دنیا میں ہر انسان کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں — نیکی کا اور بدی کا۔ نیکی وہ عمل ہے جو اللہ کی رضا کے لیے جبکہ بدی وہ ہے جو انسان کو غرور، ظلم اور گناہ کی طرف لے جائے۔
اسلام نے ہمیں سکھایا ہے کہ نیکی کا انجام ہمیشہ بھلائی اور عزت میں ہوتا ہے، اور بدی کا نتیجہ نقصان اور رسوائی میں۔ اسی حقیقت کو سمجھانے کے لیے ایک سبق آموز کہانی پیش کی جاتی ہے۔
.آپ پڑھ سکتے ہیں
کہانی کا آغاز (Beginning of the Story)
ایک خوبصورت گاؤں تھا، جہاں سب لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ اسی گاؤں میں دو دوست رہتے تھے — احمد اور کریم۔
احمد ایک نیک، صابر، اور شکر گزار شخص تھا۔ وہ ہمیشہ نماز پڑھتا، روزہ رکھتا، اور غریبوں کی مدد کرتا۔
کریم کے پاس بہت دولت تھی، مگر وہ مغرور، خود پسند، اور بد اخلاق تھا۔ اسے لگتا تھا کہ دنیا میں صرف مال و دولت ہی انسان کی اصل پہچان ہے۔
نیکی کی پہچان (Understanding Goodness)
احمد کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی۔ وہ جب کسی کو پریشان دیکھتا تو مدد کے لیے آگے بڑھتا۔
وہ کہتا:
“نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔ اگر ہم کسی کی مدد کریں، تو اللہ اس کا بدلہ ضرور دیتا ہے۔”
اس کے برعکس کریم کہتا:
“دنیا میں عزت صرف امیروں کی ہے۔ غریب آدمی کی نیکی سے کوئی فرق نہیں پڑتا!”
یہی سوچ دونوں کی زندگی میں بڑا فرق پیدا کرنے والی تھی۔

غرور کی شروعات (The Beginning of Arrogance)
کریم کا غرور دن بدن بڑھتا گیا۔ وہ مسجد میں کم آتا، اور دوسروں کو حقیر سمجھنے لگا۔
جبکہ احمد ہر روز سجدے میں جھک کر اللہ کا شکر ادا کرتا۔
لوگ احمد کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے اور کریم سے گریز کرتے، کیونکہ کریم کا دل سخت اور زبان تلخ تھی۔
آزمائش کا وقت (Time of Test)
ایک دن گاؤں میں قحط پڑ گیا۔ فصلیں سوکھ گئیں، پانی کے چشمے خشک ہو گئے۔
احمد کے پاس کھانے کے لیے تھوڑا سا اناج تھا، لیکن اس نے وہ بھی غریبوں میں بانٹ دیا۔
کریم کے پاس گودام بھرے ہوئے تھے، مگر اس نے کسی کو ایک دانہ بھی نہ دیا۔
احمد نے صبر کیا اور اللہ سے دعا مانگی:
“اے اللہ! تُو رازق ہے، تُو ہی مدد فرما۔”
کریم نے غرور سے کہا:
“میں اپنے مال سے سب کچھ سنبھال لوں گا، مجھے کسی خدا کی مدد کی ضرورت نہیں۔”
آزمائش کی شدت (The Severity of the Test)
قحط کے دن طویل ہوتے جا رہے تھے۔ زمین میں دراڑیں پڑ گئیں، درخت سوکھ گئے، اور لوگ بھوک سے نڈھال ہونے لگے۔
احمد کے پاس کچھ بھی باقی نہ رہا۔ اس نے اپنے گھر میں جو تھوڑا سا آٹا بچا تھا، وہ بھی ایک یتیم بچے کو دے دیا۔
رات کو وہ خالی پیٹ سونے لگا، مگر اس کے دل میں سکون تھا کیونکہ اس نے اللہ کے لیے قربانی دی تھی۔
دوسری طرف، کریم اپنے مال پر ناز کر رہا تھا۔ اس کے گودام بھرے ہوئے تھے، لیکن اس نے کسی کو ایک دانہ تک نہ دیا۔
لوگ اس کے دروازے پر آتے، وہ انہیں دھتکار دیتا اور کہتا:
“میرا مال میں نے محنت سے کمایا ہے، کوئی مفت میں کیوں لے؟”

دعا کی قبولیت (Acceptance of Supplication)
احمد نے ایک رات سجدے میں گر کر روتے ہوئے دعا کی:
“اے میرے رب! میں نے تیرے نام پر سب کچھ دے دیا، اب تو ہی مدد فرما۔”
اللہ نے اپنے نیک بندے کی دعا سن لی۔
اچانک اگلی صبح آسمان پر بادل چھا گئے، بارش برسی، اور احمد کے گھر کے قریب سے ایک نیا چشمہ پھوٹ پڑا۔
لوگ حیران رہ گئے۔ سب سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی رحمت ہے جو نیک لوگوں پر نازل ہوتی ہے۔
غرور کا انجام (The End of Arrogance)
کریم نے یہ سب دیکھا مگر پھر بھی اس کا دل نرم نہ ہوا۔
وہ کہنے لگا:
“یہ سب اتفاق ہے، میرا مال تو اب بھی محفوظ ہے۔”
مگر اللہ کے حکم سے ایک آندھی چلی۔
کریم کے گوداموں میں آگ لگ گئی، اور سارا مال جل کر راکھ بن گیا۔
اب وہ نہ دوسروں کی مدد کر سکا، نہ خود کو سنبھال سکا۔
وہ چیخ اٹھا:
“کاش میں احمد کی طرح نیکی کرتا، غرور نہ کرتا!”
ایمان کی طاقت (The Power of Faith)
احمد نے جب کریم کو پریشان دیکھا، تو اس کے پاس گیا۔
اس نے کہا:
“بھائی، اللہ رحم کرنے والا ہے۔ توبہ کر لو، وہ تمہیں معاف کر دے گا۔”
کریم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اس نے ندامت سے کہا:
“میں نے ساری زندگی دنیا کے پیچھے بھاگتے گزار دی، مگر اصل دولت ایمان ہے۔”
یہ سن کر احمد نے اسے گلے لگا لیا اور کہا:
“اللہ کے در پر دیر ضرور ہو سکتی ہے، مگر اندھیرا نہیں رہتا۔”
قرآن سے سبق (Lessons from the Holy Quran)
قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
“إِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ”
“بے شک اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔” (سورہ النحل: 23)
اور ایک اور مقام پر فرمایا گیا:
“وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ”
“اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔” (سورہ آل عمران: 134)
یہ آیات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ اللہ کی رحمت ان لوگوں پر ہوتی ہے جو عاجزی، صبر، اور نیکی کے راستے پر چلتے ہیں۔