رحمت (Compassion)
مدینہ کی صبح (Morning in Madinah)
مدینہ منورہ کی صبح ہمیشہ کی طرح روشن اور پُرسکون تھی۔ مسجدِ نبوی ﷺ کے مناروں سے اذانِ فجر کی صدا گونج رہی تھی۔ ہوا میں کھجور کے درختوں کی خوشبو گھلی ہوئی تھی، اور پرندے چہچہا رہے تھے۔ لوگ اپنے معمولاتِ عبادت میں مصروف تھے۔
انہی دنوں مدینہ میں ایک نیک اور نرم دل شخص رہتا تھا — زید بن ہارثؓ۔ وہ پیشے کے لحاظ سے مزدور تھا، مگر دل کا بادشاہ۔ اُس کی آنکھوں میں ہمیشہ شفقت، چہرے پر سکون، اور لبوں پر “الحمدللہ” رہتا۔
زیدؓ اکثر کہا کرتے تھے:
“رحمت وہ خوشبو ہے جو دینے والے کے ہاتھوں میں بھی رہتی ہے۔”
.آپ پڑھ سکتے ہیں
ایک یتیم لڑکی (The Orphan Girl)

ایک دن زیدؓ مسجد سے واپس آ رہے تھے کہ راستے میں ایک چھوٹی بچی کو دیکھا۔ اُس کے کپڑے پھٹے ہوئے، بال بکھرے ہوئے، اور آنکھوں میں خوف تھا۔ وہ بازار کے ایک کونے میں بیٹھی رو رہی تھی۔
زیدؓ قریب گئے اور نرمی سے بولے:
“بیٹی، تم کیوں رو رہی ہو؟”
بچی نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا:
“میرے والد غزوہ میں شہید ہو گئے، ماں بیمار ہے، اور گھر میں کھانے کو کچھ نہیں۔ لوگ مجھے دیکھ کر ہنستے ہیں، کوئی مدد نہیں کرتا۔”
زیدؓ کے دل میں درد کی ایک لہر دوڑ گئی۔ انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں کہا:
“اے اللہ! تو نے مجھے ہاتھ دیے ہیں، یہ تیرے بندوں کے کام آنے کے لیے ہیں۔”
انہوں نے بچی کا ہاتھ تھاما اور کہا:
“آؤ بیٹی، آج سے تم اکیلی نہیں ہو۔ میں تمہارا باپ ہوں، تم میری بیٹی ہو۔”
ایک نیا رشتہ (A New Bond of Compassion)
زیدؓ بچی کو اپنے گھر لے آئے۔ اُن کی بیوی فاطمہؓ ایک نیک اور عبادت گزار خاتون تھیں۔ انہوں نے بچی کو گلے لگایا، کھانا دیا، اور اُس کے بال سنوارے۔
فاطمہؓ نے کہا:
“زید، یہ بچی اللہ کی امانت ہے۔ ہم اس کی پرورش ایسے کریں گے جیسے اپنی اولاد کی کرتے ہیں۔”
زیدؓ مسکرا کر بولے:
“رحمت کا اصل حق تب ادا ہوتا ہے جب دل میں اپنی ذات نہ رہے۔”
آہستہ آہستہ وہ بچی — جس کا نام صفیہؓ تھا — گھر کا حصہ بن گئی۔ اُس نے قرآن پڑھنا سیکھا، گھر کے کاموں میں مدد کی، اور اُس کے چہرے پر وہی نور جھلکنے لگا جو ایمان والوں کے چہروں پر ہوتا ہے۔
آزمائش (The Test of Compassion)
کچھ مہینوں بعد مدینہ میں قحط آ گیا۔ بازاروں میں اناج کم، پانی نایاب، اور لوگوں کے چہرے پریشان تھے۔ زیدؓ کے گھر میں بھی کھانے کے لیے تھوڑا سا آٹا بچا تھا۔
رات کا وقت تھا۔ زیدؓ نے دیکھا کہ فاطمہؓ چپ چاپ آٹے کا چھوٹا سا پیالہ بھر رہی ہیں۔
انہوں نے پوچھا:
“یہ کہاں لے جا رہی ہو؟”
فاطمہؓ نے جواب دیا:
“صفیہؓ کے محلے میں ایک بڑھیا کئی دن سے بھوکی ہے۔ میں سوچ رہی تھی کہ اُسے دے آؤں۔”
زیدؓ مسکرائے، اور بولے:
“یہی تو اصل ایمان ہے۔ جب خود کے پاس کم ہو، تب دوسروں کو دینا رحمت کی معراج ہے۔”
اُس رات وہ دونوں خاموشی سے آٹا لے کر اس بڑھیا کے گھر پہنچے۔ بڑھیا نے جب دروازہ کھولا اور ان کے ہاتھوں میں آٹا دیکھا تو اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اُس نے کہا:
“اللہ تم دونوں کو جنت میں جگہ دے۔ میں نے آج اللہ کی رحمت کو تمہارے ہاتھوں سے دیکھا ہے۔”
ایک خودغرض تاجر (The Greedy Merchant)

قحط کے دنوں میں مدینہ کا ایک دولت مند تاجر نعیم بن رافعؓ تھا۔ وہ اپنے گوداموں میں اناج ذخیرہ کیے بیٹھا تھا تاکہ قحط کے بعد زیادہ منافع کما سکے۔
زیدؓ نے ایک دن اُس سے کہا:
“نعیم، اگر تم یہ اناج لوگوں میں بانٹ دو، تو اللہ تمہیں اس سے زیادہ دے گا۔”
نعیمؓ نے ہنستے ہوئے کہا:
“زید! تم جذباتی لوگ ہمیشہ غریب ہی رہتے ہو۔ میں کاروباری آدمی ہوں، مجھے نقصان گوارا نہیں۔”
زیدؓ نے افسوس سے سر جھکایا اور کہا:
“نقصان وہ نہیں جو مال میں ہو، نقصان وہ ہے جو دل میں ہو۔”
اللہ کی تدبیر (The Divine Plan)
چند دن بعد مدینہ میں آسمان پر بادل چھا گئے، بارش برسی، کھیت سرسبز ہونے لگے۔ لیکن اچانک نعیمؓ کے گودام میں آگ لگ گئی — سارا اناج جل کر راکھ ہو گیا۔
لوگ دوڑ کر پہنچے، مگر کچھ بچا نہیں۔ نعیمؓ زمین پر بیٹھ گیا، ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگا:
“کاش میں نے زید کی بات مان لی ہوتی!”
اُسی وقت زیدؓ وہاں پہنچا۔ اُس نے بغیر کچھ کہے اپنے گھر کا بچا ہوا آٹا اٹھایا اور نعیمؓ کو دیا۔
“یہ لو بھائی، یہ تمہارے لیے۔”
نعیمؓ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ اُس نے کہا:
“تم نے میرے ساتھ رحمت کی، حالانکہ میں نے تمہارا مذاق اُڑایا تھا۔ یہ کیسی سخاوت ہے؟”
زیدؓ نے جواب دیا:
“یہ میری نہیں، اللہ کی رحمت ہے۔ ہم سب اُس کے ہاتھوں کے محتاج ہیں۔”
صفیہؓ کی قربانی (The Act of the Orphan Girl)
کچھ مہینوں بعد ایک دن صفیہؓ بیمار ہو گئی۔ اُس کے علاج کے لیے دوا خریدنی تھی، مگر گھر میں پیسے نہیں تھے۔ فاطمہؓ پریشان ہو گئیں۔
صفیہؓ نے کمزور آواز میں کہا:
“امّی، میں نے اپنی چھوٹی چوڑیاں رکھی ہیں۔ انہیں بیچ کر دوا لے آؤ۔”
زیدؓ نے اُس کی پیشانی چوم کر کہا:
“بیٹی، تم نے ہمیں رحمت کا مطلب سمجھا دیا۔ یہ محبت کا وہ درجہ ہے جو ایمان والوں کے دلوں میں ہوتا ہے۔”
مدینہ کا انقلاب (Transformation in Madinah)
قحط ختم ہوا، مگر زیدؓ کے کردار کی خوشبو پورے مدینہ میں پھیل گئی۔ لوگ اُس کے دروازے پر آتے، مدد لیتے، اور دعائیں دیتے۔
نعیمؓ نے اپنی دولت کا بڑا حصہ غریبوں میں بانٹ دیا اور کہا:
“میں نے زید سے سیکھا کہ رحمت دینا، دراصل اپنے دل کو زندہ کرنا ہے۔”
زندگی کا آخری لمحہ (The Final Moment)
کچھ سال بعد زیدؓ بیمار پڑ گئے۔ اُن کی سانسیں دھیمی ہو گئیں، مگر لبوں پر ذکر باقی تھا۔ صفیہؓ اور فاطمہؓ اُن کے پاس بیٹھی تھیں۔
زیدؓ نے کمزور آواز میں کہا:
“بیٹی صفیہؓ، یاد رکھنا — انسان کی اصل طاقت دولت نہیں، بلکہ دل کی نرمی ہے۔ رحمت وہ چیز ہے جو بندے کو اللہ کے قریب کر دیتی ہے۔”
صفیہؓ نے روتے ہوئے کہا:
“ابا، میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں ہمیشہ دوسروں کے لیے رحمت بنوں گی۔”
زیدؓ مسکرا کر بولے:
“اللہ تمہیں رحمت کا سایہ بنائے۔”
کچھ لمحوں بعد اُن کی روح پرواز کر گئی۔ مسجدِ نبوی ﷺ سے اذان کی آواز گونجی — “اللہ اکبر… اللہ اکبر” — اور مدینہ کی فضا میں زید بن ہارثؓ کا نام ہمیشہ کے لیے رحمت کی علامت بن گیا۔
مدینہ کا سبق (The Lesson of Madinah)
مدینہ کے لوگ کہا کرتے تھے:
“اگر تم کسی کو روتا دیکھو، تو زیدؓ کی طرح اُس کے قریب جاؤ۔
اگر کسی کو بھوکا دیکھو، تو فاطمہؓ کی طرح اُس کا پیٹ بھرو۔
اگر کوئی تمہیں دھوکہ دے، تو نعیمؓ کی طرح رحمت سے جواب دو۔”
نتیجہ (Moral of the Story)
رحمت ایمان کی روح ہے۔
جو بندہ دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہے، وہی حقیقی مومن ہے۔
رحمت انسان کے دل کو نرم اور روح کو روشن کرتی ہے۔
“جو زمین پر رحم کرتا ہے، اُس پر آسمان والا رحم کرتا ہے۔” – (حدیثِ مبارکہ)