🌅 امید کی کرن _The Ray of Hope

The Ray of Hope

مدینہ سے کچھ میل دور، ایک چھوٹا سا قصبہ تھا — خاموش، پر سکون، مگر زندگی کی مشکلات سے بھرا ہوا۔ اس قصبے میں ایک عام مزدور رہتا تھا، جس کا نام سلیم بن عارف تھا۔

سلیم کی زندگی کسی کہانی کی طرح نہیں تھی، بلکہ ایک مسلسل جدوجہد کا سفر تھی۔ صبح فجر کی اذان کے ساتھ اٹھنا، نماز پڑھنا، اور پھر مزدوری کے لیے نکل جانا — یہی اس کا معمول تھا۔

اس کی بیوی زینب ایک صابر اور حوصلہ مند عورت تھی۔ ان کے دو بچے تھے — بلال، جو دس سال کا تھا، اور مریم، جو ابھی صرف چھ سال کی تھی۔ غربت کے باوجود، ان کا گھر سکون، محبت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا۔

مگر پچھلے کچھ ہفتوں سے حالات بدل گئے تھے۔ قحط نے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ کام بند ہو گئے تھے، کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہو چکی تھیں، اور لوگوں کے چہروں پر امید کی جگہ مایوسی چھا گئی تھی۔

سلیم کے گھر میں بھی فاقے ہونے لگے۔ مگر وہ ہر دن ایک نئی دعا کے ساتھ نکلتا، اور ہر رات امید کے ساتھ سو جاتا۔

آپ پڑھ سکتے ہیں

سچائی کا چراغ

توکل کا انعام

صبر کا انعام, part 1

شکر کا امتحان, part 2

دعا کی طاقت, part 3


پریشانی کا طوفان (The Storm of Hardship)

ایک دن صبح زینب نے آہستہ سے کہا،
“سلیم، گھر میں کچھ بھی نہیں بچا۔ بچوں نے کل رات پانی پی کر نیند کی۔”

سلیم کے دل پر خنجر سا چلا۔ مگر اس نے چہرے پر مسکراہٹ رکھی، بچوں کو سینے سے لگایا اور کہا،
“بیٹا بلال، مریم، دعا کرو۔ اللہ کبھی اپنے بندوں کو بھوکا نہیں رکھتا۔”

وہ جیب میں پڑے آخری چند سکے لے کر بازار کی طرف نکلا۔ بازار میں ہجوم کم تھا۔ دکانداروں کے چہرے بھی پریشانی سے بھرے ہوئے تھے۔ کسی کے پاس اناج نہیں، کسی کے پاس خریدار نہیں۔

سلیم ہر دکان پر گیا، ہر جگہ پوچھا، مگر کسی نے مزدوری نہ دی۔ تھکا ہارا وہ شہر کے باہر ایک درخت کے نیچے آ کر بیٹھ گیا۔ اس کے آنسو چپکے چپکے رخساروں پر بہہ رہے تھے۔

اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ کہا،
“یا اللہ، میں نے ہمیشہ تیرے فیصلوں پر صبر کیا۔ مگر اب میری ہمت ٹوٹنے لگی ہے۔ پھر بھی، میں جانتا ہوں، تو میری امید ہے۔”


ایک اجنبی کی دعائے خیر (A Stranger’s Blessing)

The Ray of Hope

اسی لمحے ایک بوڑھا مسافر وہاں سے گزرا۔ اس کے کندھے پر تھیلا، ہاتھ میں چھڑی، اور چہرے پر سکون کی جھلک تھی۔

اس نے سلیم کو دیکھا اور پوچھا:
“بیٹا، تم کیوں پریشان بیٹھے ہو؟”

سلیم نے اپنا حال سادہ الفاظ میں سنایا۔ بوڑھے نے خاموشی سے سنا، پھر مسکرا کر کہا:
“اللہ سے امید رکھنے والا کبھی خالی نہیں رہتا۔ میں تمہیں ایک بات بتاؤں؟ امید صرف دعا نہیں، ایمان کی بنیاد ہے۔”

پھر اس نے اپنے تھیلے سے ایک چھوٹی سی روٹی نکالی، اور کہا:
“یہ لے لو، اس سے پیٹ تو نہیں بھرے گا، مگر دل میں حوصلہ آئے گا۔”

سلیم نے آنکھوں میں آنسو لیے کہا:
“حضرت، میں صدقہ نہیں لوں گا۔ بس میرے لیے دعا کیجیے کہ اللہ مجھے رزقِ حلال دے۔”

بوڑھے نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا:
“بیٹا، جب دل کا یقین پختہ ہو جائے، تو رزق خود چل کر آتا ہے۔ تمہاری دعا قبول ہوگی۔”

یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا۔ سلیم نے اس کی بات دل میں بٹھا لی۔


دعا اور یقین (The Prayer and Faith)

رات کو سلیم نے وضو کیا، بچوں کے سوتے چہرے دیکھے، اور سجدے میں گر گیا۔

“یا اللہ، تو گواہ ہے، میں نے کبھی شکایت نہیں کی۔ میں تیرے فیصلوں سے راضی ہوں، مگر میرے بچوں کے چہروں کی معصوم بھوک میرے دل کو چیرتی ہے۔ یا رب، مجھے ہمت دے، مجھے راستہ دکھا۔”

اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک ٹپک کر جائے نماز کو تر کر رہے تھے۔ مگر دل کے اندر ایک روشنی تھی — امید کی روشنی۔


نئی صبح، نیا سفر (A New Morning, A New Path)

اگلی صبح جب سورج نکلا، تو سلیم حسبِ معمول بازار جانے لگا۔ مگر آج اس کے دل میں ایک عجیب سا یقین تھا — جیسے کوئی اندر سے کہہ رہا ہو، “جا، اللہ نے تیرے لیے راستہ بنا دیا ہے۔”

وہ راستے میں ہی تھا کہ ایک قافلہ گزرا۔ قافلے کے سردار نے آواز دی:
“اے نوجوان! کیا تم مزدوری کر سکتے ہو؟ ہمیں ایک ایماندار شخص چاہیے جو ہمارے مال کی نگرانی کرے۔”

سلیم کا دل دھڑکنے لگا۔
“جی ہاں! میں ایمانداری سے کام کروں گا۔”

قافلے کے سردار نے کہا،
“ہمارا سفر تین دن کا ہے۔ اگر تم ثابت قدم رہے تو تمہیں انعام کے ساتھ مزدوری بھی ملے گی۔”

سلیم نے فوراً حامی بھری۔


امتحان کی گھڑی (The Test of Faith)

سفر طویل تھا۔ گرمی شدید، مگر سلیم نے ہمت نہ ہاری۔ راستے میں جب دوسرے مزدور سائے میں آرام کرتے، وہ قافلے کے اونٹوں کی حفاظت میں لگا رہتا۔

ایک رات قافلے کے سامان میں سے کچھ سونا غائب ہوگیا۔ لوگ گھبرا گئے۔ شک سلیم پر آیا، کیونکہ وہ اکیلا جاگ رہا تھا۔

سردار نے پوچھا، “کیا تم نے کچھ دیکھا؟”

سلیم نے calmly کہا،
“میں نے کچھ نہیں کیا، مگر اللہ جانتا ہے کہ میں بے قصور ہوں۔”

سردار نے کہا، “ہم صبح تک دیکھتے ہیں۔ اگر سونا نہ ملا تو تمہیں سزا ملے گی۔”

وہ رات سلیم کے لیے قیامت کی رات تھی۔ مگر اس نے اللہ سے کہا:
“یا رب، میں تیرے سپرد کرتا ہوں۔ تو جانتا ہے میں سچا ہوں۔”

صبح ہوئی تو قافلے کے ایک خیمے سے وہ سونا برآمد ہوگیا۔ وہ ایک دوسرا مزدور چُرا کر چھپایا تھا۔ سردار نے سب کے سامنے سلیم سے معافی مانگی۔

“میں نے تم پر شک کیا، مگر تم نے صبر کیا۔ تمہاری امید اور سچائی نے تمہیں عزت دی ہے۔”


انعام اور سکون (The Reward and Peace)

قافلے کے اختتام پر سردار نے سلیم کو ایک تھیلی دی۔
“یہ تمہاری مزدوری نہیں، تمہارے صبر اور امید کا صلہ ہے۔”

جب سلیم نے تھیلی کھولی تو سونے کے سکے چمک رہے تھے۔ وہ روتے ہوئے بولا،
“یا اللہ، تو نے میری دعائیں سن لیں۔”

وہ خوشی سے گھر پہنچا۔ زینب اور بچے حیران رہ گئے۔ سلیم نے کہا:
“یہ رزق نہیں، اللہ کا وعدہ ہے۔ اگر امید قائم رکھو، تو ہر در بند ہونے کے بعد بھی ایک نیا در کھلتا ہے۔”


خوشحال زندگی (A Life of Gratitude)

The Ray of Hope

کچھ مہینوں بعد سلیم نے ان پیسوں سے ایک چھوٹی دکان کھول لی۔ اب وہ خود غریبوں کی مدد کرتا تھا۔ ہر شام دکان کے باہر کھانا رکھ دیتا، تاکہ کوئی بھوکا نہ سوئے۔

ایک دن ایک فقیر وہاں آیا۔ سلیم نے اسے کھانا دیا، بات کی تو وہی بوڑھا مسافر نکلا، جس نے پہلے دن اسے دعا دی تھی۔

بوڑھا مسکرایا، “میں نے کہا تھا نا، امید کبھی خالی نہیں جاتی۔ دیکھو، آج تم دوسروں کے لیے امید بن گئے ہو۔”

سلیم کی آنکھوں سے آنسو بہہ گئے۔
“حضرت، یہ سب اللہ کا کرم ہے۔ میں نے صرف یقین رکھا — اور وہی یقین میری زندگی بدل گیا۔”


اختتام (Ending)

سلیم کی کہانی گاؤں کے بچوں کے لیے مثال بن گئی۔ لوگ کہا کرتے تھے،
“جب بھی مایوسی آئے، سلیم بن عارف کو یاد کرو۔ جس نے فاقوں میں بھی امید کا دامن نہ چھوڑا۔”

اس کی قبر کے کتبے پر صرف ایک جملہ لکھا تھا:
“امید رکھنے والا کبھی ہارا نہیں کرتا۔”


سبق (Moral Lesson)

🌙 “امید ایمان کی سانس ہے۔ جب سب دروازے بند ہو جائیں، تب بھی اللہ کا در کبھی بند نہیں ہوتا۔”
🌙 “Hope is the heartbeat of faith — when the world turns away, Allah still listens.”

Leave a Comment