🕌 درگزر کی طاقت_The Power of Forgiveness


سالم کی غلامی اور آزمائش (The Captivity and Trial of Salim)

مدینہ منورہ کے مبارک شہر میں ایک نوجوان غلام سالم رہتا تھا۔ وہ ایمان، صبر، اور نیکی کا پیکر تھا۔ سالم ایک ایسے قبیلے سے تعلق رکھتا تھا جو جنگ کے دوران قید کر لیا گیا تھا، اور وہ ایک سخت مزاج تاجر حارث بن ولید کے غلام کے طور پر مدینہ لایا گیا۔

سالم کے دن مزدوری میں اور راتیں عبادت میں گزرتیں۔ وہ اکثر تنہائی میں دعا کرتا:

“اے میرے رب! مجھے آزادی عطا فرما تاکہ میں تیرے دین کی خدمت کر سکوں۔”

.آپ پڑھ سکتے ہیں

نیکی اور بدی کا انجام

توکل کا انعام

حارث اسے سخت محنت کرواتا، کبھی کبھی معمولی غلطی پر مارتا، مگر سالم کے چہرے پر ہمیشہ صبر کی روشنی رہتی۔ اس کے دل میں نفرت نہیں بلکہ اللہ کی رضا کی امید تھی۔


ظلم کی انتہا (The Height of Cruelty)

ایک دن بازار میں حارث کا ایک اونٹ بھاگ گیا، جس سے اس کا قیمتی سامان ضائع ہوگیا۔ حارث نے بغیر تحقیق کے سالم پر الزام لگا دیا۔

غصے میں آکر اس نے سالم کو سب کے سامنے مارا اور کئی دنوں تک بھوکا رکھا۔ لوگوں نے دیکھا مگر کوئی بول نہ سکا۔ سالم کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر لبوں پر صبر کے الفاظ:

“اللہ بہتر جانتا ہے کہ میں بےقصور ہوں۔”

یہ ظلم سالم کے جسم کو تو زخمی کر گیا، مگر اس کے دل کی روشنی بجھا نہ سکا۔ اس کے اندر ایک ایمان کی چنگاری جلتی رہی — درگزر کی طاقت کی چنگاری۔


آزادی کی نعمت (The Gift of Freedom)

کچھ دن بعد، مشہور صحابی حضرت عبداللہ بن عمرؓ بازار سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے سالم کو دیکھا، اس کے چہرے پر زخم اور آنکھوں میں تھکن۔

انہوں نے پوچھا، “یہ غلام کون ہے؟”
حارث نے کہا، “میرا غلام ہے، مگر سست اور نالائق۔”

حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا:

“میں اسے خریدنا چاہتا ہوں۔”

سودا طے ہوا، اور سالم آزاد کر دیا گیا۔

جیسے ہی سالم کو آزادی ملی، وہ سیدھا مسجدِ نبوی ﷺ گیا، سجدے میں گر کر رو پڑا، اور کہا:

“اے اللہ! میں اس شخص کو معاف کرتا ہوں جس نے مجھ پر ظلم کیا۔ کیونکہ تو بھی تو اپنے بندوں کو معاف کرتا ہے۔”


درگزر کا پہلا انعام (The First Reward of Forgiveness)

وقت گزرتا گیا۔ مدینہ میں قحط پڑ گیا۔ حارث کا سارا مال و دولت ختم ہو گیا۔ وہ مجبور ہو کر بھوک سے نڈھال گلیوں میں پھرنے لگا۔

ایک دن مسجد کے قریب بیٹھا وہ پیاس سے تڑپ رہا تھا۔ ایک شخص اس کے قریب آیا اور پانی کا مشکیزہ پیش کیا۔
جب حارث نے سر اٹھایا — تو وہ سالم تھا!

حارث کی آنکھیں شرمندگی سے جھک گئیں۔
اس نے لرزتی آواز میں کہا:

“سالم… میں نے تم پر ظلم کیا، تم مجھے پانی کیوں دے رہے ہو؟”

سالم نے مسکرا کر جواب دیا:

“میں نے تمہیں اسی دن معاف کر دیا تھا، جس دن تم نے مجھ پر ظلم کیا تھا۔ کیونکہ میرے نبی ﷺ نے فرمایا:
‘جو کسی کو معاف کرتا ہے، اللہ اس کا مرتبہ بلند کرتا ہے۔’

حارث کے آنسو بہنے لگے۔ وہ بولا:

“سالم، تم جیسے لوگ ہی اصل مومن ہیں۔”


توبہ اور ایمان کی روشنی (Repentance and the Light of Faith)

اسی رات حارث نے نیند میں کئی سوالوں کا سامنا کیا۔
“میں نے ظلم کیا، مگر اس نے نیکی سے جواب دیا… اگر یہ دین انسان کو ایسی نرمی سکھاتا ہے تو یقیناً یہ سچا دین ہے۔”

اگلی صبح وہ مسجد نبوی ﷺ گیا، نبی اکرم ﷺ کے سامنے بیٹھا، اور اسلام قبول کر لیا۔

نبی ﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا:

“جس نے تمہیں معاف کیا، اللہ اس پر بھی رحم فرمائے۔”

یوں ایک غلام کے درگزر نے ایک ظالم تاجر کے دل کو بدل دیا۔


بھائی چارہ اور ایمان کی مضبوطی (Brotherhood and Strength of Faith)

اسلام قبول کرنے کے بعد حارث اور سالم ایک دوسرے کے حقیقی بھائیوں کی طرح بن گئے۔
حارث تجارت کرتا اور سالم دین سکھاتا۔ دونوں کی مثال پورے مدینہ میں دی جانے لگی۔

لوگ کہتے:

“دیکھو، یہ وہی سالم ہے جس نے اپنے ظالم کو معاف کیا — اور اس کے اخلاق نے اسے مومن بنا دیا۔”

مدینہ کی گلیوں میں ان کی نیکیوں کی خوشبو پھیلنے لگی۔ جہاں کبھی نفرت تھی، اب وہاں محبت، ایمان، اور بھائی چارہ تھا۔


نئی آزمائش (A New Trial)

کئی سال گزر گئے۔ سالم اب مدینہ کے باہر ایک بستی میں قرآن پڑھانے لگا۔
ایک دن کچھ ڈاکو اس بستی پر حملہ آور ہوئے۔ سالم نے بچوں اور عورتوں کو محفوظ جگہ پہنچایا مگر خود قیدی بن گیا۔

جب ڈاکوؤں کا سردار آیا — تو وہ عکرمہ تھا، وہی شخص جو جاہلیت میں حارث کا دشمن تھا۔

عکرمہ نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا:

“تو وہی سالم ہے جو درگزر کی باتیں کرتا ہے؟ دیکھیں اب تجھے کون بچاتا ہے!”

سالم نے زخمی حالت میں مسکرا کر کہا:

“میں تمہیں بھی معاف کرتا ہوں۔ کیونکہ میں اپنے نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرتا ہوں، جنہوں نے مکہ کے فتح کے دن اپنے دشمنوں کو معاف کر دیا تھا۔”


دل کی تبدیلی (Transformation of the Heart)

یہ الفاظ عکرمہ کے دل میں بجلی بن کر گرے۔
وہ کچھ لمحے خاموش رہا، پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اس نے کہا:

“تمہارا دین کیسا عجیب ہے… تمہارے نبی نے اپنے دشمنوں کو معاف کیا، اور تم نے اپنے قاتل کو بھی؟”

سالم نے نرمی سے کہا:

“ہاں، کیونکہ معافی وہ روشنی ہے جو اندھیرے دلوں کو جگمگا دیتی ہے۔”

عکرمہ نے فوراً اپنے قیدی آزاد کیے اور کہا:

“میں گواہی دیتا ہوں کہ تمہارا رب سچا ہے، اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں۔”

یوں سالم کا درگزر ایک اور دل کو ایمان کی روشنی دے گیا۔


درگزر کا معجزہ (The Miracle of Forgiveness)

عکرمہ اسلام قبول کرنے کے بعد سالم کا شاگرد بن گیا۔ وہ اکثر کہتا:

“میں نے زندگی میں تلوار سے کئی لوگوں کو شکست دی، مگر سالم کے اخلاق نے مجھے ہرا دیا۔”

مدینہ واپس آ کر نبی ﷺ کو جب اس واقعہ کی خبر ملی تو آپ ﷺ نے فرمایا:

“درگزر کرو، جیسا تم چاہتے ہو کہ اللہ تمہیں معاف کرے۔”

یہ الفاظ مدینہ کے ہر ایمان والے کے دل میں نقش ہو گئے۔


سالم کا آخری وقت (The Final Moments of Salim)

کچھ سال بعد سالم بیمار پڑ گیا۔ مدینہ کے لوگ اس کے گرد جمع ہوئے۔ حارث اور عکرمہ دونوں اس کے قریب بیٹھے۔

سالم نے کمزور آواز میں کہا:

“اگر میں نے کبھی تمہیں دکھ دیا ہو تو مجھے معاف کر دینا۔”

حارث کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ بولا:

“سالم! ہمیں معافی تم سے نہیں بلکہ تمہارے اخلاق سے ملی ہے۔”

سالم نے آخری سانس لیتے ہوئے کہا:

“درگزر وہ دروازہ ہے جو جنت کی طرف کھلتا ہے۔”

یوں وہ لبوں پر مسکراہٹ اور دل میں ایمان کی روشنی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو گیا۔


درگزر کی برکتیں (The Blessings of Forgiveness)

سالم کے بعد اس کے شاگردوں نے اس کا پیغام پھیلایا۔
مدینہ میں کہا جانے لگا:

“اگر تمہیں درگزر کی مثال دیکھنی ہو تو سالم کو یاد کرو۔”

حارث اور عکرمہ نے اپنی باقی زندگی دین کی خدمت میں گزاری۔ وہ لوگوں سے کہتے:

“ہم پر ایک غلام نے احسان کیا — اس نے ہمیں معاف کر کے ہمیں زندگی دی۔”


قرآن کی روشنی میں درگزر (Forgiveness in the Light of the Qur’an)

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“اور جو صبر کرے اور درگزر کرے، تو یقیناً یہ بڑے ہمت والے کاموں میں سے ہے۔”
(سورۃ الشوریٰ: 43)

ایک اور مقام پر فرمایا:

“اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہو سکتی۔ برائی کو اس بھلائی سے دفع کرو جو سب سے بہتر ہو، پھر جس سے تمہاری دشمنی ہے وہ تمہارا گہرا دوست بن جائے گا۔”
(سورۃ حٰم السجدہ: 34)

یہی سالم کی زندگی کا خلاصہ تھا — برائی کے جواب میں بھلائی، اور ظلم کے بدلے میں درگزر۔


نتیجہ (Moral of the Story)

  • درگزر کمزوری نہیں، بلکہ ایمان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
  • جو دوسروں کو معاف کرتا ہے، اللہ اس کے گناہوں کو معاف کرتا ہے۔
  • انتقام وقتی سکون دیتا ہے، مگر معافی دلوں کو بدل دیتی ہے۔
  • درگزر وہ روشنی ہے جو دشمنوں کو دوست اور ظالموں کو مومن بنا دیتی ہے۔

خلاصہ (Summary)

یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصل طاقت تلوار میں نہیں، بلکہ دل کی نرمی میں ہے۔
اسلام کا پیغام محبت، صبر، اور معافی ہے۔
سالم کی زندگی اس بات کی روشن دلیل ہے کہ درگزر کی طاقت دلوں کو بدل سکتی ہے، اور دشمن کو بھائی بنا سکتی ہے۔

Leave a Comment