مدینہ کی بستی اور ایک نوجوان (The City of Madinah and a Young Man)
مدینہ منورہ کی بستی میں سورج کی کرنیں مسجد نبوی ﷺ کے میناروں پر چمک رہی تھیں۔ فضا میں ایمان اور سکون کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ نبی اکرم ﷺ کی صحبت سے دل روشن تھے، اور ہر شخص نیکی، ایمان اور صداقت کی راہوں پر گامزن تھا۔
اسی بستی میں ایک نوجوان عمار بن اوس رہتا تھا۔ وہ ایک نیک دل مگر غریب نوجوان تھا، جو اپنی ماں کے ساتھ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتا تھا۔ اس کا چہرہ نورانی تھا، مگر دل میں ایک مسلسل خوف چھپا ہوا تھا — “اگر میں کبھی سچ بولوں تو لوگ میرا مذاق نہ اُڑائیں؟”
عمار محنتی تھا، مگر بعض اوقات وقتی فائدے کے لیے چھوٹے چھوٹے جھوٹ بول دیتا تھا۔ اس کی ماں ایک نیک خاتون تھیں جو اکثر کہتیں:
.آپ پڑھ سکتے ہیں
“بیٹا! سچائی ایمان کی بنیاد ہے، اور جھوٹ منافقت کی علامت۔”
عمار سنتا تو تھا، مگر دل میں یہ سوچتا: “کبھی کبھی جھوٹ سے نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔”
یہی سوچ ایک دن اسے بہت بڑی آزمائش میں لے آئی۔
آزمائش کا آغاز (The Beginning of the Test)
ایک دن عمار مدینہ کے بازار میں گیا۔ وہاں ایک بزرگ تاجر حضرت سعد بن مالکؓ اپنے غلام کے ساتھ کھجوریں بیچ رہے تھے۔ اچانک ایک شخص نے آواز لگائی:

“جو میرے لیے اونٹ خرید کر لائے گا، اسے دو دینار انعام دوں گا!”
عمار نے فوراً کہا: “میں لاتا ہوں!”
وہ اونٹ خریدنے گیا، مگر جب اونٹ والے نے کہا “اونٹ کی قیمت پانچ دینار ہے”، تو عمار نے جھوٹ بولا:
“نہیں، میرے مالک نے کہا ہے وہ صرف تین دینار دے گا۔”
اونٹ والا غریب تھا، مجبوری میں راضی ہو گیا۔ عمار نے دو دینار بچائے اور دل میں خوش ہوا۔
“کچھ جھوٹ بولنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟” اس نے خود سے کہا۔
لیکن جب وہ واپس آیا، اور حضرت سعدؓ نے پوچھا:
“اونٹ کی قیمت کیا تھی؟”
تو اس کی زبان کانپ گئی۔
“ت… تین دینار،” اس نے جھوٹ بولا۔
حضرت سعدؓ نے اونٹ دیکھا، پھر مسکرا کر کہا:
“بیٹا، اونٹ تو پانچ دینار کا لگتا ہے۔ سچ بتاؤ، کہاں سے لائے ہو؟”
عمار خاموش رہا۔ اس کے دل میں شرمندگی کی آگ جلنے لگی۔
نبی ﷺ کی صحبت (The Company of the Prophet ﷺ)
چند دن بعد، عمار مسجد نبوی ﷺ میں بیٹھا قرآن سن رہا تھا۔ اسی وقت نبی اکرم ﷺ تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
“کیا تم جانتے ہو کہ سچائی انسان کو کہاں لے جاتی ہے؟”
صحابہؓ نے عرض کیا: “اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔”
آپ ﷺ نے فرمایا:
“سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے، اور نیکی جنت کی طرف۔ آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک صدیق لکھا جاتا ہے۔” (بخاری)
عمار کے دل پر یہ الفاظ تیر کی طرح لگے۔
اس نے محسوس کیا جیسے نبی ﷺ کے یہ الفاظ اسی کے لیے ہیں۔
وہ سجدے میں گر گیا اور دعا کی:
“اے اللہ! مجھے سچائی کی راہ پر قائم فرما۔”
سچائی کا امتحان (The Test of Truth)

چند دن بعد، مدینہ کے قریب دشمن قبیلے نے حملے کی تیاری کی۔ مسلمانوں نے حفاظت کے لیے کچھ نوجوانوں کو سرحد پر بھیجا۔ عمار بھی ان میں شامل تھا۔
جب وہ دشمن کے علاقے کے قریب پہنچا، تو ان کے ہاتھوں قیدی بن گیا۔
دشمن کا سردار بولا:
“اگر تم ہمیں جھوٹ بول کر یہ بتاؤ کہ مدینہ میں کتنے سپاہی ہیں، تو ہم تمہیں آزاد کر دیں گے۔ لیکن اگر سچ بولا تو مار ڈالیں گے!”
عمار کا دل کانپ گیا۔
اس کے سامنے زندگی اور موت کا سوال تھا۔
ایک لمحہ کے لیے اس نے جھوٹ بولنے کا سوچا، مگر پھر نبی ﷺ کے الفاظ یاد آئے:
“سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے، اور نیکی جنت کی طرف۔”
اس نے ہمت جمع کی اور کہا:
“میں محمد ﷺ کا پیروکار ہوں۔ میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔ میں وہی کہوں گا جو سچ ہے۔”
دشمن کا سردار حیران رہ گیا۔
“کیا تمہیں اپنی جان کی پرواہ نہیں؟”
عمار نے جواب دیا:
“جان اللہ کے ہاتھ میں ہے، مگر زبان میرے اختیار میں۔ میں اسے جھوٹ سے ناپاک نہیں کروں گا۔”
سچائی کا کرشمہ (The Miracle of Truth)
دشمن کا سردار چند لمحے خاموش رہا، پھر قہقہہ لگا کر بولا:
“ہم نے آج تک کسی قیدی کو ایسا نہیں دیکھا جو اپنی جان کے لیے بھی جھوٹ نہ بولے!”
اس نے اپنے سپاہیوں سے کہا:
“اس نوجوان کو چھوڑ دو، کیونکہ اس کا ایمان کسی تلوار سے زیادہ مضبوط ہے۔”
یوں عمار آزاد ہو گیا۔
جب وہ مدینہ واپس آیا، تو نبی ﷺ کے قدموں میں گر گیا اور کہا:
“یا رسول اللہ ﷺ! میں نے آج سچائی کا کرشمہ دیکھا۔”
نبی ﷺ نے فرمایا:
“عمار! جس نے سچ کو اپنا ساتھی بنایا، اللہ اسے کبھی ذلیل نہیں کرتا۔”
توبہ اور نیا آغاز (Repentance and a New Beginning)
عمار گھر آیا، اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھ گیا، اور روتے ہوئے بولا:
“امّی! میں نے ایک دن جھوٹ بول کر دو دینار بچائے تھے، مگر آج جان پر کھیل کر سچ بولا اور زندگی پائی۔”
ماں نے مسکرا کر کہا:
“بیٹا، یہی ایمان کا امتحان ہے۔ جھوٹ وقتی فائدہ دیتا ہے، سچ ہمیشہ عزت۔”
عمار بازار گیا اور حضرت سعدؓ سے ملا۔ اس نے ان کے قدموں میں گر کر اپنے جھوٹ کا اعتراف کیا۔
حضرت سعدؓ نے اسے اٹھایا اور فرمایا:
“بیٹا، تم نے سچ بول کر اپنی روح کو آزاد کیا ہے۔ اللہ تمہیں عزت دے۔”
انہوں نے وہی دو دینار واپس عمار کے ہاتھ میں رکھے اور کہا:
“یہ سچائی کے انعام کے طور پر رکھ لو، نہ کہ جھوٹ کے۔”
ایمان کی چمک (The Radiance of Faith)
عمار کے دل سے خوف نکل گیا۔
اب وہ ہر وقت سچ بولتا، چاہے نقصان ہوتا یا فائدہ۔
ایک دن نبی ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:
“امت کے بہترین لوگ وہ ہیں جو سچ بولتے ہیں، وعدہ پورا کرتے ہیں، اور دل میں خیانت نہیں رکھتے۔”
لوگوں نے عمار کی طرف دیکھا — وہ اب مدینہ میں “الصادق” یعنی “سچا” کہلانے لگا تھا۔
آزمائشِ تجارت (The Test of Business)
کچھ عرصے بعد، عمار نے تجارت شروع کی۔ وہ کھجوریں بیچتا اور ہمیشہ سچ بولتا۔
ایک دن ایک گاہک آیا اور پوچھا:
“یہ کھجوریں پرانی تو نہیں؟”
عمار نے جواب دیا:
“کچھ پرانی ہیں، کچھ تازہ۔ اگر چاہو تو میں پرانی الگ کر دیتا ہوں۔”
گاہک نے حیرت سے کہا:
“تم نے سچ بول کر اپنے نفع کو کم کیا، مگر دل جیت لیا۔”
یہ بات مدینہ بھر میں پھیل گئی۔ عمار کی سچائی کی وجہ سے اس کی تجارت پھلنے لگی۔ لوگ کہتے:
“عمار کی کھجوروں میں برکت ہے، کیونکہ وہ سچ بولتا ہے۔”
ایمان کا انعام (The Reward of Faith)
ایک دن ایک امیر شخص نے عمار کو بڑی رقم دی تاکہ وہ شام سے سامان لائے۔
راستے میں ڈاکوؤں نے حملہ کیا۔
انہوں نے پوچھا:
“کیا تمہارے پاس مال ہے؟”
عمار نے سوچا: “اگر جھوٹ بولوں تو جان بچ سکتی ہے…”
مگر فوراً یاد آیا کہ سچائی اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔
اس نے کہا:
“ہاں، میرے پاس ہے۔”
ڈاکو حیران ہوئے، کیونکہ کوئی بھی شخص اپنی جان بچانے کے لیے جھوٹ بولتا۔
ان کے سردار نے پوچھا:
“تم نے سچ کیوں بولا؟”
عمار نے جواب دیا:
“میں محمد ﷺ کا امتی ہوں۔ اگر میں جھوٹ بولوں تو ان کی تعلیمات کو داغ دار کروں گا۔”
ڈاکوؤں نے مشورہ کیا، پھر سب کے سب اس کے ایمان سے متاثر ہو کر بولے:
“ایسا دین جو سچائی سکھائے، وہی سچا دین ہے۔”
انہوں نے مال واپس کیا، اور ان میں سے تین نے اسلام قبول کر لیا۔
سچائی کی جیت (The Victory of Truth)
جب عمار مدینہ واپس آیا، تو پورا شہر اس کی سچائی سے متاثر تھا۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
“عمار! تم نے سچائی سے صرف اپنی جان نہیں، بلکہ دلوں کو بھی بچایا ہے۔”
عمار نے زندگی بھر کبھی جھوٹ نہ بولا۔ وہ اپنے بچوں کو سکھاتا:
“اگر تم سچ بولو گے، تو اللہ تمہارا محافظ بنے گا۔ اگر جھوٹ بولو گے، تو تم اپنے محافظ کو کھو دو گے۔”
قرآن کی روشنی میں سچائی (Truthfulness in the Light of the Qur’an)
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:
“اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔”
(سورۃ التوبہ: 119)
ایک اور مقام پر فرمایا:
“یہ وہ لوگ ہیں جو سچائی پر قائم رہے، ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔”
(سورۃ الاحزاب: 35)
عمار انہی “سچوں” میں شامل ہو گیا جن کا ذکر قرآن میں ہے۔
نتیجہ (Moral of the Story)
- سچائی ایمان کی بنیاد ہے، اور جھوٹ نفاق کی علامت۔
- سچ بولنے والا وقتی نقصان اٹھا سکتا ہے، مگر آخر میں عزت پاتا ہے۔
- جو شخص سچائی کو اپنا اصول بناتا ہے، اللہ اسے خوف، آزمائش اور فریب سے بچا لیتا ہے۔
- نبی ﷺ نے فرمایا: “سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے، اور نیکی جنت کی طرف۔” (بخاری)
خلاصہ (Summary)
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سچ بولنا صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایمان کی علامت ہے۔
عمار بن اوسؓ کی زندگی یہ بتاتی ہے کہ سچائی کی راہ کبھی آسان نہیں، مگر اس کا انجام ہمیشہ عزت، سکون اور جنت ہے۔
سچائی وہ چراغ ہے جو ایمان کے دل کو منور کرتا ہے، اور وہ دروازہ ہے جو بندوں کو اللہ کی رضا تک لے جاتا ہے۔