حضرت شعیب علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر انبیاء میں سے ہیں۔ قرآنِ مجید میں ان کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے، خاص طور پر سورۃ الاعراف، سورۃ ہود، سورۃ الشعراء اور سورۃ العنکبوت میں۔ آپ کو “خطیب الانبیاء” (انبیاء کے بہترین مقرر) کہا جاتا ہے کیونکہ آپ نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ اپنی قوم کو اللہ کی توحید اور نیکی کی طرف بلاتے تھے۔
آپ کی کہانی عدل، دیانت، توحید اور صبر کا عظیم سبق دیتی ہے۔
آپ اسے پڑھ سکتے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مکمل کہانی
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مکمل کہانی
حضرت شعیب علیہ السلام کا تعارف (Introduction of Prophet Shu’ayb A.S)

حضرت شعیب علیہ السلام کا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے تھا۔ مؤرخین کے مطابق آپ حضرت لوط علیہ السلام کے بعد مبعوث کیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قومِ مدین کی طرف نبی بنا کر بھیجا۔
قومِ مدین کا پس منظر (Background of the People of Madyan)
قومِ مدین موجودہ سعودی عرب اور اردن کے سرحدی علاقے میں آباد تھی۔ یہ لوگ تجارت پیشہ تھے اور ان کا کاروبار زمین سے لے کر تجارتی قافلوں تک پھیلا ہوا تھا۔
لیکن وہ بددیانتی اور دھوکہ دہی میں مشہور تھے۔ ان کا سب سے بڑا گناہ یہ تھا کہ وہ:
-
ماپ تول میں کمی کرتے۔
-
ناپاک طریقوں سے مال کماتے۔
-
بت پرستی میں مبتلا تھے۔
-
راستوں پر ڈاکہ ڈالتے اور مسافروں کو تنگ کرتے۔
حضرت شعیب علیہ السلام کی دعوت (The Call of Prophet Shu’ayb A.S)
حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت کی طرف بلایا اور کہا:
“اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔” (الاعراف: 85)
آپ نے انہیں انصاف، دیانت اور ایمانداری کا حکم دیا اور فرمایا:
“ناب تول میں کمی نہ کرو، لوگوں کو ان کی چیزیں پوری دیا کرو، زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔” (ہود: 85)
قوم کا انکار اور مذاق (Rejection of Shu’ayb A.S)
قومِ مدین نے حضرت شعیب علیہ السلام کی باتوں کو سننے کے بجائے مذاق اڑایا۔ وہ کہتے:
“اے شعیب! کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنے مال میں اپنی مرضی نہ کریں؟” (ہود: 87)
وہ غرور اور ضد میں آ کر کہتے: “ہم تمہیں اور تمہارے ماننے والوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے، یا پھر تمہیں ہمارے مذہب پر واپس آنا ہوگا۔”
حضرت شعیب علیہ السلام کا جواب (Response of Prophet Shu’ayb A.S)
حضرت شعیب علیہ السلام نے نہایت صبر اور نرمی کے ساتھ جواب دیا:
“اے میری قوم! دیکھو تو سہی، اگر میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے پاکیزہ رزق عطا کیا ہے، تو کیا میں اس کے خلاف بات کروں؟ میں صرف اصلاح چاہتا ہوں، جہاں تک میری استطاعت ہے۔ اور میری توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔” (ہود: 88)
عذاب کی وعید (Warning of Punishment)
حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈرایا کہ اگر وہ باز نہ آئے تو اللہ کا عذاب آئے گا۔ لیکن انہوں نے کہا:
“اے شعیب! ہم تمہاری اکثر باتیں سمجھتے ہی نہیں، اور ہم تمہیں کمزور سمجھتے ہیں۔ اگر تمہارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تمہیں پتھروں سے مار ڈالتے۔” (ہود: 91)
عذابِ الٰہی (Divine Punishment)
آخرکار جب وہ باز نہ آئے تو اللہ کا عذاب آیا۔ قرآن کہتا ہے:
“تو انہیں زلزلے نے پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔” (اعراف: 91)
ایک زبردست چیخ اور زلزلے نے قومِ مدین کو ہلاک کر دیا۔ ان کے بڑے بڑے کاروبار اور دولت سب کچھ ختم ہو گیا۔
حضرت شعیب علیہ السلام اور ایمان والے محفوظ رہے (Shu’ayb A.S and Believers Were Saved)
اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب علیہ السلام اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو بچا لیا۔ اس طرح اللہ نے واضح کر دیا کہ نافرمان اور ظالم لوگ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔
حضرت شعیب علیہ السلام کی خصوصیات (Qualities of Prophet Shu’ayb A.S)

-
فصاحت و بلاغت – آپ کو خطیب الانبیاء کہا گیا۔
-
عدل و انصاف – ہمیشہ انصاف اور دیانت داری کی تلقین کی۔
-
صبر – مسلسل انکار کے باوجود اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔
-
رحمت – اپنی قوم کے لیے نجات چاہتے تھے، ان کے لیے سختی نہیں۔
حضرت شعیب علیہ السلام کی وفات (Death of Shu’ayb A.S)
مؤرخین کے مطابق حضرت شعیب علیہ السلام کا وصال مدین کے علاقے میں ہوا۔ بعض روایات کے مطابق آپ کو مکہ مکرمہ کے قریب بھی دفن کیا گیا۔ درست مقام صرف اللہ جانتا ہے۔
اسباق اور نصیحتیں (Lessons from the Story of Shu’ayb A.S)
-
ایمان اور توحید ہی کامیابی کا اصل ذریعہ ہے۔
-
دیانت داری تجارت اور زندگی میں ضروری ہے۔
-
ناب تول میں کمی اور دھوکہ دہی اللہ کے غضب کو دعوت دیتے ہیں۔
-
صبر اور نرمی دعوتِ دین کا اہم اصول ہے۔
-
اللہ ظالم اور بددیانت قوم کو ہلاک کر دیتا ہے۔
عمومی سوالات (FAQs about Prophet Shu’ayb A.S)
سوال 1: حضرت شعیب علیہ السلام کس قوم کی طرف مبعوث ہوئے؟
جواب: قومِ مدین کی طرف۔
سوال 2: قومِ مدین کا سب سے بڑا گناہ کیا تھا؟
جواب: ماپ تول میں کمی، دھوکہ دہی اور بت پرستی۔
سوال 3: قومِ مدین کو کس عذاب نے ہلاک کیا؟
جواب: زلزلے اور سخت چیخ نے انہیں ہلاک کر دیا۔
سوال 4: حضرت شعیب علیہ السلام کو کیا لقب دیا گیا؟
جواب: “خطیب الانبیاء” (انبیاء کا بہترین مقرر)۔
نتیجہ (Conclusion)
حضرت شعیب علیہ السلام کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ معاشرے کی اصل بنیاد عدل، دیانت اور اللہ کی اطاعت ہے۔ اگر کوئی قوم ظلم، ناانصافی اور بددیانتی میں مبتلا ہو جائے تو اس کا انجام تباہی ہے۔ لیکن ایمان والے ہمیشہ اللہ کی پناہ میں رہتے ہیں۔