ابتدائی دورِ مدینہ (Early Days in Madinah)
مدینہ منورہ کی گلیوں میں ایک نرم روشنی پھیل رہی تھی۔ سورج کی کرنیں مسجدِ نبوی کے مناروں پر پڑ کر جگمگا رہی تھیں۔ اذانِ فجر کی صدا نے فضا کو ایمان کی خوشبو سے بھر دیا تھا۔ ہر دل خشوع و خضوع کے ساتھ رب کے حضور جھکنے کو بے تاب تھا۔ انہی بابرکت دنوں میں ایک نوجوان انصاری، حضرت نعمانؓ، نبی اکرم ﷺ کے عاشقوں میں شامل تھے۔ ان کا دل نہایت نرم، طبیعت عاجز، اور عادت احسان و سخاوت سے بھری ہوئی تھی۔
نعمانؓ کا معمول تھا کہ ہر صبح مسجدِ نبوی میں نماز ادا کرنے کے بعد کسی نہ کسی ضرورت مند کو ڈھونڈتے، تاکہ اس کی مدد کرسکیں۔ ان کے گھر میں زیادہ مال و دولت نہ تھی، مگر دل میں احسان کا خزانہ بھرا ہوا تھا۔ وہ اکثر کہتے:
“احسان وہ نہیں جو دولت سے ہو، بلکہ وہ ہے جو دل کی نرمی سے کیا جائے۔”
.آپ پڑھ سکتے ہیں
ایک اجنبی کی آمد (The Arrival of a Stranger)

ایک دن جب سورج نصف النہار پر تھا، مدینہ کے بازار میں ایک اجنبی شخص داخل ہوا۔ وہ راستے سے تھکا ہوا، پیاسا اور بھوکا لگ رہا تھا۔ اس کے کپڑے سفر کی دھول سے اٹے ہوئے تھے۔ وہ دروازوں پر دستک دیتا مگر کوئی جواب نہ دیتا۔ لوگ اپنے کاموں میں مصروف تھے۔
اسی وقت حضرت نعمانؓ وہاں سے گزرے۔ انہوں نے دیکھا کہ اجنبی کے چہرے پر مایوسی کے آثار ہیں۔ انہوں نے آگے بڑھ کر کہا:
“السلام علیکم بھائی، تم مسافر ہو؟”
اجنبی نے کمزور آواز میں جواب دیا:
“ہاں، کئی دنوں سے سفر میں ہوں۔ نہ کھانا ملا، نہ آرام۔ مدینہ پہنچا تو دل کو سکون ملا، مگر جسم کمزور ہے۔”
حضرت نعمانؓ نے مسکرا کر کہا:
“آؤ میرے گھر چلو، مدینہ میں تم اکیلے نہیں ہو۔”
مہمان نوازی کا امتحان (The Test of Generosity)
نعمانؓ اپنے مہمان کو گھر لے آئے۔ بیوی نے دیکھا تو پوچھا:
“یہ کون ہیں؟”
انہوں نے کہا:
“اللہ کا بندہ، بھوکا اور تھکا ہوا ہے۔”
بیوی نے آہستہ سے کہا:
“ہمارے گھر میں تو صرف اتنا کھانا ہے جو بچوں کے لیے رکھا ہے۔”
نعمانؓ نے جواب دیا:
“اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ ‘جو کسی مسلمان کو کھانا کھلائے، اللہ اسے جنت کے میوے کھلائے گا’۔ آج ہمارا امتحان ہے۔”
انہوں نے بچوں کو سلا دیا اور چراغ بجھا دیا تاکہ مہمان سمجھے کہ سب کھا رہے ہیں۔ خود بھوکے رہ کر سارا کھانا مہمان کو پیش کردیا۔
صبح جب وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے مسکرا کر فرمایا:
“اے نعمان! رات تمہارے گھر جو ہوا، اللہ تعالیٰ نے آسمان والوں کے سامنے فخر کے ساتھ ذکر کیا۔”
حضرت نعمانؓ کے آنسو بہنے لگے۔ ان کے دل میں یقین پیدا ہوا کہ احسان کبھی ضائع نہیں جاتا۔
وقت کا پلٹنا (When Time Turns)

کچھ سال بعد مدینہ میں قحط پڑ گیا۔ کھجوریں کم، پانی نایاب، اور اناج مہنگا ہو گیا۔ لوگ سخت پریشانی میں مبتلا تھے۔ نعمانؓ کے پاس بھی کچھ نہ رہا۔ کئی دنوں سے ان کے بچے بھوکے تھے۔ مگر ان کا ایمان کمزور نہ ہوا۔ وہ ہر دن دعا کرتے:
“یا اللہ! جس طرح ہم نے تیری رضا کے لیے دوسروں پر احسان کیا، تو آج اپنا احسان ہم پر فرما۔”
ایک دن دوپہر کو دروازے پر دستک ہوئی۔ نعمانؓ باہر نکلے تو دیکھا، ایک اونٹ پر سامان لدا ہوا ہے۔ ایک خوش لباس شخص اونٹ سے اترا اور کہا:
“کیا آپ نعمانؓ ہیں؟”
“جی، میں ہی ہوں۔”
اس شخص نے کہا:
“میں وہی مسافر ہوں جسے آپ نے سالوں پہلے پناہ دی تھی۔ اس وقت میں مفلس تھا، آج اللہ نے مجھے مالدار کردیا ہے۔ میں مکہ و شام کے درمیان تجارت کرتا ہوں۔ یہ تمام سامان میں نے آپ کے لیے لایا ہوں۔”
نعمانؓ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ کر کہنے لگے:
“اے رب! تو ہی احسان کا بدلہ دینے والا ہے۔”
نبی اکرم ﷺ کی تعلیم (The Prophet’s Teaching)
اسی شام حضرت نعمانؓ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ سنایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اے نعمان! یاد رکھو، احسان وہ بیج ہے جو کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ اللہ اسے ایسے وقت اگاتا ہے جب بندہ ناامید ہو چکا ہو۔”
پھر آپ ﷺ نے فرمایا:
“جو دوسروں پر رحم کرتا ہے، اللہ اس پر رحم کرتا ہے۔ جو دوسروں پر احسان کرتا ہے، اللہ اس کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔”
نعمانؓ کا کردارِ احسان (The Spirit of Kindness)
نعمانؓ نے اس واقعے کے بعد اپنی زندگی کا مقصد ہی بدل لیا۔ اب وہ ہر روز کمزوروں، مسافروں، یتیموں اور غریبوں کی تلاش میں رہتے۔ ان کا دروازہ ہر ضرورت مند کے لیے کھلا رہتا۔ وہ کہا کرتے تھے:
“اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تم پر احسان کرے، تو پہلے تم بندوں پر احسان کرو۔”
ان کے کردار کی نرمی نے مدینہ کے کئی دلوں کو بدل دیا۔ ایک یہودی شخص، جو پہلے ان کا مذاق اڑاتا تھا، ایک دن آ کر مسلمان ہو گیا۔ اس نے کہا:
“میں نے تیرے چہرے پر نور دیکھا جب تو بھوکا رہ کر کسی کو کھانا دیتا ہے۔ میں نے سمجھا کہ یہ نور کسی بادشاہ کا نہیں، بلکہ نبی کے پیروکار کا ہے۔”
احسان کی برکت (The Blessing of Kindness)
سالوں بعد جب حضرت نعمانؓ کے بال سفید ہو چکے تھے، وہ اکثر نوجوانوں کو نصیحت کرتے:
“احسان صرف دولت سے نہیں ہوتا۔ ایک نرم لفظ، ایک دعا، ایک مسکراہٹ بھی احسان ہے۔ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا احسان وہ ہے جو بغیر کسی غرض کے کیا جائے۔”
ایک دن فجر کی نماز کے بعد وہ مسجدِ نبوی کے ستون سے ٹیک لگا کر خاموش بیٹھے تھے۔ ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، اور زبان پر یہ الفاظ:
“یا اللہ! میں نے تیری رضا کے لیے احسان کیا، تو نے اپنی رحمت سے بدلہ دیا۔ تو سب سے بڑا محسن ہے۔”
اسی لمحے وہ اپنے رب سے جا ملے۔ مدینہ کے آسمان پر سورج طلوع ہوا تو لوگوں نے کہا:
“آج ایک سچا محسن، ایک سچا خادمِ امت، اپنے رب سے جا ملا۔”
سبقِ زندگی (Moral of the Story)
احسان وہ عمل ہے جو انسان کے دل کو نرم کرتا ہے اور اللہ کی رحمت کو کھینچ لاتا ہے۔ کبھی بھی نیکی کو چھوٹا نہ سمجھو، کیونکہ وہ نیکی ایک دن تمہاری مشکل آسان کر سکتی ہے۔
“اور احسان کرو، بے شک اللہ محسنوں کو پسند کرتا ہے۔”
(القرآن – البقرہ: 195)