مدینہ کی صبح (A Morning in Madinah)
مدینہ منورہ کی فضاؤں میں تازگی کی لہر دوڑ رہی تھی۔ سورج کی نرم شعاعیں مسجدِ نبوی کے میناروں پر چمک رہی تھیں۔ فضا میں پرندوں کی چہچہاہٹ، اذانِ فجر کی صدا، اور مومنین کے قدموں کی چاپ تھی۔ ہر شخص اللہ کے حضور سر جھکانے جا رہا تھا۔
انہی بابرکت صبحوں میں ایک نیک دل صحابی، حضرت سعد بن حارثؓ، مسجد کی طرف جا رہے تھے۔ ان کے چہرے پر وقار، مگر دل میں ایک زخم چھپا تھا۔ ان کا بیٹا، عامرؓ، چند ماہ پہلے ایک بیماری میں وفات پا گیا تھا۔ وہ اپنے رب کے فیصلے پر راضی تھے، مگر دل باپ کا تھا — ہر نماز کے بعد ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے۔
وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے:
“صبر کوئی کمزوری نہیں، بلکہ ایمان کی طاقت ہے۔”
.آپ پڑھ سکتے ہیں
دکھ کا پہلا دن (The First Day of Loss)

جس دن حضرت سعدؓ کے بیٹے کی وفات ہوئی، مدینہ کے آسمان پر غم کے بادل چھا گئے۔ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، ان کے قدموں میں بیٹھ گئے، اور رو پڑے۔
انہوں نے عرض کیا:
“یا رسول اللہ ﷺ، میرا دل برداشت نہیں کر رہا۔ میں نے اپنے جگر کے ٹکڑے کو کھو دیا ہے۔”
نبی اکرم ﷺ نے ان کے آنسو صاف کرتے ہوئے فرمایا:
“سعد! اگر تُو صبر کرے گا، تو اللہ تمہارے بیٹے کو جنت میں تیرے لیے انتظار کرنے والا بنا دے گا۔”
پھر آپ ﷺ نے فرمایا:
“قیامت کے دن جب تُو جنت کے دروازے پر پہنچے گا، تیرا بیٹا تجھے پہچان کر تجھے وہاں لے جائے گا۔”
یہ سن کر حضرت سعدؓ کے دل کو سکون ملا۔ انہوں نے عہد کیا کہ وہ صبر کے دامن کو کبھی نہ چھوڑیں گے۔
آزمائش کی شدت (The Trial Grows Harder)

کچھ عرصہ بعد مدینہ میں قحط آیا۔ پانی کم، کھجوریں خشک، اور بھوک عام ہو گئی۔ حضرت سعدؓ کے پاس کچھ ہی کھجوریں بچی تھیں۔ ان کی بیوی کمزور ہو چکی تھی۔ مگر وہ پھر بھی ہر روز اللہ کا شکر ادا کرتے۔
ایک دن ایک بھوکا مسافر دروازے پر آیا اور کہا:
“اے سعد! میں تین دن سے بھوکا ہوں، کیا کچھ کھانے کو مل سکتا ہے؟”
سعدؓ نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔ گھر میں صرف اتنی کھجوریں تھیں جو ان کی بیوی کے علاج کے لیے رکھی گئی تھیں۔
بیوی نے آہستہ کہا:
“یہ ہماری آخری کھجوریں ہیں۔”
سعدؓ نے جواب دیا:
“اگر یہ مسافر بھوکا رہا، تو ہم کھا کر کیسے سکون پائیں گے؟ صبر کر لو، اللہ بہتر عطا کرے گا۔”
انہوں نے وہ کھجوریں مسافر کو دے دیں۔ رات خالی پیٹ گزری، مگر دل مطمئن تھا۔
آسمانی انعام (A Heavenly Reward)
اگلی صبح جب وہ فجر کے بعد مسجدِ نبوی گئے، نبی اکرم ﷺ نے انہیں بلایا اور فرمایا:
“اے سعد! اللہ تعالیٰ نے تمہارے صبر اور احسان کو دیکھا ہے۔ جبرائیلؑ میرے پاس آئے اور خوشخبری دی ہے کہ تمہارے گھر میں برکت نازل ہوگی۔”
حضرت سعدؓ حیران رہ گئے۔ جب وہ گھر واپس آئے، تو دیکھا کہ ان کے دروازے کے پاس ایک اونٹ کھڑا ہے، جس پر کھجوروں کے تھیلے لدے ہیں۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ یہ کہاں سے آیا۔
ان کی بیوی نے کہا:
“یہ اللہ کی طرف سے رزق ہے۔ ہم نے صبر کیا، اور اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا۔”
صبر کی حقیقت (The True Meaning of Patience)
حضرت سعدؓ اکثر فرمایا کرتے تھے:
“صبر یہ نہیں کہ آنسو نہ بہیں، بلکہ یہ ہے کہ دل میں شکوہ نہ ہو۔”
وہ مسجد کے صحن میں بیٹھ کر نوجوانوں کو سکھاتے کہ مصیبت میں گھبرانا نہیں چاہیے۔ کہتے:
“جس رب نے دکھ دیا ہے، وہی سکون دے گا۔ ہر زخم کے پیچھے کوئی خیر چھپی ہوتی ہے۔”
ایک دن ایک نوجوان ان کے پاس آیا اور کہا:
“سعدؓ، میرا باپ فوت ہو گیا ہے، میں برداشت نہیں کر پا رہا۔”
سعدؓ نے نرمی سے کہا:
“بیٹے، میں نے بھی اپنا بیٹا کھویا تھا۔ مگر میں نے اللہ پر بھروسہ رکھا۔ آج میں سکون میں ہوں، کیونکہ صبر کے بعد رب کی قربت بڑھ جاتی ہے۔”
آزمائشِ صبر (Another Test of Patience)
کچھ سال بعد جب اسلام کے دشمنوں نے مدینہ کے قریب حملہ کیا، تو سعدؓ بھی فوج میں شامل ہوئے۔ جنگ کے دوران ان کے کندھے پر شدید زخم آیا۔ وہ زمین پر گرے تو صحابہ نے کہا:
“سعدؓ! ہم تمہیں واپس لے چلتے ہیں۔”
مگر انہوں نے کہا:
“نہیں، میں نے صبر کے ساتھ جینا سیکھا ہے، اب صبر کے ساتھ جان دینا چاہتا ہوں۔”
انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا:
“یا اللہ! تو گواہ رہ، میں راضی ہوں تیرے ہر فیصلے پر۔”
ان کے ہونٹوں پر یہ الفاظ تھے جب ان کی روح پرواز کر گئی۔
نبی اکرم ﷺ کا فرمان (The Prophet’s Words)
جب حضرت سعدؓ کی شہادت کی خبر نبی اکرم ﷺ کو ملی، تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
“سعدؓ نے صبر کا حق ادا کیا۔ اللہ کی رحمت اس پر نازل ہو۔ جو دنیا میں صبر کرتا ہے، اس کے لیے جنت میں بلند درجات ہیں۔”
پھر آپ ﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا:
“صبر ایمان کا نصف ہے۔ جو صبر کرتا ہے، وہ اللہ کے قریب ہو جاتا ہے۔”
خواب کی بشارت (A Dream of Glad Tidings)
چند مہینے بعد حضرت بلالؓ نے ایک خواب دیکھا۔ انہوں نے دیکھا کہ جنت کے ایک باغ میں حضرت سعدؓ اپنے بیٹے عامرؓ کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ ان کے چہروں پر نور ہے، اور وہ کہہ رہے ہیں:
“صبر کے بدلے میں اللہ نے ہمیں دائمی خوشی عطا کی ہے۔ دنیا میں آنسو بہائے، مگر یہاں ہر آنسو کے بدلے میں مسکراہٹ ملی ہے۔”
جب حضرت بلالؓ نے یہ خواب نبی اکرم ﷺ کو سنایا، تو آپ ﷺ مسکرا کر فرمانے لگے:
“یہی صبر کا انعام ہے۔ اللہ اپنے صابر بندوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔”
صبر کی حقیقت پر ایک نصیحت (The Essence of Patience)
ایک دن مسجد میں ایک صحابی نے پوچھا:
“یا رسول اللہ ﷺ، صبر کا سب سے اعلیٰ درجہ کیا ہے؟”
آپ ﷺ نے فرمایا:
“جب مصیبت آئے اور زبان پر صرف یہ الفاظ ہوں:
‘انا للہ وانا الیہ راجعون’
تو سمجھ لو کہ ایمان کامل ہو گیا۔”
زندگی کا سبق (Moral of the Story)
صبر انسان کے ایمان کا زیور ہے۔ یہ وہ قوت ہے جو غم کو عبادت میں بدل دیتی ہے۔ اگر انسان اللہ کے فیصلے پر راضی رہے، تو ہر دکھ رحمت میں بدل جاتا ہے۔
“اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو، جو مصیبت کے وقت کہتے ہیں: بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔”
(القرآن – البقرہ: 155–156)
آخری پیغام (Final Message)
صبر کوئی کمزوری نہیں، بلکہ یہ ایمان کی جڑ ہے۔
حضرت سعدؓ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ:
“جب دل ٹوٹ جائے، تب بھی زبان پر شکر ہو۔ جب دنیا منہ موڑ لے، تب بھی اللہ پر بھروسہ ہو۔”
صبر کے دروازے سے ہی جنت کی راہ گزرتی ہے — اور وہی راہ ان بندوں کے لیے ہے جو ہر دکھ میں بھی “الحمدللہ” کہنا نہیں بھولتے۔