حضرت لوط علیہ السلام – Story of Prophet Lut (A.S)
حضرت لوط علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبیوں میں سے تھے، جنہیں اللہ نے قومِ سدوم (Sodom) کی طرف بھیجا تاکہ وہ انہیں نیکی اور پاکیزگی کی طرف بلائیں۔
وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے اولین لوگوں میں سے تھے۔
قرآن کریم میں حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر ستائیس سے زیادہ مقامات پر آیا ہے۔
آپ کی قوم اپنے غیر فطری گناہوں اور اخلاقی زوال کی وجہ سے مشہور تھی۔
حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں بہت نصیحت کی، مگر وہ اپنی بداعمالیوں پر قائم رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب ان پر نازل ہوا۔
آپ اسے پڑھ سکتے ہیں۔”
پیدائش اور نسب (Birth and Lineage)
حضرت لوط علیہ السلام کا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان سے تھا۔
آپ کا نسب کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے:
لوط بن ہاران بن آزر، یعنی آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھائی کے بیٹے تھے۔
آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ عراق کے علاقے اُور (Ur) میں پیدا ہوئے۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے توحید کی دعوت کے بعد ہجرت کی، تو حضرت لوط علیہ السلام بھی ان کے ساتھ ہجرت کر گئے۔
نبوت کا آغاز (Beginning of Prophethood)
اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو نبوت عطا فرمائی اور انہیں قومِ سدوم اور قومِ عمورہ (Sodom and Gomorrah) کی طرف بھیجا۔
یہ قوم اردن (Jordan) کے علاقے میں آباد تھی — بحیرہ مردار (Dead Sea) کے قریب۔
قومِ لوط دنیا کی وہ پہلی قوم تھی جس نے غیر فطری جنسی عمل (Homosexuality) کو عام کیا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو ان کی اصلاح کے لیے مبعوث فرمایا۔
دعوتِ توحید اور اصلاحِ اخلاق (Call to Monotheism and Moral Reform)

حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو توحید، پاکیزگی اور حیا کی دعوت دی۔
انہوں نے فرمایا:
“اے میری قوم! تم ایسے فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا۔ کیا تم مردوں کے پاس جاتے ہو، راہ چلنے والوں کو لوٹتے ہو، اور اپنی مجلسوں میں برے کام کرتے ہو؟”
(العنکبوت: 28-29)
حضرت لوط علیہ السلام نے ان سے کہا کہ یہ کام نہ صرف اللہ کی نافرمانی ہے بلکہ انسانی فطرت کے بھی خلاف ہے۔
انہوں نے انہیں توبہ کرنے اور سیدھی راہ اختیار کرنے کی نصیحت کی، مگر وہ ضد پر قائم رہے۔
قوم کی نافرمانی (Rejection by the Nation)
قومِ لوط نے اپنے نبی کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔
وہ حضرت لوط علیہ السلام کا مذاق اڑاتے اور کہتے:
“اے لوط! ہمیں پاکیزگی کی تعلیم دیتے ہو؟ اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لے آؤ جس کی تم بات کرتے ہو۔”
(العنکبوت: 29)
انہوں نے آپ کو اپنے شہر سے نکالنے کی دھمکی دی:
“انہیں اپنی بستی سے نکال دو، یہ لوگ بہت پاک بنتے ہیں!”
(الاعراف: 82)
یہ انکار اور ہٹ دھرمی قوم کے زوال کا سبب بننے والا تھا۔
قومِ لوط کے گناہ (Sins of the People of Lut)
قومِ لوط اپنے اخلاقی اور سماجی بگاڑ میں انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ ان کے گناہوں میں شامل تھے:
- مردوں کے ساتھ بدفعلی
- راہ گیروں کو لوٹنا اور شرارت کرنا
- مجالس میں فحش باتیں اور قہقہے لگانا
- عورتوں کو بے عزت کرنا اور حیا سے دوری
یہ تمام اعمال نہ صرف شریعت کے خلاف تھے بلکہ انسانی ضمیر کے بھی منافی تھے۔
حضرت لوط علیہ السلام کی دعائیں (Supplications of Prophet Lut A.S)
جب قوم نے آپ کی بات ماننے سے انکار کیا تو حضرت لوط علیہ السلام نے اللہ کے حضور عرض کی:
“اے میرے رب! ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔”
(العنکبوت: 30)
اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور اپنے خاص فرشتوں کو بھیجا تاکہ حضرت لوط علیہ السلام کو خوشخبری دیں اور قومِ لوط پر عذاب نازل کریں۔
فرشتوں کا نزول (Arrival of the Angels)
ایک دن تین فرشتے خوبصورت جوانوں کی صورت میں حضرت لوط علیہ السلام کے گھر آئے۔
یہ وہی فرشتے تھے جو پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس گئے تھے تاکہ انہیں بیٹے (حضرت اسحاق علیہ السلام) کی خوشخبری دیں اور پھر قومِ لوط کے عذاب کا اعلان کریں۔
جب یہ مہمان حضرت لوط علیہ السلام کے گھر آئے تو قوم کے بدکار لوگوں کو خبر ہوگئی۔
وہ فوراً دوڑتے ہوئے آئے اور کہا:
“اے لوط! ہمیں اپنے مہمانوں کے حوالے کر دو!”
حضرت لوط علیہ السلام پریشان ہوگئے اور فرمایا:
“یہ میری بیٹیاں ہیں (یعنی تمہاری قوم کی عورتیں) اگر تم نیک ہو تو ان سے نکاح کر لو۔”
(ہود: 78)
لیکن وہ لوگ اپنی بدفعلی پر اصرار کرتے رہے۔
قوم پر اللہ کا عذاب (Divine Punishment on the People)

جب قوم نے حد سے تجاوز کر لیا تو فرشتوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے کہا:
“اے لوط! ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ تم اپنی اہلِ خانہ کے ساتھ رات کے وقت نکل جاؤ اور پیچھے مڑ کر مت دیکھنا۔”
(ہود: 81)
اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا، اور رات کے وقت زمین لرز اٹھی، ایک زور دار آواز (Sayhah) آئی، اور فرشتوں نے ان کے شہروں کو الٹ دیا۔
قرآن کہتا ہے:
“پھر ہم نے اس بستی کو اوپر نیچے کر دیا، اور ان پر پتھروں کی بارش برسائی، جو تہ بہ تہ نشان زدہ تھے۔”
(ہود: 82-83)
حضرت لوط علیہ السلام کی نجات (Rescue of Prophet Lut A.S)
حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی دو بیٹیاں اللہ کے حکم سے بچ گئیں۔
البتہ ان کی بیوی ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے کافروں کا ساتھ دیا، اس لیے وہ بھی عذاب میں ہلاک ہو گئی۔
“سو ہم نے لوط اور ان کے گھر والوں کو بچا لیا مگر ان کی بیوی پیچھے رہ گئی اور ہلاک ہونے والوں میں شامل ہوئی۔”
(الاعراف: 83)
عذاب کے بعد کا علاقہ (Aftermath of the Destruction)
جن شہروں پر اللہ کا عذاب آیا وہ سدوم اور عمورہ کہلاتے تھے۔
آج وہ علاقہ بحیرہ مردار (Dead Sea) کے نام سے جانا جاتا ہے — ایک ایسی جھیل جس میں زندگی نہیں ہے۔
یہ جگہ آج بھی اللہ کے عذاب کی نشانی کے طور پر موجود ہے۔
قرآن میں فرمایا گیا:
“اور یقیناً وہ (عذاب زدہ علاقے) تمہارے راستے پر موجود ہیں، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟”
(الصافات: 137-138)
حضرت لوط علیہ السلام کی تعلیمات (Teachings of Prophet Lut A.S)
- پاکیزگی اور حیا: اللہ نے انسان کو فطرت کے مطابق زندگی گزارنے کا حکم دیا ہے۔
- عدل و انصاف: ظلم اور زیادتی سے دور رہنا۔
- توبہ: گناہوں پر نادم ہو کر اللہ کی طرف لوٹنا۔
- ایمان اور صبر: مشکلات میں اللہ پر بھروسہ رکھنا۔
قرآن میں حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر (Mentions in the Qur’an)
حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر کئی سورتوں میں آیا ہے، جن میں شامل ہیں:
- سورۃ الاعراف
- سورۃ ہود
- سورۃ الحجر
- سورۃ الشعراء
- سورۃ العنکبوت
- سورۃ القمر
ہر مقام پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کے گناہوں اور ان کے انجام کو بطور عبرت بیان کیا ہے۔
حضرت لوط علیہ السلام کے معجزات (Miracles of Prophet Lut A.S)
- قوم پر آنے والا آسمانی عذاب
- فرشتوں کی آمد اور حفاظت کا معجزہ
- عذاب سے قبل نجات کا وعدہ
- عبرت ناک مقام (Dead Sea) کا قیام — جو آج بھی موجود ہے۔
حضرت لوط علیہ السلام کے اسباق (Lessons from the Life of Prophet Lut A.S)
- گناہ کے خلاف ڈٹ جانا نبیوں کا شیوہ ہے۔
- پاکیزگی ایمان کا حصہ ہے۔
- اللہ ظالم قوموں کو مہلت دیتا ہے مگر چھوڑتا نہیں۔
- حق کی دعوت میں صبر اور استقامت ضروری ہے۔
- نافرمانی کا انجام ہمیشہ ہلاکت ہے۔
عمومی سوالات (FAQs)
Q1: حضرت لوط علیہ السلام کس نبی کے بھتیجے تھے؟
وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔
Q2: قومِ لوط کہاں آباد تھی؟
قومِ لوط اردن (Jordan) کے علاقے میں آباد تھی، بحیرہ مردار کے قریب۔
Q3: حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کیوں ہلاک ہوئیں؟
کیونکہ وہ ایمان نہیں لائیں اور اپنی قوم کے گناہوں کی حمایت کرتی رہیں۔
Q4: قومِ لوط پر کس قسم کا عذاب آیا؟
ان کے شہر الٹ دیے گئے اور ان پر پتھروں کی بارش نازل کی گئی۔
Q5: بحیرہ مردار کو کیوں نشانِ عبرت کہا جاتا ہے؟
کیونکہ یہ وہی علاقہ ہے جہاں قومِ لوط پر عذاب نازل ہوا تھا۔
نتیجہ (Conclusion)
حضرت لوط علیہ السلام کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ پاکیزگی، ایمان اور صبر انسان کو اللہ کے قریب کرتے ہیں،
جبکہ گناہ، ضد، اور فحاشی قوموں کو ہلاکت کی طرف لے جاتی ہیں۔
قومِ لوط کا انجام ہمیشہ کے لیے ایک نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت تو دیتا ہے، مگر جب وہ حد پار کر جاتے ہیں،
تو اللہ کا عذاب یقینی ہوجاتا ہے۔
اللہ ہمیں حضرت لوط علیہ السلام کی طرح ایمان، عفت، اور تقویٰ کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔