گر پڑا۔
اس کے ساتھ کھانا، پانی، اور اجرت سب ضائع ہوگئی۔
انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور آنسوؤں کے ساتھ کہا:
“اے میرے رب! میں جانتا ہوں تو مجھے آزماتا ہے، مگر تیرا شکر ہے کہ تو میرے ساتھ ہے۔”
انہوں نے تھک کر ایک درخت کے نیچے سجدہ کیا اور سو گئے۔
رحمت کا ظہور (The Appearance of Mercy)
صبح آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ایک قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا۔
قافلے کے سردار نے پوچھا:
“اے شخص! تم یہاں کیسے؟”
حضرت سلیمؓ نے ساری بات سنا دی۔ سردار نے کہا:
“سبحان اللہ! میں کل رات خواب میں دیکھا کہ ایک بندہ اس وادی میں اللہ پر توکل کر کے سویا ہے، اور اللہ نے کہا: ‘اس کی مدد کرو!’”
اس نے فوراً حضرت سلیمؓ کو کھانا، پانی، اور تین دینار دیے۔
پھر کہا: “میرے ساتھ مدینہ چلنا، مجھے ایسے ہی ایمان والے ساتھیوں کی تلاش ہے۔”
نبی ﷺ کی خوشخبری (Prophet ﷺ’s Glad Tidings)

مدینہ واپس پہنچ کر حضرت سلیمؓ سیدھے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
انہوں نے ساری بات سنائی۔
نبی ﷺ نے مسکرا کر فرمایا:
“جس نے اللہ پر توکل کیا، اللہ اس کے لیے ایسے راستے کھول دیتا ہے جن کا وہ گمان بھی نہیں کرتا۔”
پھر فرمایا:
“اے سلیم! اللہ نے تجھے دنیا میں عزت دی، اور آخرت میں تجھے صابرین میں اٹھائے گا۔”
آخری لمحات اور ایمان کی روشنی (Final Moments and the Light of Faith)
برسوں بعد جب حضرت سلیمؓ بیمار ہوئے، ان کے چہرے پر سکون تھا۔
انہوں نے بیٹے سے کہا:
“بیٹے! زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ دل سے توکل کرو۔
جب دنیا کے سہارے ٹوٹ جائیں، اللہ کے دروازے کھلتے ہیں۔”
پھر مسکرا کر کلمہ پڑھا اور اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔
سبق (Lesson)
اللہ پر بھروسہ کبھی ضائع نہیں جاتا۔
توکل صرف دعا نہیں، بلکہ یقین ہے کہ اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔
جب انسان سب کچھ چھوڑ کر اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، تو اللہ اسے وہ دیتا ہے جو وہ سوچ بھی نہیں سکتا۔
“وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهُ”
“اور جو اللہ پر بھروسہ کرے، وہی اس کے لیے کافی ہے۔” (الطلاق: 3)