حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبیوں میں سے ایک ہیں۔ آپ کو مسیح بھی کہا جاتا ہے اور عیسائی دنیا آپ کو Jesus Christ کے نام سے جانتی ہے۔ قرآنِ مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر تقریباً 25 سے زائد مقامات پر آیا ہے۔ آپ کی زندگی ایمان، قربانی، عاجزی اور معجزات سے بھری ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے بھیجا تاکہ وہ توحید کی طرف آئیں اور گمراہی سے بچ سکیں۔
یہ کہانی صرف ایک نبی کی داستان نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت، رحمت اور حکمت کا عظیم مظہر ہے۔ آئیے تفصیل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔
آپ اسے پڑھ سکتے ہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی مکمل کہانی
حضرت یونس علیہ السلام کی کہانی
حضرت صالح علیہ السلام کی کہانی
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مکمل کہانی
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش (The Birth of Prophet Isa A.S)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ایک غیر معمولی معجزہ ہے۔ آپ کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام ایک نہایت پاکباز اور عفت مآب خاتون تھیں۔ قرآن کے مطابق حضرت مریم علیہا السلام کی پرورش اللہ کے نیک بندے حضرت زکریا علیہ السلام کے زیرِ کفالت ہوئی۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کو فرشتہ جبرائیل کے ذریعے خوشخبری دی:
“اے مریم! اللہ تجھے اپنے کلمہ کی بشارت دیتا ہے، جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا، جو دنیا اور آخرت میں عزت والا اور مقربین میں سے ہوگا۔” (آل عمران: 45)
یہ خبر حضرت مریم علیہا السلام کے لیے حیرت انگیز تھی کیونکہ وہ غیر شادی شدہ تھیں۔ اللہ نے فرمایا:
“اللہ کے لیے یہ کام مشکل نہیں، جب وہ کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو کہتا ہے ‘ہوجا’ اور وہ ہوجاتی ہے۔” (آل عمران: 47)
یوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت بغیر والد کے ہوئی، جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عظیم نشان ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بچپن (Childhood of Prophet Isa A.S)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہی ان کے نبی ہونے کی دلیل تھی۔ قرآن میں ذکر ہے کہ آپ نے جھولے میں ہی بات کی تاکہ اپنی والدہ پر لگنے والے الزامات کو رد کریں:
“میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔” (مریم: 30)
یہ واقعہ اس بات کی واضح نشانی تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں اور ان کی پیدائش کسی انسانی گناہ یا لغزش کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے ہوئی ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت اور پیغام (Prophethood & Message)

اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے بھیجا۔ ان کا پیغام تین بنیادی نکات پر مشتمل تھا:
-
توحید – صرف اللہ کی عبادت کرو۔
-
شریعت کی تجدید – تورات کی تعلیمات کی تصدیق اور کچھ احکام کی اصلاح۔
-
اخلاقی تعلیمات – عاجزی، محبت، رحمت اور انصاف۔
قرآن میں آیا ہے:
“اور میں اس (تورات) کی تصدیق کرنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے آئی اور تاکہ میں تم پر بعض وہ چیزیں حلال کروں جو تم پر حرام تھیں۔” (آل عمران: 50)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات (Miracles of Prophet Isa A.S)

اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کئی عظیم معجزات عطا فرمائے تاکہ لوگ ان کی نبوت پر یقین لائیں:
-
بچپن میں جھولے سے کلام کرنا۔
-
مٹی سے پرندہ بنا کر اس میں اللہ کے حکم سے جان ڈال دینا۔
-
اندھوں کو بینا کرنا۔
-
کوڑھیوں کو شفا دینا۔
-
مردوں کو زندہ کرنا۔
-
غیب سے دسترخوان (مائدہ) اترنا۔
یہ سب معجزات اللہ کے حکم سے تھے، جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے خود فرمایا:
“میں یہ سب اللہ کے حکم سے کرتا ہوں۔” (آل عمران: 49)
بنی اسرائیل کی مخالفت (Opposition of Bani Israel)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب توحید اور اصلاح کی دعوت دی تو بنی اسرائیل کے سرداروں اور فقیہوں نے ان کی سخت مخالفت کی۔ وہ دنیاوی مفادات اور جھوٹی بڑائی میں گم تھے، اس لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی باتیں انہیں گوارا نہ ہوئیں۔
انہوں نے آپ کو جھوٹا کہا، جادوگر کہا، اور ان کی جان کے دشمن بن گئے۔
صلیب کا واقعہ اور قرآن کا بیان (Crucifixion or Substitution)
عیسائی عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھایا گیا اور وہ مر گئے۔ مگر قرآن اس بات کی واضح تردید کرتا ہے:
“انہوں نے نہ اسے قتل کیا اور نہ اسے صلیب پر چڑھایا بلکہ معاملہ ان پر مشتبہ کردیا گیا۔” (النساء: 157)
اسلامی عقیدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور قیامت سے پہلے دوبارہ زمین پر بھیجیں گے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی (Second Coming of Isa A.S)
احادیث کے مطابق قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے۔ وہ دجال کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ دیں گے اور انسانیت کو ایک بار پھر توحید اور عدل کی طرف بلائیں گے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“ابنِ مریم نازل ہوں گے، صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ ختم کر دیں گے۔” (صحیح بخاری)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے حاصل ہونے والے اسباق (Lessons from the Life of Isa A.S)
-
اللہ کی قدرت لامحدود ہے۔
-
عاجزی اور انکساری انسان کا اصل زیور ہے۔
-
دنیاوی مخالفت سے گھبرانا نہیں چاہیے۔
-
ہر معجزہ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے، بندے کی طاقت سے نہیں۔
-
آخرت اور نجات کا راستہ صرف توحید اور اللہ کی اطاعت ہے۔
عمومی سوالات (FAQs about Prophet Isa A.S)
سوال 1: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے والد کا کیا نام تھا؟
جواب: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے والد نہیں تھے، آپ کی پیدائش اللہ کے حکم سے معجزانہ طور پر ہوئی۔
سوال 2: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کس قوم کی طرف بھیجا گیا؟
جواب: بنی اسرائیل کی طرف۔
سوال 3: کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھایا گیا؟
جواب: نہیں، قرآن کے مطابق ایسا نہیں ہوا بلکہ اللہ نے انہیں آسمان پر اٹھا لیا۔
سوال 4: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کب دوبارہ زمین پر آئیں گے؟
جواب: قیامت سے پہلے دجال کے دور میں۔
نتیجہ (Conclusion)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی اللہ کی قدرت، رحمت اور ہدایت کا عظیم پیغام ہے۔ ان کی پیدائش ایک معجزہ ہے، ان کے معجزات ایمان کو تازہ کرتے ہیں اور ان کی تعلیمات انسانیت کو عاجزی، محبت اور عدل کی راہ دکھاتی ہیں۔
آج کے دور میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل کامیابی صرف اللہ کی اطاعت اور توحید میں ہے۔