صبر کا انعام _The Reward of Patience, part 1

صبر اسلام کی سب سے عظیم صفات میں سے ایک ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو انسان کو تاریکیوں میں بھی امید دیتی ہے، وہ قوت ہے جو دل کو غم میں بھی سکون عطا کرتی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے:

“بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔” (البقرہ: 153)

یہی صبر ایک مومن کے ایمان کی اصل بنیاد ہے۔ اس کہانی میں ہم دیکھیں گے کہ کس طرح ایک سچے صحابی نے آزمائش کے وقت صبر کیا، اور اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا و آخرت دونوں میں عزت بخشی۔

.آپ پڑھ سکتے ہیں

شکر کا امتحان, part 2

دعا کی طاقت, part 3

نیکی اور بدی کا انجام

توکل کا انعام


مدینہ کی وادی میں ایک صابر انسان (A Patient Man in the Valley of Madinah)

مدینہ منورہ کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جہاں حضرت سالمؓ نامی ایک صحابی رہتے تھے۔ وہ نبی کریم ﷺ کے قریبی صحابہ میں سے نہ تھے، لیکن ایمان، اخلاص اور صبر میں بے مثال تھے۔ ان کی زندگی غربت میں گزرتی، مگر ان کے چہرے پر ہمیشہ اطمینان کی روشنی جھلکتی تھی۔

حضرت سالمؓ کھجور کے باغ میں مزدوری کرتے تھے۔ دن بھر کی محنت کے بعد بھی وہ شکر ادا کرتے اور فرمایا کرتے:

“میرا رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے، جو کچھ ملے وہ میرے لیے بہترین ہے۔”

ان کی بیوی حضرت فاطمہؓ ایک نیک اور صابر خاتون تھیں۔ وہ اکثر اپنے شوہر کو حوصلہ دیتیں:

“سالم! دنیا کی تنگی عارضی ہے، اصل راحت تو اللہ کے قریب ہے۔”


آزمائش کی گھڑی (The Moment of Trial)

ایک سال مدینہ میں شدید قحط پڑا۔ زمین خشک ہوگئی، کھجور کے درخت سوکھ گئے، اور پانی کے کنویں بھی کمزور ہو گئے۔ حضرت سالمؓ کی مزدوری رک گئی۔ گھر میں کھانے کو کچھ نہ رہا۔ کئی دن گزر گئے مگر فاقہ کم نہ ہوا۔

بیوی نے آہستہ سے کہا:

“سالم، تم نبی کریم ﷺ کے پاس جاؤ، وہ کسی نہ کسی طرح مدد فرما دیں گے۔”

حضرت سالمؓ نے مسکرا کر کہا:

“میں ان کے دروازے پر مدد کے لیے نہیں، دعا کے لیے جاؤں گا۔ کیونکہ روزی دینے والا وہی رب ہے جس نے محمد ﷺ کو بھیجا۔”

یہ الفاظ صبر و یقین کا نمونہ تھے۔ وہ مسجدِ نبوی میں گئے، نبی ﷺ کو سلام کیا، اور عرض کیا:

“یا رسول اللہ ﷺ، دعا کیجئے کہ اللہ ہمیں صبر عطا فرمائے اور رزق میں برکت دے۔”

نبی ﷺ نے مسکرا کر فرمایا:

“اے سالم! جو صبر کرتا ہے، اللہ اسے کبھی ضائع نہیں کرتا۔ یقین رکھو کہ آسانی صبر کے بعد آتی ہے۔”


صبر کی رات (The Night of Patience)

اسی رات حضرت سالمؓ اپنے گھر لوٹے۔ بیوی کے چہرے پر فاقے کی تھکن تھی۔ انہوں نے اسے تسلی دی:

“اللہ بڑا مہربان ہے، وہ ہماری حالت دیکھ رہا ہے۔”

رات بھر وہ عبادت میں رہے۔ صبح کے وقت جب وہ نمازِ فجر کے بعد گھر سے نکلے تو دور سے ایک قافلہ آتا دکھائی دیا۔ قافلے کے سردار نے آواز دی:

“کیا تم سالم بن حارث ہو؟”

حضرت سالمؓ حیران ہوئے: “جی، میں ہی ہوں۔”

قافلے والے نے کہا:

“ہم شام سے آ رہے ہیں۔ ہمیں راستے میں تمہارا غلام ملا، جو قافلے سے بچھڑ گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ اس کے مالک سالمؓ ہیں۔ ہم نے اسے آزاد کر دیا، اور یہ کھجوریں اور اناج تمہارے لیے تحفہ ہے۔”

حضرت سالمؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ بار بار کہنے لگے:

“الحمد للہ! اللہ اپنے صابر بندوں کو کبھی بھوکا نہیں چھوڑتا۔”


شکر کا لمحہ (The Moment of Gratitude)

حضرت سالمؓ نے وہ تمام اناج اور کھجوریں اپنے محلے کے محتاجوں میں تقسیم کر دیں۔ خود کے لیے صرف اتنا رکھا کہ ایک دن کا کھانا بن سکے۔ ان کی بیوی نے پوچھا:

“سالم! ہم خود محتاج ہیں، سب کچھ بانٹ دیا؟”

حضرت سالمؓ نے کہا:

“فاطمہ! یہ رزق میرا امتحان تھا، اور میں چاہتا ہوں کہ میرا صبر مکمل ہو۔ اللہ نے دیا تاکہ میں شکر ادا کروں۔”


نبی ﷺ کی زیارت (Meeting the Prophet ﷺ)

چند دن بعد نبی ﷺ نے حضرت سالمؓ کو مسجد میں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

“اے سالم! اللہ نے تمہارے صبر پر فرشتوں کے سامنے فخر فرمایا۔”

حضرت سالمؓ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے۔ وہ عرض کرنے لگے:

“یا رسول اللہ ﷺ! اگر صبر اللہ کو پسند ہے تو میں اپنی زندگی اسی پر گزاردوں گا۔”

نبی ﷺ نے فرمایا:

“یاد رکھو، صبر ایمان کا آدھا حصہ ہے، اور جو صبر کرتا ہے، اس کے لیے جنت کے دروازے کھلے ہیں۔”


صبر کا انعام (The Reward of Patience)

چند مہینے بعد، مدینہ میں خوشحالی لوٹ آئی۔ کھجوروں کے درخت دوبارہ ہرے ہو گئے۔ حضرت سالمؓ کو ایک نیک شخص نے اپنے باغ کا نگران مقرر کر دیا۔ اللہ نے ان کے رزق میں اتنی برکت دی کہ وہ خود بھی خوشحال ہوئے اور دوسروں کی مدد بھی کرنے لگے۔

ایک دن وہ اپنے باغ میں بیٹھے سوچ رہے تھے کہ کیسا وقت آیا تھا جب ایک دانہ کھجور بھی میسر نہ تھا، اور آج اللہ نے خزانے کھول دیے۔ وہ کہنے لگے:

“اے رب! تو نے صبر کا بدلہ ایسے دیا کہ میرا دل جھک گیا۔ تو ہی میرا سہارا ہے، تو ہی میرا رازق۔”


نصیحت اور سبق (Lesson & Wisdom)

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ صبر محض خاموشی کا نام نہیں بلکہ ایمان کا مظہر ہے۔ جب انسان مصیبت میں اللہ پر یقین رکھتا ہے، تو اللہ اس کے لیے راستے کھول دیتا ہے جہاں انسان کا گمان بھی نہیں پہنچتا۔

قرآن میں ارشاد ہے:

“بے شک تنگی کے بعد آسانی ہے۔” (الشرح: 6)

حضرت سالمؓ کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جو اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے، وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ صبر صرف برداشت نہیں بلکہ ایک ایمان افروز عمل ہے، جو انسان کو اللہ کے قریب کر دیتا ہے۔


اختتام (Conclusion)

حضرت سالمؓ کا نام تاریخ کے صفحات میں ایک گمنام مگر روشن چراغ کی طرح ہے۔ ان کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ صبر کا انعام دنیا میں عزت اور آخرت میں جنت ہے۔

“جو صبر کرتا ہے، وہ دراصل اللہ سے محبت کرتا ہے، اور جو اللہ سے محبت کرتا ہے، وہ کبھی خالی نہیں رہتا۔”

Leave a Comment