مدینہ منورہ سے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جہاں کے لوگ سادہ مگر دل کے بہت نرم تھے۔ ان میں سے ایک نوجوان سلمان بن یوسف تھا۔ وہ ایک عام مزدور تھا، مگر اس کے اندر ایک غیر معمولی وصف موجود تھا — عزتِ نفس۔
سلمان ہمیشہ کہتا تھا:
“انسان کی سب سے بڑی دولت اس کی خودداری ہے، جو ہاتھ پھیلانے سے پہلے دل کو روک دیتی ہے۔”
آپ پڑھ سکتے ہیں
ابتدائی زندگی (Early Life)
سلمان کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔ والد بیمار رہتے اور ماں کپڑے سینے کا کام کرتی۔ وہ تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔ غربت ان کے گھر کی مہمان تھی، مگر کبھی اس نے اپنے حالات پر شکوہ نہیں کیا۔
سلمان صبح سویرے کام پر جاتا، شام کو واپس آتا اور ماں کے قدموں میں بیٹھ کر سکون پاتا۔ وہ جانتا تھا کہ زندگی آسان نہیں، مگر عزت سے جینا ہی اصل کامیابی ہے۔
ایک دن محلے کے کچھ لوگ اس سے کہنے لگے:
“سلمان! تم اتنی محنت کرتے ہو، مگر دولت نہیں آتی۔ کیوں نہ کسی امیر کے در پر جا کر مدد مانگ لو؟”
سلمان نے مسکرا کر کہا:
“میرے ہاتھ محنت کے لیے بنے ہیں، سوال کے لیے نہیں۔ میں کم کھا لوں گا، مگر مانگوں گا نہیں۔”
زندگی کا امتحان (The Test of Life)
وقت گزرتا گیا، اور ایک دن ایسا آیا جب سلمان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ گھر کی ذمہ داری پوری طرح اس کے کندھوں پر آگئی۔ حالات تنگ سے تنگ تر ہوتے گئے۔ کھانے کو روٹی نہیں، پہننے کو کپڑا نہیں۔ مگر سلمان کی خودداری پھر بھی قائم رہی۔
ایک دن وہ شہر کی ایک مارکیٹ میں کام ڈھونڈنے گیا۔ ایک دولت مند تاجر عبدالرحمن اسے دیکھ کر بولا:
“اگر تم چاہو تو میرے دروازے پر جھاڑو دینے اور پانی بھرنے کا کام کر لو۔ روز ایک درہم دوں گا۔”
یہ سن کر سلمان کے چہرے پر خاموشی چھا گئی۔ وہ جانتا تھا کہ کام میں شرم نہیں، مگر وہ کسی کے در پر غلام بن کر نہیں جینا چاہتا تھا۔ اس نے نرمی سے کہا:
“میں آپ کا شکر گزار ہوں، مگر میں اپنی محنت کو ذلت نہیں بننے دوں گا۔”
عبدالرحمن حیران ہوا، “بھائی! بھوک میں بھی خودداری؟”
سلمان نے جواب دیا:
“بھوک انسان کو مارتے نہیں، لیکن بے عزتی انسانیت کو ختم کر دیتی ہے۔”
امتحان کی رات (The Night of Struggle)
اسی رات، جب سب سو گئے، سلمان مدینے کے آسمان کے نیچے بیٹھا تھا۔ بھوک سے پیٹ خالی تھا مگر دل ایمان سے بھرا ہوا۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا:
“اے اللہ! میں تیری زمین پر تیرا بندہ ہوں، تیری مخلوق سے کچھ نہیں مانگوں گا، تو ہی مدد فرما۔”
اسی وقت اس کے دل میں ایک خیال آیا۔
“میں کاریگر کیوں نہ بنوں؟”
اس نے اپنے پرانے استاد سے بڑھئی کا کام سیکھنا شروع کیا۔ دن رات محنت، صبر، اور یقین کے ساتھ وہ لکڑی سے چیزیں بنانے لگا۔ تھوڑے ہی دنوں میں اس کی بنائی ہوئی چیزیں مشہور ہو گئیں۔ لوگ اس کے اخلاق، دیانت اور خودداری سے متاثر تھے۔
نئی روشنی (New Dawn)

کچھ سالوں بعد، سلمان کا چھوٹا سا کارخانہ بن گیا۔ لوگ دور دور سے آ کر اس سے سامان خریدتے۔ وہ ہمیشہ مزدوروں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتا اور کہتا:
“میں نے غربت دیکھی ہے، مگر عزت کبھی نہیں بیچی۔”
ایک دن وہی تاجر عبدالرحمن اس کے پاس آیا، جو پہلے اسے جھاڑو دینے کا کام دینا چاہتا تھا۔ اس نے حیران ہو کر کہا:
“سلمان! تم نے یہ سب کیسے کر دکھایا؟”
سلمان نے مسکرا کر جواب دیا:
“اللہ پر یقین اور خودداری پر قائم رہنا کبھی خالی ہاتھ نہیں رہنے دیتا۔”
عبدالرحمن نے آہ بھری اور کہا:
“کاش! میں بھی یہ سبق پہلے سمجھ لیتا۔ میں نے بہت مال کمایا، مگر سکون نہیں پایا۔”
عزت کی قیمت (The Value of Dignity)
سلمان اب صرف ایک کاریگر نہیں تھا، بلکہ پورے گاؤں کے لیے امید اور خودداری کی علامت بن چکا تھا۔ لوگ اپنے بچوں کو اس کی مثال دیتے اور کہتے:
“بیٹا! اگر تمہیں زندگی میں کامیاب ہونا ہے تو سلمان بن یوسف کی طرح عزت سے جیو۔”
ایک دن ایک غریب مزدور اس کے پاس آیا اور بولا:
“میں تین دن سے بھوکا ہوں، اگر آپ تھوڑا قرض دے دیں تو میں وعدہ کرتا ہوں لوٹا دوں گا۔”
سلمان نے مسکرا کر کہا:
“میں تجھے قرض نہیں دوں گا… بلکہ تجھے کام دوں گا، تاکہ تو عزت سے کمائے۔”
وہ مزدور حیران رہ گیا۔
سلمان نے اسے اپنے کارخانے میں رکھا، اور کچھ ہی مہینوں میں وہ مزدور اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا۔
تقدیر کا انعام (The Reward of Fate)

سالوں بعد جب سلمان بوڑھا ہوا تو لوگ اسے “استادِ خودداری” کہنے لگے۔ اس کے شاگرد مدینے بھر میں پھیل گئے۔
ایک دن اس نے اپنے بیٹے کو کہا:
“بیٹا! ہمیشہ یاد رکھنا، انسان کا اصل سرمایہ ایمان اور عزتِ نفس ہے۔ جو اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے، وہ کسی کے سامنے نہیں جھکتا۔”
بیٹے نے پوچھا:
“ابّا! کیا عزتِ نفس ہمیشہ کامیابی دیتی ہے؟”
سلمان نے مسکرا کر کہا:
“بیٹا، کبھی کبھی دیر سے کامیابی ملتی ہے، مگر جب ملتی ہے تو عزت کے ساتھ ملتی ہے۔”
اختتامی لمحہ (Final Moment)
زندگی کے آخری دنوں میں سلمان مسجد کے پاس بیٹھا بچوں کو نصیحتیں کیا کرتا۔ ایک دن ایک نوجوان آیا اور پوچھا:
“استاد! کیا آپ کو کبھی لگا کہ عزتِ نفس نے آپ کو نقصان پہنچایا؟”
سلمان نے دھیرے سے کہا:
“نہیں بیٹے، عزتِ نفس نے مجھے اللہ کے قریب کر دیا۔ جس دن انسان خودداری چھوڑ دیتا ہے، وہ اپنے رب سے دور ہو جاتا ہے۔”
چند دن بعد وہ خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ مگر اس کی خودداری، صبر، ایمان اور عزت کا سبق آج بھی گاؤں کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
سبقِ زندگی (Moral of the Story)
✨ عزتِ نفس انسان کی سب سے قیمتی دولت ہے۔ جو شخص اپنی عزت کا خیال رکھتا ہے، اللہ اس کی عزت خود محفوظ رکھتا ہے۔
💫 کامیابی دولت سے نہیں، خودداری اور ایمان سے حاصل ہوتی ہے۔