حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی قرآنِ مجید میں سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ پوری ایک سورۃ یعنی سورۃ یوسف ان کے حالاتِ زندگی پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کو ’’احسن القصص‘‘ یعنی سب سے بہترین کہانی قرار دیا۔ یہ کہانی نہ صرف ایک نبی کی سیرت ہے بلکہ اس میں صبر، ایمان، عزم، پاکدامنی، اللہ پر بھروسہ اور انجامِ کار کامیابی کے وہ اسباق پوشیدہ ہیں جو ہر دور کے انسان کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
اس تفصیلی مضمون میں ہم حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی کے تمام اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے۔
آپ اسے پڑھ سکتے ہیں۔
حضرت یونس علیہ السلام کی کہانی
حضرت صالح علیہ السلام کی کہانی
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مکمل کہانی
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مکمل کہانی
ابتدائی تعارف (Introduction)

حضرت یوسف علیہ السلام حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے، جو حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے تھے۔ اس لحاظ سے حضرت یوسف علیہ السلام ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جس میں نبوت اور ہدایت کا نور مسلسل چمکتا رہا۔
قرآن میں آیا ہے:
“اور ہم نے ابراہیم کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھ دی۔” (العنکبوت: 27)
حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ نے غیر معمولی حسن، عقل، حلم، اور پاکیزگی عطا کی۔ ان کی پوری زندگی ایک مسلسل آزمائش اور کامیابی کی داستان ہے۔
بچپن اور خواب (Childhood & Dream)
بچپن ہی سے حضرت یوسف علیہ السلام میں غیر معمولی صلاحیتیں نمایاں تھیں۔ ایک دن انہوں نے اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام سے ایک خواب بیان کیا:
“ابا جان! میں نے خواب میں گیارہ ستارے، سورج اور چاند کو دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔” (یوسف: 4)
حضرت یعقوب علیہ السلام سمجھ گئے کہ یہ خواب یوسف علیہ السلام کی عظمت اور نبوت کی علامت ہے، لیکن انہوں نے بیٹے کو تاکید کی کہ بھائیوں کو یہ خواب نہ بتانا کیونکہ وہ حسد میں آ کر کچھ برا کر سکتے ہیں۔
بھائیوں کا حسد اور کنویں میں ڈال دینا (Jealousy & The Well Incident)
حضرت یوسف علیہ السلام کے گیارہ بھائی تھے۔ والد انہیں سب سے زیادہ محبت کرتے تھے کیونکہ یوسف اور ان کے چھوٹے بھائی بنیامین کم عمر اور نہایت نیک تھے۔ یہی بات بڑے بھائیوں کو ناگوار گزری اور ان کے دل میں حسد پیدا ہوا۔
انہوں نے کہا:
“یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں، حالانکہ ہم طاقتور ہیں۔ یقیناً ہمارا باپ کھلی گمراہی میں ہے۔” (یوسف: 8)
انہوں نے فیصلہ کیا کہ یوسف کو کسی نہ کسی طرح راستے سے ہٹا دیا جائے۔ آخرکار انہوں نے بہانہ بنایا اور یوسف کو کھیلنے کے لیے لے گئے۔ وہاں ایک گہرے کنویں میں ڈال دیا اور قمیص پر جھوٹا خون لگا کر واپس آ گئے کہ بھیڑیا یوسف کو کھا گیا ہے۔
یعقوب علیہ السلام نے دل سے محسوس کیا کہ یہ جھوٹ ہے لیکن صبر کیا اور اللہ سے مدد مانگی۔
مصر کا سفر اور غلامی (Journey to Egypt & Slavery)
اللہ کی تقدیر کچھ اور تھی۔ قافلے والے کنویں کے قریب سے گزرے، یوسف علیہ السلام کو زندہ پایا اور انہیں غلام بنا کر مصر لے گئے۔ وہاں ایک عالی شان حکمران (عزیزِ مصر) نے انہیں خرید لیا اور اپنی بیوی کے سپرد کیا۔
یوسف علیہ السلام کی شخصیت، حسن اور اخلاق نے سب کو متاثر کیا۔ عزیزِ مصر کی بیوی (زلیخا) بھی ان پر دل سے فدا ہو گئی۔
زلیخا کا فتنہ اور قید (Trial of Zulaikha & Imprisonment)
زلیخا نے یوسف علیہ السلام کو گناہ کی دعوت دی لیکن انہوں نے اللہ کی پناہ مانگی اور انکار کر دیا۔ قرآن میں ہے:
“یوسف نے کہا: میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں، بے شک میرا رب (یعنی مالک) نے مجھے عزت دی ہے۔ بے انصاف کامیاب نہیں ہوتے۔” (یوسف: 23)
زلیخا نے یوسف کو قابو کرنے کی کوشش کی لیکن وہ دروازے کی طرف بھاگے۔ قمیص پھٹ گئی اور معاملہ عزیز کے سامنے آ گیا۔ گواہی نے سچائی کو ثابت کر دیا کہ قصور زلیخا کا ہے۔
لیکن معاشرتی دباؤ کی وجہ سے یوسف علیہ السلام کو قید خانے میں ڈال دیا گیا۔
قید خانہ اور خوابوں کی تعبیر (Prison & Interpretation of Dreams)
قید خانے میں بھی یوسف علیہ السلام نے اپنی پاکیزگی اور نیکی کا سکہ جما دیا۔ قیدی ان کے اخلاق سے متاثر ہوئے۔ دو قیدیوں نے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی۔ یوسف علیہ السلام نے کہا:
“جو رزق تمہیں دیا جاتا ہے، وہ آنے سے پہلے میں تمہیں اس کی خبر دیتا ہوں۔ یہ میرے رب نے مجھے سکھایا ہے۔” (یوسف: 37)
انہوں نے ایک قیدی کے آزاد ہونے اور دوسرے کے انجام کی پیش گوئی درست بتائی۔
بادشاہ کا خواب اور یوسف علیہ السلام کی رہائی (King’s Dream & Yusuf’s Release)
مصر کے بادشاہ نے ایک خواب دیکھا کہ سات موٹی گائیں ہیں جنہیں سات دُبلی گائیں کھا رہی ہیں، اور سات سبز بالیاں اور سات خشک ہیں۔ کوئی اس خواب کی تعبیر نہ بتا سکا۔
یوسف علیہ السلام کو یاد کیا گیا۔ انہوں نے فرمایا:
“سات سال خوب غلہ کاشت ہوگا، پھر سات سال قحط پڑے گا، اور اس کے بعد ایک سال میں بارش ہوگی اور لوگ خوشحال ہوں گے۔”
یہ تعبیر درست نکلی۔ بادشاہ نے یوسف کو رہائی دی اور انہیں مصر کا وزیر خزانہ بنا دیا۔
اقتدار اور بھائیوں سے ملاقات (Authority & Reunion with Brothers)

قحط کے زمانے میں یوسف علیہ السلام کے بھائی غلہ لینے مصر آئے۔ انہوں نے یوسف کو نہ پہچانا لیکن یوسف نے انہیں پہچان لیا۔ انہوں نے بنیامین کو بھی لانے کا کہا۔
بعد میں جب بنیامین آیا تو یوسف نے ایک تدبیر سے اسے روک لیا۔ آخرکار پوری حقیقت کھل گئی اور بھائی نادم ہو کر معافی مانگنے لگے۔
یوسف علیہ السلام نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا:
“آج تم پر کوئی الزام نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔” (یوسف: 92)
والد سے ملاقات اور خواب کی تعبیر (Reunion with Father & Fulfillment of Dream)
آخرکار حضرت یعقوب علیہ السلام بھی مصر آئے اور حضرت یوسف سے ملے۔ یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور بھائیوں نے سجدہ کیا۔ اس طرح بچپن کا خواب پورا ہو گیا۔
“یہ ہے میرے اس خواب کی تعبیر جو پہلے میں نے دیکھی تھی، اور میرے رب نے اسے سچ کر دکھایا۔” (یوسف: 100)
حضرت یوسف علیہ السلام کی وفات (Death of Prophet Yusuf A.S)
مفسرین کے مطابق حضرت یوسف علیہ السلام کی وفات تقریباً 110 سال کی عمر میں ہوئی۔ آپ کو مصر میں دفن کیا گیا، بعد میں آپ کے جسم کو فلسطین منتقل کر دیا گیا۔
حضرت یوسف علیہ السلام سے حاصل ہونے والے اسباق (Lessons from the Life of Yusuf A.S)
-
حسد انسان کو برائی کی طرف لے جاتا ہے۔
-
مشکلات میں صبر کامیابی کی کنجی ہے۔
-
پاکدامنی سب سے بڑی عزت ہے۔
-
اللہ پر بھروسہ کرنے والا کبھی ناکام نہیں ہوتا۔
-
معافی اور درگزر سب سے بڑی طاقت ہے۔
-
آزمائش کے بعد اللہ ضرور کامیابی عطا کرتا ہے۔
عمومی سوالات (FAQs about Prophet Yusuf A.S)
سوال 1: حضرت یوسف علیہ السلام کس کے بیٹے تھے؟
جواب: حضرت یعقوب علیہ السلام کے۔
سوال 2: حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں کیوں ڈالا گیا؟
جواب: بھائیوں کے حسد کی وجہ سے۔
سوال 3: حضرت یوسف علیہ السلام کو کیا معجزہ عطا ہوا تھا؟
جواب: خوابوں کی صحیح تعبیر بتانے کا۔
سوال 4: کیا حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو معاف کر دیا تھا؟
جواب: جی ہاں، انہوں نے درگزر کیا۔
نتیجہ (Conclusion)
حضرت یوسف علیہ السلام کی کہانی صبر، ایمان، پاکیزگی اور معافی کی سب سے روشن مثال ہے۔ بچپن سے لے کر اقتدار تک وہ مسلسل آزمائشوں سے گزرے لیکن کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوئے۔ آخرکار اللہ نے انہیں عزت، اقتدار اور خواب کی تعبیر عطا کی۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کی زندگی میں مشکلات آئیں گی لیکن جو بندہ اللہ پر بھروسہ کرے، گناہ سے بچے، صبر کرے اور دوسروں کو معاف کرے، وہ آخرکار کامیاب ہو کر نکلتا ہے۔