حضرت سلیمان علیہ السلام کی مکمل کہانی – The Story of Prophet Sulaiman (A.S)
حضرت سلیمان علیہ السلام، اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی اور عظیم بادشاہ تھے۔
آپ، حضرت داؤد علیہ السلام کے صاحبزادے اور جانشین تھے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو بےپناہ علم، حکمت، انصاف اور سلطنت عطا فرمائی۔
قرآنِ مجید میں آپ کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے، خصوصاً سورۃ النمل، سورۃ الانبیاء، سورۃ ص، اور سورۃ سبا میں۔
“اور سلیمان، داؤد کا وارث ہوا، اور کہا: اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر چیز میں سے عطا ہوا ہے۔ بےشک یہ کھلی فضیلت ہے۔”
(النمل: 16)آپ اسے پڑھ سکتے ہیں۔”
یہ آیت حضرت سلیمان علیہ السلام کے علم، اقتدار اور اللہ کی نعمتوں کا اعلان ہے۔
ولادت اور ابتدائی زندگی (Birth and Early Life)
حضرت سلیمان علیہ السلام کی ولادت بیت المقدس (Jerusalem) میں ہوئی۔
آپ بچپن سے ہی غیر معمولی ذہانت اور عدل و انصاف کے لیے مشہور تھے۔
حضرت داؤد علیہ السلام اکثر اپنے بیٹے کو اپنے ساتھ عدالت میں لے جاتے تاکہ وہ عدل کے فیصلے سیکھ سکیں۔
ایک مشہور واقعہ ہے کہ بچپن میں ہی حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک مقدمہ میں ایسی دانشمندی سے فیصلہ دیا جس پر حضرت داؤد علیہ السلام بھی حیران ہو گئے۔
اسی لیے قرآن میں آیا ہے:
“ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا، اور انہوں نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔” (النمل: 15)
حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد بادشاہت (Kingship after Prophet Dawood A.S)

حضرت داؤد علیہ السلام کے وصال کے بعد، حضرت سلیمان علیہ السلام کو نہ صرف نبوت بلکہ بادشاہت بھی عطا ہوئی۔
آپ کی سلطنت بہت وسیع تھی، جس میں انسان، جنات، جانور، پرندے، اور ہوائیں سب آپ کے تابع تھے۔
قرآن کہتا ہے:
“اور ہم نے سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا، جو اس کے حکم سے جہاں وہ چاہے چلتی تھی۔” (ص: 36)
یہ اللہ کی طرف سے انہیں عطا کردہ معجزات میں سے ایک تھا۔
علم اور حکمت (Wisdom and Knowledge)
حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کے عظیم ترین علم سے نوازا۔
آپ جانوروں، پرندوں اور حتیٰ کہ چیونٹیوں کی زبان سمجھتے تھے۔
آپ کی عدالت میں انسان، جنات، اور جانور سب آتے اور انصاف پاتے۔
قرآن میں مشہور واقعہ آتا ہے:
“یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے، تو ایک چیونٹی بولی: اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ تاکہ سلیمان اور اس کی فوج تمہیں نہ کچل دیں، وہ بے خبری میں ایسا کر بیٹھیں گے۔”
(النمل: 18)
حضرت سلیمان علیہ السلام نے چیونٹی کی بات سن کر مسکرا دیا اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اسے اتنی فہم عطا ہوئی۔
پرندوں اور جانوروں سے گفتگو (Communication with Birds and Animals)
حضرت سلیمان علیہ السلام کو پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی تھیں۔
ان کے لشکر میں پرندے بھی شامل تھے جو جاسوسی اور خبر رسانی کا کام کرتے تھے۔
خاص طور پر ہدہد (Hoopoe) کا واقعہ قرآن میں نہایت مشہور ہے۔
ہدہد اور بلقیس کا واقعہ (The Story of Hudhud and Queen Bilqis)
ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام نے دیکھا کہ لشکر میں ہدہد غائب ہے۔
انہوں نے فرمایا:
“میں ضرور اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر دوں گا، اگر وہ کوئی معقول عذر نہ پیش کرے۔” (النمل: 21)
کچھ دیر بعد ہدہد واپس آیا اور عرض کیا:
“میں نے ایسی چیز دیکھی ہے جس کا آپ کو علم نہیں۔ میں سبا کی ایک قوم کے پاس گیا جہاں ایک عورت ان پر حکومت کرتی ہے، اور اسے ہر چیز دی گئی ہے۔ مگر وہ اور اس کی قوم سورج کی عبادت کرتے ہیں!” (النمل: 23-24)
حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہدہد کے ذریعے ایک خط بھیجا جس میں بلقیس کو اللہ کی عبادت کی دعوت دی گئی۔
بلقیس نے اپنے مشیروں سے مشورہ کیا، پھر سلیمان علیہ السلام کے دربار میں تحفے بھیجے، مگر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا:
“جو کچھ اللہ نے مجھے دیا ہے وہ تمہارے تحفوں سے بہتر ہے۔ تم اپنے تحفے واپس لے جاؤ!” (النمل: 36)
آخرکار بلقیس خود حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہوئی۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کے آنے سے پہلے ہی اس کا تخت منگوا لیا۔
“جنات میں سے ایک نے کہا: میں اسے آپ کے پاس لاؤں گا قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں۔” (النمل: 39)
جب بلقیس نے دیکھا کہ اس کا تخت وہاں موجود ہے، تو وہ ایمان لے آئی اور کہنے لگی:
“میں نے سلیمان کے ساتھ رب العالمین پر ایمان لے لیا۔” (النمل: 44)
حضرت سلیمان علیہ السلام کے معجزات (Miracles of Prophet Sulaiman A.S)
1. ہوا پر قابو (Control over the Wind)
اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ہوا کو تابع کر دیا تھا۔
آپ ایک دن میں ایک ماہ کے فاصلے تک سفر کر سکتے تھے۔
“اور ہم نے سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا، صبح کا سفر ایک مہینے کا اور شام کا سفر ایک مہینے کا۔” (سبا: 12)
2. جنات کی خدمت (Service of the Jinns)
جنات آپ کے حکم کے تابع تھے۔
وہ آپ کے لیے محل، مجسمے، قلعے، اور دیگر چیزیں بناتے تھے۔
“اور جنات میں سے وہ جو اس کے لیے بناتے تھے محلات اور تصویریں۔” (سبا: 13)
3. جانوروں سے بات چیت (Communication with Animals)
آپ جانوروں کی زبان سمجھتے تھے۔
یہ اللہ تعالیٰ کا خاص معجزہ تھا تاکہ وہ مخلوقات میں عدل قائم کر سکیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کا عدل و انصاف (Justice and Fairness)

حضرت سلیمان علیہ السلام کے عدل کی مثالیں آج بھی دی جاتی ہیں۔
ایک مشہور واقعہ ہے کہ دو عورتیں جھگڑتی آئیں — دونوں ایک بچے کی ماں ہونے کا دعویٰ کر رہی تھیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا:
“ایک تلوار لاؤ، ہم بچے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں تاکہ دونوں کو آدھا آدھا مل جائے۔”
ایک عورت خاموش رہی جبکہ دوسری فوراً بولی:
“نہیں، بچہ اسے دے دو، میں اسے زندہ دیکھنا چاہتی ہوں۔”
حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا:
“یہی عورت اس بچے کی حقیقی ماں ہے۔”
دولت، علم، اور عاجزی (Wealth, Wisdom, and Humility)
حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس دنیا کی ہر نعمت تھی — طاقت، مال، حکومت، علم، اور عزت۔
لیکن وہ ہمیشہ عاجز بندے بن کر اللہ کا شکر ادا کرتے۔
“یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر ادا کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں۔” (النمل: 40)
یہ جملہ ان کی عاجزی، ایمان، اور خوفِ خدا کا مظہر ہے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی عبادت (Worship and Devotion)
دنیاوی عظمت کے باوجود آپ اللہ کے انتہائی عبادت گزار بندے تھے۔
وہ راتوں کو جاگ کر دعا کرتے اور اکثر استغفار کرتے تھے۔
حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح آپ کی آواز بھی نہایت خوبصورت تھی، اور جب آپ اللہ کی تسبیح کرتے، پرندے بھی ساتھ شامل ہو جاتے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات (Death of Prophet Sulaiman A.S)
قرآن کے مطابق، حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات ایک حیرت انگیز انداز میں ہوئی۔
جب وہ جنات سے کام لے رہے تھے، تو ایک دن عصا (staff) پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور وہیں وفات پا گئے۔
جنات سمجھتے رہے کہ وہ زندہ ہیں، اور اپنا کام کرتے رہے۔
یہاں تک کہ دیمک نے عصا کھا لیا اور وہ گر گئے۔ تب جا کر جنات کو معلوم ہوا کہ وہ وفات پا چکے ہیں۔
“پھر جب ہم نے ان کے لیے موت مقرر کی، تو جنات کو ان کی موت کا علم نہ ہوتا اگر دیمک ان کے عصا کو نہ چاٹتی۔” (سبا: 14)
اضافی معلومات (Additional Facts)
- حضرت سلیمان علیہ السلام کا نام “سولومون” (Solomon) عبرانی لفظ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے “امن”۔
- آپ کی سلطنت مشرق و مغرب تک پھیلی ہوئی تھی۔
- قرآن کے مطابق، آپ نے کبھی ظلم نہیں کیا اور ہمیشہ انصاف قائم رکھا۔
- آپ کی زبان عربی اور عبرانی دونوں تھی۔
- ان کے دور کو “عہدِ امن و عدل” کہا جاتا ہے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام سے حاصل ہونے والے اسباق (Lessons from Prophet Sulaiman A.S)
- شکرگزاری: ہر نعمت اللہ کی عطا ہے، شکر ادا کرنا لازم ہے۔
- عدل و انصاف: اقتدار میں رہ کر انصاف قائم کرنا سب سے بڑی عبادت ہے۔
- عاجزی: علم اور دولت انسان کو متکبر نہیں بنانا چاہیے۔
- حکمت: فیصلوں میں عقل، تحمل، اور علم کا استعمال ضروری ہے۔
- ایمان: سب کچھ ہونے کے باوجود اللہ پر یقین قائم رکھنا حقیقی کامیابی ہے۔
- دعوتِ توحید: حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہمیشہ توحید کو اپنی قوم کا مرکزی پیغام بنایا۔
عمومی سوالات (FAQs about Prophet Sulaiman A.S)
سوال 1: حضرت سلیمان علیہ السلام کے والد کون تھے؟
جواب: حضرت داؤد علیہ السلام۔
سوال 2: حضرت سلیمان علیہ السلام کو کون سے معجزات عطا ہوئے تھے؟
جواب: جنات، ہواؤں، اور جانوروں پر قابو؛ زبانوں کا علم؛ اور غیر معمولی سلطنت۔
سوال 3: حضرت سلیمان علیہ السلام کا مشہور واقعہ کون سا ہے؟
جواب: ہدہد اور ملکہ بلقیس (Queen of Sheba) کا واقعہ۔
سوال 4: حضرت سلیمان علیہ السلام کہاں وفات پائے؟
جواب: بیت المقدس میں۔
سوال 5: حضرت سلیمان علیہ السلام کی زندگی سے سب سے بڑا سبق کیا ہے؟
جواب: شکر، عدل، اور عاجزی کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنا۔
نتیجہ (Conclusion)
حضرت سلیمان علیہ السلام کی زندگی علم، عدل، عبادت، اور شکر کا حسین امتزاج ہے۔
ان کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دنیا کی طاقت یا دولت کبھی انسان کو متکبر نہ بنائے۔
اللہ کا شکر، بندوں کے ساتھ انصاف، اور عاجزی ہی حقیقی بادشاہت ہے۔
اگر ہم حضرت سلیمان علیہ السلام کے اصولوں پر عمل کریں تو دنیا میں امن، عدل، اور ایمان کی روشنی پھیل سکتی ہے۔
ان کی کہانی نہ صرف ایک نبی کی تاریخ ہے بلکہ انسانیت کے لیے ایک ابدی سبق ہے —
کہ طاقت اُس وقت مقدس بنتی ہے جب وہ انصاف کے تابع ہو۔ 🌿