عدل کا تاج -The Crown of Justice

عدل کا تاج (The Crown of Justice)

مدینہ کا ایک دن (A Day in Madinah)

مدینہ منورہ کا موسم خوشگوار تھا۔ سورج کی نرم روشنی مسجد نبوی ﷺ کے صحن میں پھیل رہی تھی۔ درختوں سے ٹھنڈی ہوا آ رہی تھی اور لوگ اپنے معمولاتِ زندگی میں مصروف تھے۔

انہی دنوں مدینہ میں ایک نوجوان رہتا تھا، جس کا نام عبداللہ بن حارثؓ تھا۔ وہ ایک عام تاجر تھا، مگر اس کے دل میں انصاف کا ایسا جذبہ تھا جو دولت اور رشتوں سے بڑھ کر تھا۔

.آپ پڑھ سکتے ہیں

توکل کا انعام

احسان کا پھل

نیکی اور بدی کا انجام

قناعت اور سکون


بچپن کی نصیحت (The Lesson from Childhood)

Crown of Justice

عبداللہؓ کے والد ایک متقی اور عادل شخص تھے۔ بچپن ہی سے وہ اپنے بیٹے کو سکھاتے:

“بیٹا، اگر کسی دن تمہیں اپنے فائدے اور انصاف میں سے کسی ایک کو چننا پڑے، تو ہمیشہ انصاف کا ساتھ دینا۔ کیونکہ انصاف اللہ کی صفت ہے۔”

یہ الفاظ عبداللہؓ کے دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئے۔


ایک انوکھی آزمائش (A Strange Test)

Crown of Justice

ایک دن عبداللہؓ کا قافلہ شام سے تجارت کر کے واپس آیا۔ جب اس نے اپنے غلام سے حساب لیا تو پتہ چلا کہ کچھ مال چوری ہو گیا ہے۔

تحقیقات کے دوران ایک غریب مزدور پر الزام لگا۔ لوگ کہنے لگے:

“یہی چور ہے، کیونکہ وہ ہر روز قافلے کے پاس گزرتا تھا!”

عبداللہؓ کے دل میں شک تو پیدا ہوا، مگر فوراً اسے رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیم یاد آئی:

“جب تک ثبوت نہ ہو، کسی پر الزام نہ لگاؤ۔”

اس نے کہا:

“میں کسی بے گناہ پر ظلم نہیں کروں گا، چاہے میرا نقصان ہی کیوں نہ ہو جائے۔”


نبی ﷺ کی محفل میں (In the Prophet’s Gathering)

عبداللہؓ نے معاملہ خود رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا۔ آپ ﷺ نے سکون سے فرمایا:

“عبداللہ، انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ تم تحقیق کرو، نہ کہ جلدی فیصلہ۔ یاد رکھو، عدل ایمان کا حصہ ہے، اور ظلم جہالت کا۔”

پھر آپ ﷺ نے فرمایا:

“اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب سے زیادہ قریب اس بندے کو رکھے گا جو دنیا میں انصاف سے فیصلہ کرتا تھا، خواہ وہ اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔”

یہ الفاظ عبداللہؓ کے دل میں اتر گئے۔


اصل چور کا انکشاف (The Real Thief Revealed)

چند دن بعد ایک حیران کن واقعہ پیش آیا۔ ایک شام جب عبداللہؓ اپنے گھر جا رہا تھا تو اس نے راستے میں دیکھا کہ ایک نوجوان چھپ کر تھیلے میں کچھ رکھ رہا ہے۔

عبداللہؓ قریب گیا تو وہ نوجوان گھبرا گیا۔ تھیلا کھولا تو اس میں وہی قافلے کا مال نکلا جو چوری ہوا تھا۔

نوجوان رونے لگا:

“میں مجبور تھا، میری ماں بیمار ہے، دو دن سے کچھ کھایا نہیں۔ میں نے چوری کی، مگر ندامت نے مجھے راتوں کو سونے نہیں دیا۔”

عبداللہؓ کے چہرے پر غصہ نہیں، بلکہ دکھ کے آثار تھے۔


فیصلہ عدل پر (A Decision of Justice)

عبداللہؓ نے اسے پکڑ کر مدینہ کے قاضی کے سامنے پیش کیا۔ سب لوگ چاہتے تھے کہ اسے سخت سزا دی جائے۔ مگر عبداللہؓ نے کہا:

“اے قاضی! میں یہ چاہتا ہوں کہ انصاف ہو، مگر رحم کے ساتھ۔ اگر شریعت اجازت دے تو اس نوجوان کو سزا کے بجائے موقع دیا جائے کہ وہ اپنی غلطی کا ازالہ کرے۔”

قاضی نے معاملہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

“اگر متاثر شخص معاف کر دے تو اللہ بھی معاف کر دیتا ہے۔ اور اگر عدل کے ساتھ رحم شامل ہو جائے، تو وہ اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل ہے۔”

عبداللہؓ نے نوجوان کو معاف کر دیا۔ لوگ حیران رہ گئے۔


ایک بدلا ہوا انسان (A Changed Man)

وہی نوجوان چند دن بعد مسجد میں دیکھا گیا۔ اب وہ صدقے کا مال بانٹ رہا تھا۔ کسی نے پوچھا:

Reward of Kindness

“اب تو تم امیر لگتے ہو، یہ سب کہاں سے آیا؟”

اس نے مسکرا کر کہا:

“مجھے عبداللہؓ نے معاف کیا، اور ان کے انصاف نے مجھے بدل دیا۔ میں نے رزقِ حلال کمانا شروع کیا، اللہ نے برکت دے دی۔”

یہ سن کر سب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔


خلیفہ کے سامنے ایک مقدمہ (A Case Before the Caliph)

کچھ سال گزرے۔ اب مدینہ میں حضرت عمرؓ خلیفہ بن چکے تھے۔ ایک دن عدالت میں دو فریق آئے — ان میں سے ایک عبداللہؓ تھا، اور دوسرا ایک دولت مند تاجر۔

تاجر نے کہا:

“خلیفہ! عبداللہ نے میری زمین پر اپنی دیوار بڑھا لی ہے!”

حضرت عمرؓ نے دونوں کو غور سے دیکھا۔ پھر فرمایا:

“عبداللہ! یہ معاملہ بڑا ہے، تمہیں اپنی بات ثابت کرنی ہوگی۔”

عبداللہؓ نے عاجزی سے کہا:

“امیرالمؤمنین! میں اپنے ہاتھ سے حدِ زمین کھینچنے گیا تھا، اگر میری خطا ہے تو میں اسے مانتا ہوں۔”

حضرت عمرؓ مسکرائے اور فرمایا:

“یہی تو عدل ہے کہ تم اپنے حق میں بھی انصاف کرو۔ اے عبداللہ! تمہارا مقام اللہ کے نزدیک بلند ہے۔”


انصاف کا انعام (The Reward of Justice)

اس واقعے کے بعد عبداللہؓ کے عدل و انصاف کی شہرت پورے عرب میں پھیل گئی۔ لوگ اپنے فیصلوں کے لیے اس کے پاس آتے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ عبداللہؓ کبھی رشتے، دولت یا طاقت کے دباؤ میں نہیں آئے گا۔

ایک دن ایک شخص نے عبداللہؓ سے پوچھا:

“تم انصاف کیوں کرتے ہو جب تمہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں؟”

عبداللہؓ نے جواب دیا:

“فائدہ نہیں؟ میں ہر فیصلہ کرتے وقت محسوس کرتا ہوں کہ اللہ میرے دل میں نور ڈال دیتا ہے۔ یہی میرا فائدہ ہے۔”


آزمائش کی گھڑی (Moment of Hardship)

ایک بار عبداللہؓ پر جھوٹا الزام لگا کہ اس نے بیت المال سے رقم لی ہے۔ معاملہ خلیفہ کے دربار تک پہنچا۔ لوگ چہ می گوئیاں کرنے لگے۔

مگر عبداللہؓ نے کہا:

“اگر میرا جرم ثابت ہو تو مجھے سزا دی جائے۔ میں چاہتا ہوں کہ انصاف مجھ پر بھی ویسے ہی ہو جیسے میں دوسروں کے لیے چاہتا ہوں۔”

تحقیق ہوئی، تو معلوم ہوا کہ الزام جھوٹا تھا۔ عبداللہؓ کا نام پاک صاف ہوا۔

حضرت عمرؓ نے فرمایا:

“یہ عبداللہؓ وہ شخص ہے جو عدل پر قائم رہا، یہاں تک کہ اللہ نے خود اس کے حق میں انصاف فرمایا۔”


ایک خواب کی حقیقت (A Dream of Truth)

کچھ عرصہ بعد عبداللہؓ کا انتقال ہو گیا۔ مدینہ کے لوگوں نے روتے ہوئے کہا:

“ہم نے انصاف کا چلتا پھرتا نمونہ کھو دیا۔”

اس رات ایک صحابیؓ نے خواب دیکھا۔ جنت میں ایک دروازہ کھلا، اس کے پیچھے نور ہی نور تھا۔ فرشتوں نے کہا:

“یہ دروازہ ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے دنیا میں عدل کیا، خواہ خود کے خلاف کیوں نہ ہو۔ دیکھو، عبداللہ بن حارثؓ اس دروازے سے داخل ہو رہا ہے!”


سبق (Moral of the Story)

عدل و انصاف ایمان کی روح ہے۔ جو انصاف کرتا ہے، وہ صرف دوسروں کے لیے نہیں، بلکہ اپنے ایمان کے لیے راستہ صاف کرتا ہے۔

“بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔”
(القرآن – المائدہ: 42)


آخری پیغام (Final Message)

انصاف وہ روشنی ہے جو ظلم کے اندھیروں کو مٹا دیتی ہے۔
اگر تم طاقت رکھتے ہوئے بھی انصاف کرو، تو جان لو — تم اللہ کے قریب ہو۔

“قیامت کے دن سب سے زیادہ محبوب شخص وہ ہوگا جو اپنے فیصلوں میں عدل کرتا تھا۔” — (حدیثِ نبوی ﷺ)


عدل کا تاج ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ سچا ایمان صرف نمازوں یا روزوں میں نہیں، بلکہ اس لمحے میں ہے جب ہم انصاف کے لیے اپنے نفس کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ 🌙

Leave a Comment