قناعت اور سکون-Contentment and Peace

قناعت, Contentment and Peace


مدینہ کا ایک سادہ انسان (A Simple Man of Madinah)

مدینہ منورہ کے گردونواح میں ایک نیک اور محنتی شخص رہتا تھا، جس کا نام عبدالرحمٰن بن یوسفؓ تھا۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ایک کسان تھا، مگر دل کے اعتبار سے ایک ولی صفت انسان۔ اُس کا گھر چھوٹا، کپڑے سادہ، اور کھانے معمولی تھے، مگر چہرے پر ہمیشہ اطمینان اور شکر کا نور چھایا رہتا تھا۔

Contentment and Peace

عبدالرحمٰنؓ کا ایمان تھا کہ اللہ نے جو رزق مقدر میں لکھا ہے، وہ کبھی کم نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ہمیشہ حلال کمائی پر قناعت کرتا اور دوسروں کے نصیب پر نظر نہیں ڈالتا تھا۔

.آپ پڑھ سکتے ہیں

توکل کا انعام

احسان کا پھل

نیکی اور بدی کا انجام


دولت مند ہمسایہ (The Wealthy Neighbor)

عبدالرحمٰنؓ کے محلے میں ایک دولت مند تاجر رہتا تھا، نعمان بن خالدؓ۔ اُس کے پاس اونٹوں کے قافلے، غلام، اور کھجوروں کے بڑے باغات تھے۔ ایک دن نعمانؓ نے عبدالرحمٰنؓ سے کہا:

“عبدالرحمٰن! تم اتنی محنت کرتے ہو، مگر تمہارے حالات بہتر کیوں نہیں ہوتے؟ میرے ساتھ تجارت کرو، دولت کماؤ، تاکہ زندگی آسان ہو جائے!”

عبدالرحمٰنؓ نے مسکرا کر کہا:

“نعمان! زندگی کی آسانی دولت سے نہیں، دل کے سکون سے آتی ہے۔ میرا رب میرے لیے بہتر جانتا ہے۔ میں اُس کے فیصلے پر راضی ہوں۔”

نعمانؓ نے حیرانی سے کہا:

“تم دنیا کے اصولوں کے خلاف بات کرتے ہو۔ اگر آدمی زیادہ چاہے نہ، تو آگے کیسے بڑھے؟”

عبدالرحمٰنؓ نے کہا:

“جو اللہ سے راضی ہے، وہی سب سے آگے ہے۔”


آزمائش کا وقت (The Time of Test)

Contentment and Peace

کچھ مہینوں بعد مدینہ کے علاقے میں سخت قحط پڑ گیا۔ کھیت سوکھ گئے، پانی کے چشمے بند ہو گئے، اور لوگوں کے چہروں پر پریشانی چھا گئی۔ نعمانؓ کے تجارتی قافلے رک گئے، غلام بھاگ گئے، اور مال کم ہونے لگا۔

عبدالرحمٰنؓ کے پاس بھی تھوڑا سا اناج رہ گیا تھا، مگر اُس نے کبھی شکوہ نہیں کیا۔ اُس کی بیوی نے کہا:

“عبدالرحمٰن! بچے بھوکے ہیں، کیا تم زید یا نعمان سے مدد نہیں مانگو گے؟”

وہ مسکرایا اور بولا:

“میں بندوں سے نہیں، خالق سے مانگتا ہوں۔ جس نے آج تک رزق دیا، وہی کل بھی دے گا۔”

اس نے رات بھر نماز میں دعا کی۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو، مگر دل میں یقین تھا۔


اللہ کی رحمت کا ظہور (The Sign of Allah’s Mercy)

چند دن بعد آسمان پر بادل چھا گئے۔ مدینہ میں زور دار بارش ہوئی، زمین تَر ہو گئی، کھیتوں نے سبز لبادہ اوڑھ لیا۔ عبدالرحمٰنؓ کی فصل سب سے زیادہ ہری بھری ہوئی۔ اُس کے کھجوروں کے درختوں نے اتنا پھل دیا کہ وہ پورے محلے میں تقسیم کرنے لگا۔

نعمانؓ حیران ہو کر اُس کے پاس آیا اور کہا:

“میں نے دولت کے انبار جمع کیے، مگر سکون نہیں پایا۔ تمہارے پاس کچھ نہیں، مگر تمہارا دل مطمئن ہے۔ آخر تمہارا راز کیا ہے؟”

عبدالرحمٰنؓ نے مسکرا کر کہا:

“راز قناعت میں ہے، نعمان۔ جب دل اللہ کے فیصلے پر راضی ہو جائے، تو کمی بھی نعمت بن جاتی ہے۔”


سبق (The Lesson)

وقت گزرتا گیا، اور نعمانؓ نے بھی دولت کی حرص چھوڑ کر سادہ زندگی اپنالی۔ اب وہ بھی ہر حال میں شکر ادا کرتا اور دوسروں کی مدد کرتا۔


نتیجہ (Moral of the Story)

قناعت انسان کو حرص، لالچ، اور حسد سے بچاتی ہے۔ جو اللہ کے فیصلے پر راضی رہتا ہے، وہ کبھی غمزدہ نہیں ہوتا۔ دنیا کی دولت ختم ہو سکتی ہے، مگر قناعت والا دل ہمیشہ امیر رہتا ہے۔

“جس نے دل میں قناعت پیدا کی، اُس نے دنیا کا سب سے بڑا خزانہ پا لی

Leave a Comment