حضرت آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے سب سے پہلے نبی اور انسان تھے۔ آپ کو “ابوالبشر” کہا جاتا ہے کیونکہ تمام انسان انہی کی اولاد ہیں۔ قرآنِ مجید اور احادیث میں ان کا ذکر کثرت سے آیا ہے۔ آپ کی کہانی صرف ایک قصہ نہیں بلکہ انسانیت کے آغاز اور اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔
آپ اسے پڑھ سکتے ہیں۔”
حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق (Creation of Prophet Adam A.S)
قرآن کریم کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا گیا۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ مٹی مختلف مقامات سے لی گئی تاکہ انسانوں کی طبیعتوں میں تنوع ہو۔ کچھ لوگ نرم مزاج ہوں گے، کچھ سخت، کچھ میٹھے اور کچھ تلخ۔
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ (المؤمنون: 12)
یہ آیت ہمیں تخلیق کے اصل ماخذ کی یاد دلاتی ہے کہ انسان کو غرور نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ مٹی سے پیدا ہوا ہے۔
فرشتوں کو سجدے کا حکم (Command to Angels for Prostration)
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں۔ سب نے فوراً اطاعت کی مگر ابلیس نے انکار کر دیا اور تکبر کرتے ہوئے کہا:
“میں آگ سے بنا ہوں، یہ مٹی سے، میں کیوں سجدہ کروں؟”
اسی انکار کی وجہ سے ابلیس ہمیشہ کے لیے لعنتی اور مردود قرار پایا۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ تکبر انسان کو برباد کر دیتا ہے۔
جنت میں زندگی (Life in Paradise)
حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہا السلام کو جنت میں بسایا گیا۔ وہاں ہر نعمت تھی۔ صرف ایک درخت کے قریب جانے سے منع کیا گیا، لیکن شیطان نے انہیں بہکا دیا۔ جب انہوں نے درخت کا پھل کھایا تو ان کی پوشاک اتر گئی اور وہ نادم ہوئے۔
یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ انسان کمزور ہے اور شیطان ہمیشہ بہکانے کی کوشش کرتا ہے۔

زمین پر نزول (Descent to Earth)
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہا السلام کو زمین پر بھیجا۔ یہی سے انسان کی زمینی زندگی کا آغاز ہوا۔ قرآن میں فرمایا گیا:
إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (البقرہ: 30)
یعنی انسان کو زمین پر خلیفہ اور نمائندہ بنایا گیا تاکہ وہ اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزارے۔
حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ (Repentance of Prophet Adam A.S)
حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہا السلام نے اپنی خطا پر اللہ سے معافی مانگی۔ انہوں نے دعا کی:
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ (الاعراف: 23)
اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد (Children of Prophet Adam A.S)
انسانیت کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہا السلام کی اولاد سے ہوا۔ ان کے بیٹوں ہابیل اور قابیل کا مشہور واقعہ قرآن میں آیا ہے۔ قابیل نے حسد میں آکر ہابیل کو قتل کر دیا۔ یہ دنیا کا پہلا قتل تھا۔ اس واقعے نے انسانیت کو یہ سبق دیا کہ حسد اور نفرت بربادی کی جڑ ہیں۔

حضرت آدم علیہ السلام کے فرائض (Prophetic Duties of Adam A.S)
حضرت آدم علیہ السلام کو نبی بنایا گیا تاکہ وہ اپنی اولاد کو اللہ کی عبادت اور توحید کی طرف بلائیں۔ انہوں نے اپنے بیٹوں اور اولاد کو نیکی کا راستہ دکھایا اور برائی سے روکا۔
حضرت آدم علیہ السلام کا وصال (Death of Prophet Adam A.S)
مؤرخین کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام تقریباً 930 سال تک زندہ رہے۔ روایت ہے کہ آپ کا وصال مکہ مکرمہ میں ہوا اور آپ کو زمین میں دفن کیا گیا۔
اضافی معلومات (Extra Information)
-
بعض مفسرین کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کو جمعۃ المبارک کے دن پیدا کیا گیا۔
-
احادیث میں آتا ہے کہ آپ کی قامت بہت بلند تھی، تقریباً ساٹھ ہاتھ کے برابر۔
-
حضرت آدم علیہ السلام ہی پہلے انسان ہیں جنہیں اللہ نے “نبی” کے منصب پر فائز فرمایا۔
-
ان کی زندگی کا مقصد انسانوں کو یہ سکھانا تھا کہ نافرمانی کے بعد بھی توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام سے حاصل ہونے والے اسباق (Lessons from the Life of Adam A.S)
-
اللہ کی اطاعت ہی کامیابی ہے۔
-
تکبر ہلاکت کا سبب ہے۔
-
گناہ کے بعد توبہ نجات کا ذریعہ ہے۔
-
حسد دنیا کی پہلی برائی اور قتل کا سبب ہے۔
-
دنیا آزمائش ہے اور آخرت اصل مقام ہے۔
عمومی سوالات (FAQs about Prophet Adam A.S)
سوال 1: حضرت آدم علیہ السلام کس دن پیدا ہوئے؟
جواب: مفسرین کے مطابق آپ جمعۃ المبارک کے دن پیدا ہوئے۔
سوال 2: حضرت آدم علیہ السلام کو کیوں “ابوالبشر” کہا جاتا ہے؟
جواب: کیونکہ تمام انسان انہی کی اولاد ہیں۔
سوال 3: حضرت آدم علیہ السلام کتنے سال زندہ رہے؟
جواب: تقریباً 930 سال۔
سوال 4: حضرت آدم علیہ السلام کی سب سے بڑی آزمائش کیا تھی؟
جواب: جنت میں ممنوعہ درخت کا پھل کھانا۔
سوال 5: حضرت آدم علیہ السلام کی زندگی سے سب سے بڑا سبق کیا ہے؟
جواب: عاجزی، اللہ کی اطاعت اور گناہ کے بعد توبہ کرنا۔
نتیجہ (Conclusion)
حضرت آدم علیہ السلام کی کہانی صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ انسانیت کے لیے روشن مثال ہے۔ ان کی زندگی سے ہمیں عاجزی، اطاعت، صبر اور توبہ کا سبق ملتا ہے۔ اگر ہم ان کی سیرت پر عمل کریں تو دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔