مدینہ کی گلیوں میں ایک خاموش تاجر (A Silent Merchant in Madinah)
مدینہ منورہ کے دن نہایت روشن اور پرسکون تھے۔ مسجدِ نبوی ﷺ کی گنبدوں پر طلوعِ آفتاب کی سنہری روشنی پھیل چکی تھی۔ فضا میں اذانِ فجر کی روح پرور آواز گونج رہی تھی۔ اسی شہرِ رسول ﷺ میں ایک نیک دل تاجر رہتا تھا — سعید بن عمرؓ۔
سعیدؓ کوئی بڑا امیر آدمی نہیں تھا، مگر ایمان، دیانت اور وفاداری میں اُس کی مثال دی جاتی تھی۔ اُس کا چہرہ ہمیشہ مسکراہٹ سے روشن رہتا، زبان پر “الحمدللہ” جاری رہتا، اور دل میں صرف اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی محبت بسی ہوئی تھی۔
سعیدؓ ایک چھوٹی سی دکان چلاتا تھا جہاں کھجوریں، شہد اور کچھ اناج فروخت کیا جاتا تھا۔ لوگ اُس کی دکان پر صرف چیزیں خریدنے نہیں آتے تھے — بلکہ اُس کے حسنِ اخلاق اور نرم گفتگو کے دلدادہ تھے۔ وہ ہمیشہ کہتا:
“کاروبار دولت کے لیے نہیں، برکت کے لیے ہوتا ہے۔ اور برکت وفا سے آتی ہے۔”
ایک دن دوپہر کے وقت ایک اجنبی شخص اُس کے پاس آیا۔ وہ پسینے میں شرابور، تھکا ہوا اور ننگے پاؤں تھا۔ اُس نے کہا:
“السلام علیکم، کیا آپ مجھے تھوڑا سا پانی دے سکتے ہیں؟”
سعیدؓ فوراً اٹھا، مٹی کے پیالے میں ٹھنڈا پانی بھرا اور مسکرا کر پیش کیا۔ اجنبی نے پانی پیا، شکر ادا کیا، اور بولا:
“میں ایک غلام ہوں، میرا مالک مکہ میں ہے۔ میں بھاگ آیا تھا، مگر اب توبہ کر چکا ہوں۔ میں واپس جانا چاہتا ہوں، مگر مجھے ڈر ہے کہ وہ سزا دے گا۔”
سعیدؓ نے نرمی سے کہا:
“بیٹے! اگر تم سچ بول رہے ہو، تو اللہ تمہاری نیت کے مطابق آسانی پیدا کرے گا۔ وفا کا تقاضا یہی ہے کہ تم اپنی ذمہ داری پوری کرو۔”
غلام کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اُس نے کہا:
“اگر آپ میری سفارش کریں تو؟”
سعیدؓ نے کہا:
“میں تمہارے ساتھ مکہ چلوں گا، اگر اللہ نے چاہا تو تیرے مالک کا دل نرم ہو جائے گا۔”
یہ سن کر غلام کا دل بھر آیا۔ اُس نے کہا:
“میں نے بہتوں سے مدد مانگی، سب نے ٹھکرا دیا، مگر آپ نے ایک اجنبی پر بھروسہ کیا۔”
سفرِ وفا کا آغاز (Journey of Loyalty)
اگلی صبح سعیدؓ نے اپنا کاروبار ایک شاگرد کے سپرد کیا، چند کھجوریں اور پانی کا مشکیزہ ساتھ لیا، اور غلام کے ساتھ مکہ کی جانب روانہ ہو گیا۔
راستہ طویل اور دشوار تھا۔ دن میں تیز دھوپ، رات کو ٹھنڈی ہوا، مگر سعیدؓ کے قدموں میں عزم اور دل میں وفا کی روشنی تھی۔ غلام بار بار کہتا:
“آپ کیوں میری خاطر تکلیف اٹھا رہے ہیں؟”
سعیدؓ جواب دیتا:
“کیونکہ وفا صرف خون یا رشتہ داری سے نہیں ہوتی، بلکہ ایمان سے ہوتی ہے۔ جو اللہ سے وفا کرتا ہے، وہ بندوں سے بھی وفا کرتا ہے۔”
مکہ میں ملاقات (Meeting in Makkah)
کئی دن کے سفر کے بعد وہ مکہ پہنچے۔ غلام کا دل دھڑک رہا تھا۔ وہ اپنے مالک کے گھر کے قریب آیا — ایک بڑا رئیس عبدالرحمن بن ولید۔ جب عبدالرحمنؓ نے اپنے بھاگے ہوئے غلام کو دیکھا، تو غصے سے آگ بگولا ہو گیا۔
“تو بھاگ گیا اور اب معافی مانگنے آیا ہے؟ تجھے سزا ملے گی!”
سعیدؓ آگے بڑھے اور نہایت نرمی سے بولے:
“اے عبدالرحمن! میں مدینہ سے آیا ہوں۔ یہ غلام اپنے گناہ پر نادم ہے۔ اُس نے واپس آ کر اپنی وفاداری نبھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو توبہ کرتے ہیں اور جو دوسروں کو معاف کر دیتے ہیں۔”
عبدالرحمنؓ کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر غلام کی طرف دیکھا، اُس کی جھکی آنکھوں میں سچائی دیکھی، اور بولا:
“سعید! صرف تمہاری خاطر میں اسے معاف کرتا ہوں۔ اب یہ آزاد ہے۔”
غلام روتا ہوا سعیدؓ کے قدموں میں گر گیا۔ اُس نے کہا:
“آپ نے مجھے صرف معاف نہیں کروایا، بلکہ مجھے نیا جنم دیا۔”
ایک نیا رشتہ (A New Bond)
غلام — جو اب آزاد انسان تھا — مدینہ واپس آنا چاہتا تھا۔ اُس نے سعیدؓ سے کہا:
“مجھے آپ کے ساتھ رہنے دیں۔ میں آپ کی خدمت میں رہوں گا، جیسے بیٹا باپ کی خدمت کرتا ہے۔”
سعیدؓ نے کہا:
“میں غلام نہیں رکھتا، مگر اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو ہم بھائیوں کی طرح رہیں گے۔”
یوں وہ دونوں مدینہ واپس آ گئے۔ سعیدؓ نے اُس کا نام امین رکھا — کیونکہ اُس کی وفاداری اور سچائی اب سب کے لیے مثال بن چکی تھی۔
آزمائش کی گھڑی (The Moment of Trial)
ایک سال بعد، مدینہ میں تجارتی قافلوں پر ڈاکوؤں نے حملہ کر دیا۔ سعیدؓ کا ایک قافلہ بھی متاثر ہوا۔ اُن کے ساتھی بھاگ گئے، مگر امین ڈٹا رہا۔ اُس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر قافلے کا مال بچایا۔
جب وہ واپس آیا، اُس کے بازو پر زخم تھا، مگر چہرے پر اطمینان تھا۔ سعیدؓ نے اُس سے کہا:
“امین! تم نے اپنی وفا ثابت کر دی۔ تم نے مال نہیں، میرا ایمان بچایا ہے۔”
امین نے کہا:
“یہ سب آپ کی دعا اور تربیت کا اثر ہے۔ میں نے آپ سے وفا سیکھی ہے۔”
وفا کا انعام (The Reward of Loyalty)
چند سال بعد سعیدؓ بیمار پڑ گئے۔ وہ بستر پر تھے، چہرے پر کمزوری مگر دل میں نور۔ امین اُن کے قدموں میں بیٹھا تھا۔ سعیدؓ نے آہستہ سے کہا:
“امین، میں نے اپنی زندگی میں بہت سے لوگ دیکھے، مگر تم سے بڑھ کر وفادار کوئی نہیں۔”
امین روتے ہوئے بولا:
“آپ میرے لیے باپ، استاد، اور رہنما ہیں۔ اگر وفا سکھانے کا حق کسی کا ہے، تو وہ آپ کا ہے۔”
چند دن بعد سعیدؓ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ امین نے اُن کی قبر کے قریب ایک چھوٹی سی دکان کھولی، جہاں وہ روزانہ صدقہ بانٹتا اور لوگوں کو ایک ہی بات کہتا:
“وفا بندوں کے ساتھ نہیں، اللہ کے ساتھ کرو۔ بندے بدل جاتے ہیں، مگر اللہ نہیں بدلتا۔”
مدینہ کا سبق (The Lesson of Madinah)
وقت گزرتا گیا، مگر سعیدؓ اور امینؓ کی کہانی مدینہ کے کوچہ و بازار میں گونجتی رہی۔ لوگ جب کسی کو وفادار دیکھتے، تو کہتے:
“یہ سعیدؓ اور امینؓ جیسا ہے — جنہوں نے دنیا کو دکھایا کہ وفا دولت سے نہیں، دل سے ہوتی ہے۔”
نتیجہ (Moral of the Story)
وفا ایمان کی پہچان ہے۔ جو اللہ اور اُس کے بندوں کے ساتھ سچائی اور محبت سے پیش آتا ہے، اُس کا انجام ہمیشہ خیر پر ہوتا ہے۔ وفاداری کبھی ضائع نہیں جاتی، چاہے دنیا بھول جائے — اللہ نہیں بھولتا۔
“جو دل سے وفا کرے، اُس کے لیے زمین تنگ نہیں اور آسمان دور نہیں