توبہ کی روشنی -The Light of Repentance

مدینہ کی ایک شام (An Evening in Madinah)

مدینہ کی فضاؤں میں شام کے وقت ایک عجیب سا سکون تھا۔ سورج ڈھل رہا تھا، اور مسجدِ نبوی کے مناروں سے اذانِ مغرب کی صدا گونج رہی تھی۔ مومنین وضو کے لیے دوڑتے، دلوں میں ایمان کی تازگی لیے مسجد کی طرف جا رہے تھے۔ انہی گلیوں میں ایک نوجوان، کعب بن مالکؓ، آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ مگر اس کے قدموں میں بوجھ تھا، آنکھوں میں ندامت، اور دل میں ایک طوفان برپا تھا۔

وہ نبی اکرم ﷺ کے سچے عاشقوں میں سے تھے، مگر آج ان کے دل میں شرمندگی کی آگ جل رہی تھی۔ وجہ؟ — وہ غزوۂ تبوک میں نبی ﷺ کے ساتھ شامل نہ ہو سکے تھے۔ یہ کوئی معمولی غزوہ نہ تھا، بلکہ اسلام کے دفاع کا اہم موقع تھا۔ لیکن وہ سستی اور دنیاوی مشاغل میں پھنس کر پیچھے رہ گئے تھے۔

اب وہ اپنے اس گناہ پر تڑپ رہے تھے۔ ان کے دل میں ایک ہی فریاد تھی:

“یا اللہ! میں نے خطا کی، مگر تو غفور و رحیم ہے۔”

آپ پڑھ سکتے ہیں

شکر کا امتحان, part 2

دعا کی طاقت, part 3

نیکی اور بدی کا انجام

توکل کا انعام


غزوۂ تبوک کے بعد (After the Battle of Tabuk)

Light of Repentance

جب نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرامؓ غزوۂ تبوک سے واپس لوٹے، تو مدینہ والوں کے چہرے خوشی سے دمک اٹھے۔ مگر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کے دل خوف سے لرز رہے تھے — ان میں کعب بن مالکؓ بھی شامل تھے۔

وہ جانتے تھے کہ وہ کسی عذر کے بغیر پیچھے رہ گئے۔ جب رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لائے، تو وہ آگے بڑھے اور عرض کیا:

“یا رسول اللہ ﷺ! میرے پاس کوئی عذر نہیں۔ میں سستی اور غفلت کا شکار ہوا۔ میں نے گناہ کیا ہے، اور میں سچ کہتا ہوں۔”

نبی اکرم ﷺ نے خاموشی اختیار فرمائی، پھر فرمایا:

“کعب! ہم تمہارے بارے میں اللہ کے حکم کا انتظار کریں گے۔”

یہ سن کر کعبؓ کے دل پر جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ مگر انہوں نے جھوٹ نہیں بولا، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ توبہ کا دروازہ سچائی سے کھلتا ہے۔


چالیس دن کی تنہائی (Forty Days of Isolation)

نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ کعبؓ اور ان کے دو ساتھیوں سے کوئی بات نہ کرے۔ مدینہ کے گلی کوچے ان کے لیے سنسان ہو گئے۔ کوئی سلام کا جواب نہ دیتا، کوئی بات نہ کرتا۔ وہ مسجد میں جاتے، مگر لوگ نظریں جھکا لیتے۔

کعبؓ کہتے ہیں:

“دنیا میرے لیے تنگ ہو گئی تھی، حالانکہ وہ وسیع تھی۔ میں رو رو کر اللہ سے معافی مانگتا، مگر جواب آنے میں دیر تھی۔”

چالیس دن گزر گئے۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ اپنی بیویوں سے بھی الگ ہو جائیں۔ اب ان کی آزمائش اور بڑھ گئی۔ مگر وہ استقامت کے ساتھ دعا کرتے رہے۔ راتوں کو اٹھ کر گڑگڑاتے، آنسو بہاتے، اور کہتے:

“اے رب! میں نے تیری رضا کے خلاف قدم اٹھایا، مگر اب تیرا بندہ بن کر واپس آیا ہوں۔ مجھے مایوس نہ کر۔”


بشارتِ مغفرت (The News of Forgiveness)

Light of Repentance

ایک صبح جب سورج طلوع ہو رہا تھا، مسجدِ نبوی میں وحی نازل ہوئی۔ حضرت نبی اکرم ﷺ کے چہرے پر خوشی کی چمک آگئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

“اے کعب بن مالک! خوش ہو جاؤ! اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی ہے!”

یہ الفاظ سن کر حضرت کعبؓ سجدے میں گر پڑے۔ ان کے آنسو زمین کو تر کر گئے۔ ان کے چہرے پر ایسا نور تھا جیسے گناہوں کی گرد دھل گئی ہو۔ وہ دوڑتے ہوئے مسجد کی طرف گئے۔

لوگوں نے مبارکباد دی، مگر انہوں نے کہا:

“یہ میری سچائی اور اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے۔ اگر میں جھوٹ بولتا تو شاید آج بھی توبہ کا دروازہ مجھ پر بند ہوتا۔”


توبہ کی قبولیت کا اثر (The Impact of Forgiveness)

اس دن کے بعد کعب بن مالکؓ کی زندگی بدل گئی۔ وہ ہر لمحہ اللہ کی یاد میں رہنے لگے۔ دن کو روزہ، رات کو عبادت۔ ان کے دل میں ایک ہی عہد تھا:

“میں کبھی جھوٹ نہ بولوں گا، چاہے میری جان کیوں نہ چلی جائے۔”

ایک دن ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا:

“کعب! تم سے زیادہ خوش قسمت کون ہو سکتا ہے، جس کی توبہ خود قرآن میں ذکر ہوئی ہو!”

کعبؓ مسکرا کر بولے:

“اللہ کا فضل ہے۔ مگر یاد رکھو، توبہ صرف الفاظ نہیں — یہ دل کی آگ ہے جو گناہ کو جلا دیتی ہے۔”


قرآن کی آیت (The Quranic Verse)

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان کے بارے میں فرمایا:

“اور ان تینوں کا بھی (اللہ نے) توبہ قبول فرمائی جن کا فیصلہ مؤخر کر دیا گیا تھا، یہاں تک کہ زمین ان پر تنگ ہو گئی باوجود اس کے کہ وہ وسیع تھی، اور ان کے دل ان پر تنگ ہو گئے، اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ کے سوا کوئی پناہ نہیں۔ پھر اللہ نے ان پر توبہ کی تاکہ وہ توبہ کریں۔ بے شک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔”
(سورۃ التوبہ: 118)

یہ آیت قیامت تک ہر اس شخص کے لیے امید کا چراغ ہے جو گناہ کے بعد اللہ کی طرف لوٹنا چاہتا ہے۔


ایک سبق آموز ملاقات (A Life-Changing Encounter)

کچھ عرصہ بعد ایک نوجوان ان کے پاس آیا اور کہا:

“میں نے گناہ کیے ہیں، مگر مجھے لگتا ہے کہ اللہ اب میری توبہ قبول نہیں کرے گا۔”

کعبؓ نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما اور کہا:

“بیٹے! جب تک سانس باقی ہے، توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ میں نے بھی گناہ کیا تھا، مگر اللہ نے اپنی رحمت سے ڈھانپ لیا۔ وہ رب شرمندگی پر خوش ہوتا ہے۔ اگر تُو رو کر اس سے معافی مانگے گا، وہ تجھے گلے لگا لے گا۔”

نوجوان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ بولا:

“کعبؓ! میں آج ہی اپنے رب کے حضور توبہ کرتا ہوں۔”

کعبؓ نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا:

“اے اللہ! یہی توبہ کی اصل روشنی ہے — جب ایک دل گناہ سے پلٹ کر تیری طرف آتا ہے۔”


توبہ کا مفہوم (Meaning of Repentance)

توبہ صرف گناہ چھوڑنے کا نام نہیں، بلکہ دل کو پاک کرنے کا عمل ہے۔ یہ بندے اور رب کے درمیان ایک رازدارانہ رشتہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

“اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کوئی شخص اپنی کھوئی ہوئی سواری کو جنگل میں پا کر خوش ہوتا ہے۔”

یہ حدیث اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ کی رحمت گناہ سے زیادہ وسیع ہے۔ بس بندہ سچے دل سے رجوع کرے۔


آخری ایام (The Final Days)

جب حضرت کعب بن مالکؓ کے آخری ایام آئے تو وہ اکثر کہا کرتے تھے:

“اے لوگو! میں نے توبہ کی مٹھاس چکھی ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو اندھیرے میں امید بن کر چمکتی ہے۔ اگر کبھی تم گناہ میں پھنس جاؤ تو مایوس نہ ہونا، بلکہ اللہ کی طرف لوٹ آنا۔ وہ تمہارا منتظر ہے۔”

ان کے آخری الفاظ یہ تھے:

“یا اللہ! میں نے توبہ کی تھی، اب تو اپنی رحمت سے مجھے قبول فرما لے۔”

یوں وہ مسکرا کر اپنے رب سے جا ملے۔ ان کے چہرے پر سکون تھا، جیسے گناہوں سے آزاد روح جنت کی طرف پرواز کر گئی ہو۔


سبقِ زندگی (Moral of the Story)

توبہ اللہ کا سب سے بڑا انعام ہے۔ یہ انسان کو گناہ سے نجات اور ایمان کی تازگی عطا کرتی ہے۔ کبھی بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، کیونکہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔

“اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔”
(سورۃ الزمر: 53)

Leave a Comment