🌑 غفلت کا انجام-The Consequence of Negligence

غفلت- Consequence of Negligence

مدینہ کے قریب ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک نوجوان رہتا تھا، جس کا نام حمزہ بن فہد تھا۔
حمزہ ایک خوش مزاج، سمجھدار مگر لاپرواہ آدمی تھا۔ اس کے والد ایک نیک اور محنتی تاجر تھے، جنہوں نے اپنی زندگی بھر کی کمائی سے اپنے بیٹے کے لیے ایک چھوٹا سا کاروبار چھوڑا تھا۔

والد کی وفات کے بعد، سب لوگ سمجھتے تھے کہ حمزہ اپنے والد کی طرح دیانت دار اور سنجیدہ تاجر بنے گا۔ مگر حمزہ کے مزاج میں ایک خامی تھی — غفلت۔

وہ نماز میں سستی کرتا، کام میں تاخیر کرتا، وعدے نبھانے میں کوتاہی کرتا، اور اکثر کہتا:

“کل کر لیں گے، ابھی تو وقت ہے!”

یہی “کل” اس کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان بننے والا تھا۔

آپ پڑھ سکتے ہیں

سچائی کا چراغ

توکل کا انعام

صبر کا انعام, part 1

شکر کا امتحان, part 2

دعا کی طاقت, part 3


غفلت کی ابتدا (The Start of Negligence)

Consequence of Negligence

حمزہ کا کاروبار شروع میں اچھا چل رہا تھا۔ گاہک آتے، نفع ہوتا، مگر وہ جلد ہی اپنے آرام میں مشغول ہو گیا۔
صبح کی نماز کے بعد بازار جانے کے بجائے دیر تک سوتا رہتا۔ جب دوسرے تاجر دکانیں کھول لیتے، وہ ابھی تک ناشتے میں مصروف ہوتا۔

اس کا ایک پرانا دوست سلیمان بن حارث اکثر اسے سمجھاتا:

“حمزہ! یہ غفلت خطرناک ہے۔ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ اگر تم نے سنبھالا نہ لیا تو سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا۔”

حمزہ ہنستے ہوئے کہتا:

“سلیمان! زندگی کا مزہ تب ہی ہے جب تھوڑا آرام کیا جائے۔ اتنی بھاگ دوڑ کا کیا فائدہ؟”

سلیمان خاموش ہو جاتا، مگر دل میں جانتا تھا کہ یہ لاپرواہی ایک دن حمزہ کو نقصان پہنچائے گی۔


غفلت کا پہلا نقصان (The First Loss)

چند مہینے گزرے، اور ایک دن حمزہ کے کاروبار میں ایک بڑی ڈیل طے ہوئی۔ ایک تاجر شام تک مال لینے آنے والا تھا۔ مگر حمزہ نے سوچا:

“ابھی وقت ہے، پہلے ذرا آرام کر لوں، پھر مال تیار کر لوں گا۔”

وہ سو گیا — اور جب جاگا تو سورج غروب ہو چکا تھا۔ تاجر آ کر جا چکا تھا، ناراض ہو کر کسی اور سے سودا کر لیا۔

یہ اس کے کاروبار کا پہلا بڑا نقصان تھا۔ مگر حمزہ نے پھر بھی سبق نہ سیکھا۔


غفلت میں اضافہ (Negligence Grows)

Consequence of Negligence

وقت گزرتا گیا، اور اس کی سستی بڑھتی گئی۔
اب وہ جمعہ کی نماز بھی اکثر چھوڑ دیتا۔
ایک دن اس کی والدہ نے روتے ہوئے کہا:

“بیٹا، تمہارے والد نے جو کچھ بنایا، تم غفلت سے برباد کر رہے ہو۔ یہ دنیا فانی ہے، مگر تم آخرت کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔”

حمزہ نے ماں کے آنسو دیکھے، مگر اس کا دل نہ بدلا۔

“امّی، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ فکر نہ کریں۔”

مگر ٹھیک کچھ نہ ہوا۔


نقصان پر نقصان (Loss upon Loss)

کچھ دن بعد قافلے کا ایک بڑا آرڈر آیا۔ حمزہ نے وعدہ کیا کہ تین دن میں سامان تیار کر دے گا۔ مگر وہ دوسرے دن دوستوں کے ساتھ میلاد کی دعوت میں چلا گیا، اور تیسرا دن آرام میں گزار دیا۔

چوتھے دن جب قافلہ آیا، تو سامان تیار نہ تھا۔ قافلے کے سردار نے سخت غصے میں کہا:

“تمہارا وعدہ جھوٹا نکلا۔ ہم اب کبھی تم سے سودا نہیں کریں گے!”

یوں حمزہ کی شہرت خراب ہو گئی۔ گاہک کم ہو گئے، اور اس کی دکان سنسان ہونے لگی۔


تنہائی اور پچھتاوا (Loneliness and Regret)

اب حمزہ کے پاس کچھ نہ بچا۔ دکان خالی، گھر ادھورے خرچوں میں ڈوبا ہوا۔
ایک رات وہ مسجد کے باہر بیٹھا ہوا اپنے ماضی کو یاد کر رہا تھا۔
اس نے اپنے ہاتھوں سے چہرہ چھپایا اور آہستہ کہا:

“کاش میں نے وقت کی قدر کی ہوتی۔ کاش میں نے ماں کی بات مانی ہوتی۔”

اسی وقت مسجد سے امام صاحب نکلے۔ انہوں نے حمزہ کو دیکھا اور قریب آ کر کہا:

“بیٹے، دنیا کے نقصان کا علاج توبہ ہے۔ مگر غفلت اگر ایمان تک پہنچ جائے، تو پھر دل سخت ہو جاتا ہے۔”

حمزہ نے روتے ہوئے کہا:

“میں بدلنا چاہتا ہوں، مگر اب دیر ہو چکی ہے۔”

امام صاحب نے نرمی سے جواب دیا:

“اللہ کی رحمت کے لیے کبھی دیر نہیں ہوتی۔ توبہ کرو، محنت کرو، اور اپنی غفلت کو کوشش میں بدل دو۔”


امید کی کرن (A Ray of Hope)

اگلے دن حمزہ نے اپنی دکان صاف کی۔ پرانی چیزیں بیچ کر تھوڑا سا سرمایہ بنایا، اور نئے جذبے سے کام شروع کیا۔
اب وہ فجر کے بعد دکان کھولتا، وقت پر نماز پڑھتا، اور کسی وعدے میں کوتاہی نہ کرتا۔

لوگوں نے کہا،

“حمزہ بدل گیا ہے۔ اب وہ پہلے جیسا نہیں رہا۔”

سلیمان خوش ہوا، مگر حمزہ نے کہا:

“دوست، میں نے غفلت کی قیمت چکائی ہے۔ اب سمجھ آیا کہ جو وقت ضائع کرتا ہے، وہ زندگی ضائع کرتا ہے۔”


انجام (The Consequence)

کچھ مہینے بعد اللہ نے اس کی محنت میں برکت دی۔
کاروبار دوبارہ چمک اٹھا۔ مگر حمزہ کے دل میں اب غرور نہیں تھا، بلکہ شکر تھا۔
ایک دن مسجد میں بیٹھے اس نے بچوں کو نصیحت کی:

“بیٹو! زندگی میں سب سے بڑا دشمن تمہاری اپنی غفلت ہے۔
جب دل کہے ‘کل کریں گے’ تو سمجھو کہ شیطان تمہیں آج کا کام چھین رہا ہے۔”

سب بچے خاموشی سے سننے لگے۔


سبق (Moral Lesson)

غفلت صرف دنیا کا نقصان نہیں دیتی، ایمان کی روشنی بھی کم کر دیتی ہے۔
جو شخص اپنی زندگی کے قیمتی لمحوں کو ضائع کرتا ہے، وہ حقیقت میں اپنا ہی دشمن بن جاتا ہے۔

“وقت ایک نعمت ہے۔ جو اسے ضائع کرتا ہے، وہ دراصل اللہ کی عطا کی ہوئی زندگی کا شکر ادا نہیں کرتا۔”


اقتباس (Quote Summary)

🌙 “غفلت کا انجام ہمیشہ پچھتاوا ہے، مگر بیداری کا آغاز ہمیشہ کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔”
🌙 “Negligence leads to loss — but awareness leads to light.”

Leave a Comment