حضرت صالح علیہ السلام کی کہانی – The Story of Prophet Saleh

حضرت صالح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک تھے، جنہیں قومِ ثمود کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا۔ ان کی زندگی اور ان کی قوم کی تباہی قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر بیان کی گئی ہے، خاص طور پر سورۃ الاعراف، سورۃ ہود، سورۃ الشعراء اور سورۃ الشمس میں۔ ان کی کہانی ہمیں صبر، توحید، اللہ پر بھروسہ اور نافرمانی کے انجام کے بارے میں سبق دیتی ہے۔

آپ اسے پڑھ سکتے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مکمل کہانی

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مکمل کہانی


حضرت صالح علیہ السلام کا تعارف (Introduction of Prophet Saleh A.S)

حضرت صالح علیہ السلام کا تعلق قومِ ثمود سے تھا جو قومِ عاد کے بعد عرب کے شمالی علاقے “الحجر” (مدائن صالح، موجودہ سعودی عرب) میں آباد تھی۔ وہ لوگ اپنی مہارت، طاقت اور بڑے بڑے پہاڑ تراش کر گھر بنانے کے لیے مشہور تھے۔

حضرت صالح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا فرمائی تاکہ وہ اپنی قوم کو شرک اور بت پرستی سے نکال کر توحید کی طرف بلائیں۔

 The Story of Prophet Saleh


قومِ ثمود کا پس منظر (Background of the People of Thamud)

قومِ ثمود بڑے مضبوط جسم اور ذہانت والے لوگ تھے۔ وہ پہاڑوں کو تراش کر خوبصورت محلات اور قلعے بناتے تھے۔ قرآن کہتا ہے:

“تم پہاڑوں کو تراش کر بڑے بڑے مکان بناتے ہو گویا کہ تم ہمیشہ رہو گے۔” (الشعراء: 149)

ان کی زندگی آسائشوں میں گزرتی تھی، لیکن وہ اللہ کو بھول گئے اور بتوں کی پوجا کرنے لگے۔


حضرت صالح علیہ السلام کی دعوت (The Call of Prophet Saleh A.S)

حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت کی طرف بلایا اور فرمایا:

“اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔” (الاعراف: 73)

انہوں نے انہیں یاد دلایا کہ اللہ نے انہیں نعمتیں دیں، زمین کو آباد کرنے کی طاقت دی اور انہیں عزت بخشی۔ لیکن وہ لوگ اپنی ضد پر قائم رہے اور کہا:

“صالح! تم اس سے پہلے ہمارے درمیان ایک امید تھے، کیا تم ہمیں اپنے آبا و اجداد کے معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو؟” (ھود: 62)


معجزہ – اللہ کی اونٹنی (The Miracle of the She-Camel)

 

 The Story of Prophet Saleh

قومِ ثمود نے کہا کہ اگر صالح واقعی اللہ کے نبی ہیں تو ہمیں ایک نشانی دکھائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پہاڑ سے ایک خاص اونٹنی نکالی جائے۔ اللہ نے حضرت صالح علیہ السلام کی دعا قبول کی اور معجزے کے طور پر ایک عظیم اونٹنی ظاہر ہوئی۔

حضرت صالح علیہ السلام نے کہا:

“یہ اللہ کی اونٹنی ہے، اسے اللہ کی زمین میں آزاد چھوڑ دو۔ یہ جہاں چاہے چر لے، اسے نقصان نہ پہنچانا، ورنہ تم پر سخت عذاب آئے گا۔” (ھود: 64)

اونٹنی اللہ کی نشانی تھی، وہ ایک دن پانی پیتی اور دوسرے دن پوری قوم کے جانور پانی پیتے۔


قوم کی نافرمانی (Disobedience of the People)

ابتدا میں لوگ حیران ہوئے اور کچھ ایمان لے آئے، لیکن اکثر نے انکار کیا۔ انہیں یہ بات گوارا نہ ہوئی کہ ایک اونٹنی ان کے ساتھ پانی بانٹے۔ آخرکار انہوں نے سازش کی اور ایک گروہ نے مل کر اللہ کی اونٹنی کو قتل کر دیا۔

قرآن بیان کرتا ہے:

“انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی، اور کہا: اے صالح! وہ عذاب لے آؤ جس کا تم ہمیں وعدہ دیتے ہو اگر تم واقعی رسولوں میں سے ہو۔” (الاعراف: 77)


عذاب کی وعید (Warning of Punishment)

حضرت صالح علیہ السلام نے کہا:

“تمہیں تین دن کی مہلت ہے، اس کے بعد اللہ کا عذاب آئے گا۔” (ھود: 65)

تین دن بعد اللہ کا عذاب آیا۔ ایک خوفناک چیخ اور زلزلے نے انہیں ہلاک کر دیا۔ قرآن کہتا ہے:

“پس انہیں ایک سخت کڑک نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے۔” (ھود: 67)

اس طرح پوری قوم صفحۂ ہستی سے مٹ گئی۔


حضرت صالح علیہ السلام اور ایمان والے محفوظ رہے (The Believers Were Saved)

اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو عذاب سے بچا لیا۔ وہ سلامت نکل گئے، لیکن باقی پوری قوم تباہ ہو گئی۔


حضرت صالح علیہ السلام کی خصوصیات (Qualities of Prophet Saleh A.S)

  1. دعوتِ توحید – انہوں نے اپنی قوم کو صرف اللہ کی عبادت کی طرف بلایا۔

  2. صبر اور ہمت – مسلسل انکار اور مذاق کے باوجود دعوت جاری رکھی۔

  3. سچائی اور امانت – انہوں نے کہا: “میں تم سے اس دعوت پر کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔”

  4. اللہ پر بھروسہ – قوم کی سازشوں کے باوجود اللہ کی مدد پر یقین رکھا۔


حضرت صالح علیہ السلام کی وفات (Death of Prophet Saleh A.S)

مؤرخین کے مطابق حضرت صالح علیہ السلام کا وصال بھی “الحجر” کے علاقے میں ہوا، لیکن ان کی قبر کے بارے میں کوئی حتمی علم نہیں۔


اسباق اور نصیحتیں (Lessons from the Story of Saleh A.S)

  1. اللہ کے معجزات کا انکار اور ان کے ساتھ مذاق تباہی کا سبب ہے۔

  2. غرور اور دنیاوی آسائش انسان کو اللہ سے دور کر دیتی ہے۔

  3. نبیوں کی بات سننا اور ان کی اطاعت کرنا نجات کا ذریعہ ہے۔

  4. اللہ کا عذاب اچانک اور سخت ہوتا ہے، اس سے کوئی نہیں بچ سکتا۔

  5. ایمان والے ہمیشہ اللہ کی حفاظت میں رہتے ہیں۔


عمومی سوالات (FAQs about Prophet Saleh A.S)

سوال 1: حضرت صالح علیہ السلام کس قوم کی طرف بھیجے گئے تھے؟
جواب: قومِ ثمود کی طرف۔

سوال 2: اللہ نے حضرت صالح علیہ السلام کو کون سا معجزہ دیا؟
جواب: پہاڑ سے ایک بڑی اونٹنی نکالنے کا معجزہ۔

سوال 3: قومِ ثمود پر کیا عذاب آیا؟
جواب: ایک خوفناک چیخ اور زلزلے نے انہیں ہلاک کر دیا۔

سوال 4: کیا حضرت صالح علیہ السلام اور ایمان والے بچ گئے تھے؟
جواب: جی ہاں، اللہ نے اپنے نبی اور مومنین کو عذاب سے محفوظ رکھا۔


نتیجہ (Conclusion)

حضرت صالح علیہ السلام کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ کی نشانیوں کا انکار انسان کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ قومِ ثمود نے اپنی طاقت اور آسائشوں پر غرور کیا اور اللہ کے حکم کی نافرمانی کی تو وہ ہلاک کر دیے گئے۔ لیکن حضرت صالح علیہ السلام اور ایمان والے محفوظ رہے۔ یہ کہانی آج بھی انسانیت کے لیے سبق ہے کہ اصل طاقت اللہ کی ہے، اور نجات صرف ایمان، صبر اور توحید میں ہے۔

Leave a Comment