سچائی کا چراغ-The Lamp of Truth

🕯️ سچائی کا چراغ-The Lamp of Truth

اہلِ مکہ کہا کرتے تھے:

“اگر تم کسی کو بازار میں جھوٹ بولتے دیکھو، تو خبیبؓ کی طرح زبان کو بند رکھو۔
اگر تمہیں تجارت میں فائدہ نظر آئے، تو حسانؓ کی طرح انصاف کو نہ چھوڑو۔
اور اگر تمہیں نقصان ہو، تو ابوحفصؓ کی طرح سچ کا دامن تھامے رکھو۔”

یہ قول محض الفاظ نہیں تھے، بلکہ ان کے پیچھے ایک کہانی تھی، جو سچائی کے چراغ کی مانند آج بھی دلوں میں جل رہی ہے۔

آپ پڑھ سکتے ہیں

توکل کا انعام

صبر کا انعام, part 1

شکر کا امتحان, part 2

دعا کی طاقت, part 3


📘 باب اول: ایک سادہ دکاندار (Chapter 1: A Simple Shopkeeper)

The Lamp of Truth

مکہ کی ایک تنگ گلی میں، جہاں ہر کوئی نفع کے پیچھے بھاگتا تھا، ایک چھوٹی سی دکان میں ابوحفص نامی شخص بیٹھا کرتا تھا۔ نہ وہ شور مچاتا، نہ چالاکی سے گاہکوں کو بہکاتا۔

اس کے گاہک جانتے تھے کہ وہ نہ جھوٹ بولتا ہے، نہ تول میں کمی کرتا ہے۔
وہ ہمیشہ کہا کرتا:

“سچ کم منافع دیتا ہے، مگر دل کو سکون دیتا ہے۔”


⚖️ باب دوم: آزمائش کا دن (Chapter 2: The Day of Trial)

ایک دن شہر کا بڑا تاجر عبدالرزاق اس کے پاس آیا اور کہا:

“مجھے تمہارے خالص تیل کا ایک بڑا ذخیرہ چاہیے۔ دام کی فکر نہ کرو، بس مال صاف ہو۔”

ابوحفص کے پاس کچھ پرانے ڈبے بھی تھے جو مکمل صاف نہیں تھے۔ یہ اس کے لیے ایک امتحان تھا:
یا تو سب کچھ بیچ دے اور منافع لے، یا سچ بول کر نقصان اٹھائے۔

اس نے کہا:

“میں وہی دوں گا جو خالص ہو۔ باقی الگ رکھ دیتا ہوں۔ یہ تجارت ہے، دھوکہ نہیں۔”


📉 باب سوم: نقصان، مگر سکون (Chapter 3: Loss, but Peace of Heart)

کئی دن گزرے، ابوحفص کے گاہک کم ہو گئے۔ اس کے برابر میں موجود دکان دار، نوفل، جھوٹ بول کر روز ہزاروں کماتا۔

مگر ابوحفص رات کو جب سوتا، اس کا دل پر سکون ہوتا۔

“آج تھوڑا کمایا، لیکن ایمان کا سودہ سستا نہیں بیچا۔”


💡 باب چہارم: انعام کا دن (Chapter 4: The Day of Reward)

چند دن بعد، ایک نیک تاجر زید بن عمر مکہ آیا، جو صرف ایماندار لوگوں سے لین دین کرنا چاہتا تھا۔

اس نے پوچھا:

“کیا یہاں کوئی ایسا ہے جو تجارت میں سچائی اختیار کرتا ہو؟”

لوگوں نے جواب دیا:

“ابوحفص کے پاس جاؤ، وہ جھوٹ نہیں بولتا۔”

زید بن عمر نے خریداری کی اور اس کی دیانت سے اتنا متاثر ہوا کہ اپنے تمام تجارتی ساتھیوں کو یہی مشورہ دیا۔
ابوحفص کی دکان گاہکوں سے بھر گئی، مگر اس کی سچائی وہی رہی۔


🪔 باب پنجم: چراغ جلتا رہا (Chapter 5: The Lamp Kept Burning)

The Lamp of Truth

وقت گزرتا گیا، ابوحفص بوڑھا ہو گیا۔ لوگ اپنے بچوں کو اس کے پاس لاتے اور کہتے:

“بیٹا، اگر تمہیں دیانتداری سیکھنی ہے تو ابوحفص سے سیکھو۔”

اس کے انتقال کے دن پورا شہر رو رہا تھا۔ مگر اس کا سچ، ایک چراغ بن کر لوگوں کے دلوں میں جلتا رہا۔


📘 نتیجہ (Moral of the Story)

  • سچ وقتی نقصان دیتا ہے، مگر آخرت کا فائدہ دیتا ہے۔
  • جھوٹ وقتی منافع دے سکتا ہے، مگر دل کو مارتا ہے۔
  • ایمان، تجارت، اور زندگی — تینوں میں سچائی ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

“تاجرِ صادق و امین، قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔” – (حدیث)
“سچ نجات دیتا ہے، اور جھوٹ ہلاکت میں ڈالتا ہے۔” – (صحیح مسلم)


📎 یاد رکھیں (Final Reminder)

“اگر تمہیں کبھی ایسا موقع ملے کہ جھوٹ بول کر فائدہ ہو، تو ابوحفص کو یاد کرنا۔
جو اللہ کے لیے سچ بولتا ہے، اللہ اُس کے لیے رزق کے دروازے کھول دیتا ہے۔”

Leave a Comment