حضرت یونس علیہ السلام کی کہانی – The Complete Story of Prophet Yunus (A.S)

حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک تھے۔ آپ کا ذکر قرآنِ مجید میں کئی جگہ آیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی پوری زندگی کو صبر، دعا اور رجوع الی اللہ کی ایک عظیم مثال بنا دیا۔ آپ کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مشکلات میں بھی اللہ کی طرف رجوع کرنے سے نجات ملتی ہے اور دعا مومن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔

آپ اسے پڑھ سکتے ہیں۔

حضرت صالح علیہ السلام کی کہانی

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مکمل کہانی

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مکمل کہانی

 


نسب اور تعارف (Introduction & Lineage)

 

Story of Prophet Yunus (A.S)

حضرت یونس علیہ السلام کا پورا نام یونس بن متّی تھا۔ آپ کا تعلق بنی اسرائیل کے خاندان سے تھا اور اللہ نے آپ کو نینویٰ (موجودہ عراق کے علاقے موصل کے قریب) کے لوگوں کی ہدایت کے لیے نبی بنا کر بھیجا۔

قرآنِ مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کو ذوالنون (مچھلی والے) بھی کہا گیا ہے۔


نینویٰ کے لوگ اور ان کی ہدایت (The People of Nineveh)

نینویٰ کے لوگ بت پرستی میں مبتلا تھے اور اللہ کو بھول چکے تھے۔ حضرت یونس علیہ السلام نے انہیں اللہ کی عبادت کی طرف بلایا اور سمجھایا کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ لیکن وہ لوگ نہ مانے، بلکہ آپ کا مذاق اڑایا۔

آپ نے ان کو بار بار سمجھایا لیکن وہ اپنی ضد اور گمراہی پر قائم رہے۔ آخرکار آپ ناراض ہو گئے اور بستی چھوڑ کر چلے گئے۔


اللہ کا حکم اور حضرت یونس علیہ السلام کی آزمائش (Allah’s Test)

 

Story of Prophet Yunus (A.S)

اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ تھی کہ یونس علیہ السلام اپنی قوم کے پاس مزید صبر کے ساتھ رہیں، مگر آپ جلدی میں اپنی بستی چھوڑ گئے۔ یہ اللہ کی نافرمانی نہیں تھی، بلکہ جلدبازی تھی جس پر اللہ نے آپ کو آزمایا۔

جب یونس علیہ السلام بستی چھوڑ کر گئے تو ایک کشتی پر سوار ہو گئے۔ کشتی سمندر کے بیچ میں پہنچی تو سخت طوفان آگیا۔ لوگوں نے کہا: “کشتی کو ہلکا کرنے کے لیے کسی کو سمندر میں ڈالنا ہوگا۔” قرعہ اندازی ہوئی تو یونس علیہ السلام کا نام نکلا۔ تین بار قرعہ ڈالنے پر بھی آپ ہی کا نام آیا۔ آپ نے اللہ پر بھروسہ کیا اور سمندر میں کود گئے۔


مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس علیہ السلام (In the Belly of the Fish)

اللہ کے حکم سے ایک بہت بڑی مچھلی نے یونس علیہ السلام کو نگل لیا۔ مگر اللہ نے حکم دیا کہ ان کا جسم محفوظ رہے۔ اس طرح یونس علیہ السلام زندہ سلامت مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے۔

وہاں اندھیروں میں (رات کا اندھیرا، سمندر کا اندھیرا اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا) آپ نے اللہ کی طرف رجوع کیا اور مشہور دعا پڑھی جسے آج بھی “دعائے یونس” کہا جاتا ہے:

“لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ”
(ترجمہ: تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے ہوں)۔ (الأنبياء: 87)

یہ دعا اتنی عظیم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“جو شخص اس دعا کو مانگے گا، اللہ اس کی دعا قبول کرے گا۔” (ترمذی)


اللہ کی رحمت اور نجات (Mercy & Rescue)

حضرت یونس علیہ السلام نے مسلسل اللہ سے دعا کی اور اپنی غلطی پر ندامت ظاہر کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور مچھلی کو حکم دیا کہ انہیں خشکی پر سلامت اُگل دے۔

قرآن کہتا ہے:

“اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے۔” (الصافات: 143-144)

اللہ نے آپ کو نجات دی اور ایک درخت (کدو کا پودا) اگایا تاکہ آپ کا جسم سایہ اور غذا حاصل کرے۔


قوم کا ایمان لانا (The Faith of the People)

ادھر جب یونس علیہ السلام کی قوم پر اللہ کا عذاب قریب آیا تو وہ سب اپنے گھروں سے نکلے اور سچے دل سے اللہ سے توبہ کی۔ انہوں نے ایمان قبول کیا اور اللہ نے ان سے عذاب ٹال دیا۔

یہی واحد قوم تھی جس نے اپنے نبی کی غیر موجودگی میں ایمان قبول کیا اور اجتماعی طور پر نجات پائی۔


حضرت یونس علیہ السلام کی خصوصیات (Qualities of Yunus A.S)

  1. رجوع الی اللہ – آزمائش میں سب سے پہلے اللہ کی طرف پلٹے۔

  2. توبہ و استغفار – اپنی جلدبازی کو اپنی خطا سمجھا اور معافی مانگی۔

  3. صبر و دعا – مچھلی کے پیٹ میں بھی امید نہ چھوڑی۔

  4. محنت اور دعوت – اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا۔


حضرت یونس علیہ السلام کی دعا (The Supplication of Yunus A.S)

ان کی سب سے مشہور دعا ہے:

لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ

یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکل وقت میں اللہ کی وحدانیت کو یاد کرنا اور اپنی خطا کو مان لینا نجات کا ذریعہ ہے۔


اسباق اور نصیحتیں (Lessons & Morals)

  1. انسان کو اللہ کے حکم پر صبر کرنا چاہیے۔

  2. جلد بازی کبھی کبھار بڑی آزمائش کا باعث بن جاتی ہے۔

  3. مشکل وقت میں اللہ کو پکارنا ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔

  4. اجتماعی توبہ عذاب کو ٹال سکتی ہے۔

  5. ہر حال میں اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے۔


عمومی سوالات (FAQs about Prophet Yunus A.S)

سوال 1: حضرت یونس علیہ السلام کہاں کے رہنے والے تھے؟
جواب: نینویٰ (موجودہ عراق کے علاقے موصل کے قریب)۔

سوال 2: مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو کیوں نگلا؟
جواب: یہ اللہ کی آزمائش تھی تاکہ وہ صبر اور دعا کی مثال بنیں۔

سوال 3: حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں کون سی دعا پڑھی؟
جواب: “لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ”۔

سوال 4: حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے کیا کیا؟
جواب: انہوں نے اجتماعی طور پر ایمان قبول کیا اور اللہ نے ان سے عذاب ٹال دیا۔


نتیجہ (Conclusion)

حضرت یونس علیہ السلام کی کہانی ایمان والوں کے لیے صبر، دعا اور توبہ کی عظیم مثال ہے۔ وہ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ انسان کتنا ہی مشکل وقت میں کیوں نہ ہو، اگر اللہ کی طرف رجوع کرے تو اللہ اپنی رحمت سے نجات دے دیتا ہے۔ ان کی دعا آج بھی ہر مسلمان کے لیے مشکل وقت میں سب سے بڑا سہارا ہے۔

Leave a Comment