توکل کا سفر-The Journey of Trust in Allah

توکل-Journey of Trust in Allah

توکل، ایمان کا وہ درجہ ہے جہاں بندہ دنیا کے تمام سہارے چھوڑ کر صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔
یہ یقین کہ جو بھی ہوتا ہے، وہ اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے، اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔
یہ ایمان کی معراج ہے، اور یہی صبر و شکر کی بنیاد ہے۔

.آپ پڑھ سکتے ہیں

توکل کا انعام

صبر کا انعام, part 1

شکر کا امتحان, part 2

دعا کی طاقت, part 3


ابتدائی حالات (The Early Days)

مدینہ منورہ کا وہ پرامن دور تھا جب اسلام کی روشنی دور دور تک پھیل رہی تھی۔
لوگ اپنے دلوں میں ایمان کا چراغ روشن کیے نبی کریم ﷺ کے فرمان پر عمل کر رہے تھے۔
انہی مومنین میں ایک جوان صحابی تھے، حضرت حارثؓ بن زبیر۔

حضرت حارثؓ نہایت نیک، ایماندار، اور عاجز انسان تھے۔ ان کا پیشہ تجارت تھا مگر وہ ہمیشہ کہتے:

“میری روزی تجارت سے نہیں، اللہ سے آتی ہے۔”

ایک دن ان کی زندگی کا رخ بدل گیا۔ قافلے کے سارے اونٹ ایک طوفان میں گم ہوگئے۔
دنوں کی محنت، جمع پونجی، سب ختم ہوگئی۔ لوگ کہنے لگے، “اب حارث کا کیا ہوگا؟”
مگر وہ مسکرا کر کہتے:

“جس رب نے پہلے دیا، وہی پھر دے گا۔ میرا توکل اس پر ہے۔”


آزمائش کی گھڑی (The Time of Trial)

چند دنوں میں غربت نے ان کے دروازے پر دستک دی۔ گھر میں کچھ نہ بچا۔
بیوی صفیہؓ نے کہا:
“حارث! اب تو ہمارے پاس کچھ نہیں۔ شاید تمہیں دوبارہ تجارت کے لیے شام جانا چاہیے۔”

حارثؓ نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا:

“میں شام جاؤں گا، مگر نیت صرف رزق نہیں بلکہ اللہ پر بھروسہ آزمانا ہے۔”

انہوں نے دو دن کا کھانا لیا، اور قافلے کے بغیر تنہا نکل پڑے۔
راستہ لمبا، گرم، اور خطرناک تھا۔ مگر ان کے دل میں سکون تھا — کیونکہ ان کے دل میں توکل تھا۔


بیابان کا امتحان (The Test in the Wilderness)

چند دن کے سفر کے بعد وہ ایک بیابان میں پہنچے جہاں نہ سایہ تھا نہ پانی۔
کھانے کا سامان ختم ہو چکا تھا۔ تھکن سے نڈھال ہو کر ایک پتھر کے سائے میں بیٹھ گئے۔
دل میں خیال آیا — “کاش تھوڑا پانی مل جائے۔”

پھر فوراً خود سے کہا:

“نہیں، میرا بھروسہ انسانوں پر نہیں، صرف اللہ پر ہے۔”

انہوں نے وضو کے بغیر ہی ہاتھ اٹھائے:
“اے رب! تو بہتر جانتا ہے، میں تیرے بھروسے نکلا ہوں۔
اگر تو چاہے تو پتھروں میں سے بھی پانی نکال دے۔”

ابھی دعا ختم ہی ہوئی تھی کہ دور سے بادل اُٹھتے نظر آئے۔
تھوڑی دیر میں بارش برسنے لگی، اور وادی میں پانی بھر گیا۔
انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا، پیٹ بھرا اور اگلے دن سفر جاری رکھا۔


غیبی مدد (The Unseen Help)

Journey of Trust in Allah

راستے میں انہیں ایک زخمی تاجر ملا۔ وہ کہنے لگا:
“اے مسافر! میرا قافلہ لٹ گیا، میرے پاس سب کچھ ختم ہو گیا۔ کیا تم میری مدد کر سکتے ہو؟”

حضرت حارثؓ نے کہا:
“میرے پاس کچھ نہیں، مگر میں تیرے لیے دعا کر سکتا ہوں۔”

انہوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، اور کچھ ہی دیر بعد ایک اور قافلہ وہاں سے گزرا۔
قافلے کے سردار نے کہا:
“ہمیں ایک ایماندار شخص چاہیے جو ہمارا مال مدینہ تک پہنچا دے۔ کیا تم دونوں چل سکتے ہو؟”

یوں حارثؓ اور زخمی تاجر قافلے کے ساتھ ہو لیے۔ راستے میں ان کی نیکی، ایمانداری، اور توکل دیکھ کر سردار نے کہا:

“جب ہم مدینہ پہنچیں گے، تو آدھا منافع تمہارا ہوگا۔”

مدینہ پہنچ کر جب منافع تقسیم ہوا تو حارثؓ کے ہاتھ میں وہی رقم تھی جو ان کے گم شدہ اونٹوں کے برابر تھی۔
وہ فوراً مسجد نبویؐ گئے اور نبی ﷺ کے قدموں میں گر پڑے۔


نبی ﷺ کے ارشادات (The Prophet’s Guidance)

نبی ﷺ نے فرمایا:

“اے حارث! جب بندہ اللہ پر سچا بھروسہ کرتا ہے،
تو اللہ اس کے لیے آسمان و زمین کے خزانوں سے رزق اتارتا ہے۔”

پھر آپ ﷺ نے فرمایا:

“اگر تم اللہ پر ویسا توکل کرو جیسا پرندے کرتے ہیں،
تو وہ تمہیں ایسے رزق دے گا جیسے وہ صبح خالی پیٹ نکلتے اور شام بھرے پیٹ لوٹتے ہیں۔”

حضرت حارثؓ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
انہوں نے کہا:
“یارسول اللہ ﷺ! میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار توکل کی مٹھاس چکھی ہے۔”


توکل کا امتحان دوبارہ (The Second Test of Trust)

وقت گزرتا گیا۔ حضرت حارثؓ دوبارہ کامیاب تاجر بن گئے۔
ان کے پاس دولت، غلام، اونٹ، اور باغات تھے۔
مگر ایک دن پھر ان کے ایمان کا امتحان آیا۔

ایک قیافتی خبر ملی کہ ان کا قافلہ شام کے قریب ڈاکوؤں کے ہاتھوں لوٹ گیا۔
سب لوگ شور مچانے لگے، مگر حارثؓ خاموش بیٹھے رہے۔

ان کے غلام نے کہا:
“آقا! کیا آپ غمگین نہیں؟ آپ کا سارا مال گیا!”
انہوں نے مسکرا کر کہا:

“میں نے اس مال کو سپردِ خدا کیا تھا۔
اگر وہ چاہے تو واپس دے گا، اور اگر چاہے تو صبر میں اجر دے گا۔”

تین دن بعد خبر آئی کہ قافلہ سلامت ہے۔
ڈاکوؤں نے ایک بزرگ کے خواب کے بعد سب مال واپس کر دیا۔
وہ کہتے تھے کہ خواب میں ایک نورانی چہرہ نے کہا:

“یہ مال اس بندے کا ہے جو اللہ پر توکل کرتا ہے، اسے نقصان نہ پہنچاؤ۔”


آخری ایام اور ایمان کی روشنی (Final Days and the Light of Faith)

برسوں بعد جب حضرت حارثؓ کی عمر بڑھ گئی، تو وہ اکثر نوجوانوں کو نصیحت کرتے:
“توکل صرف زبانی نہیں، دل کی گہرائی سے یقین ہے۔
جب تم سچے دل سے اللہ پر بھروسہ کرو گے،
تو دنیا کی سب سے بڑی مشکلات بھی تمہارے لیے آسان ہو جائیں گی۔”

ایک دن فجر کے وقت ان کی بیوی نے دیکھا کہ وہ سجدے میں ہیں،
اور آنسوؤں کے ساتھ کہہ رہے ہیں:

“اے رب! تو نے کبھی مایوس نہیں کیا،
اور آج میں تیری ملاقات کی امید لیے آیا ہوں۔”

اسی حالت میں ان کی روح پرواز کر گئی۔
ان کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ تھی جیسے انہوں نے رب سے ملاقات کر لی ہو۔


سبق (Lesson)

  • توکل ایمان کی جان ہے۔
  • جب انسان سب سہارے چھوڑ کر اللہ پر بھروسہ کرتا ہے،
    تو اللہ غیب سے مدد بھیجتا ہے۔
  • رزق، عزت، اور سکون — سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔
  • ایمان والا بندہ کبھی مایوس نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جانتا ہے: “اللّٰهُ مَعَنَا” — “اللہ ہمارے ساتھ ہے۔”

قرآن میں ارشاد ہے:

“وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهُ”
“اور جو اللہ پر بھروسہ کرے، وہی اس کے لیے کافی ہے۔” (الطلاق: 3)


اختتامیہ پیغام (Closing Message):
جب دل خوف سے بھر جائے، اور راستے بند نظر آئیں،
توکل کا چراغ جلاؤاللہ تمہارے لیے وہ دروازہ کھول دے گا جو تم نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا

Leave a Comment