دعا کی طاقت _The Power of Dua, part 3

دعا مومن کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جو بندے کو اس کے رب سے جوڑتا ہے، وہ راز جو دل سے نکل کر آسمان تک پہنچتا ہے۔
قرآن میں ارشاد ہے:

“اور تمہارا رب کہتا ہے، مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔” (المؤمن: 60)

حضرت سالمؓ کی زندگی صبر اور شکر کی مثال تھی، مگر ان کی کہانی ابھی مکمل نہ ہوئی تھی۔ اب ان کے ایمان کا تیسرا امتحان شروع ہوا — دعا کا امتحان۔

.آپ پڑھ سکتے ہیں

صبر کا انعام, part 1

شکر کا امتحان, part 2

توکل کا انعام

نیکی اور بدی کا انجام


مدینہ کی خاموش رات (A Silent Night in Madinah)

ایک رات مدینہ کی ہوائیں ٹھنڈی اور پر سکون تھیں۔ حضرت سالمؓ اپنے باغ میں بیٹھے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔
چاندنی درختوں پر پڑ رہی تھی اور ستارے جگمگا رہے تھے۔ ان کے دل میں ایک خلش تھی — وہ بے اولاد تھے۔

انہوں نے آہستہ سے اپنی بیوی فاطمہؓ سے کہا:

“فاطمہ! اللہ نے ہمیں سب کچھ دیا، مگر اولاد نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے بعد کوئی ایسا ہو جو اللہ کا ذکر کرتا رہے۔”

فاطمہؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انہوں نے کہا:

“سالم! دعا کرو، شاید اللہ ہماری التجا سن لے۔”


دل سے نکلی پکار (The Cry from the Heart)

اس رات حضرت سالمؓ نے وضو کیا، دو رکعت نماز ادا کی، اور پھر ہاتھ اٹھائے۔
چاندنی میں ان کے آنسو چمک رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے:

“اے میرے رب! تو نے مجھے فاقوں میں صبر دیا، خوشحالی میں شکر دیا، اب مجھے اپنی رحمت سے نواز دے۔ مجھے ایک ایسی اولاد عطا فرما جو تیرا شکر گزار ہو، تیری راہ پر چلے۔”

انہوں نے کئی راتیں اسی دعا میں گزاری۔ دن گزرتے گئے، مہینے بیت گئے، مگر ظاہری طور پر کوئی نشان نہ ملا۔
لوگ کہتے:

“سالمؓ! تمہاری عمر بڑھ چکی ہے، اب امید چھوڑ دو۔”

مگر وہ مسکرا کر جواب دیتے:

“میں دعا رب سے مانگتا ہوں، مخلوق سے نہیں۔ میرا رب کبھی خالی نہیں لوٹاتا۔”


رحمت کی بشارت (The Glad Tidings of Mercy)

ایک دن فاطمہؓ نے خواب دیکھا کہ ایک روشن چاند ان کے آنگن میں اتر آیا ہے۔
وہ گھبرا کر جاگ اٹھیں اور حضرت سالمؓ کو بتایا۔ سالمؓ نے کہا:

“یہ اللہ کی طرف سے رحمت کی علامت ہے۔”

کچھ ہی دنوں بعد، ان کی دعا قبول ہوئی — فاطمہؓ امید سے ہوئیں۔

حضرت سالمؓ نے سجدہ شکر ادا کیا، آنسو بہاتے ہوئے کہا:

“اے میرے رب! میں نے تجھ سے مانگا اور تو نے عطا کیا، بے شک تو دعا سننے والا ہے۔”


نبی ﷺ کی خوشخبری (The Prophet’s Congratulations)

جب نبی ﷺ کو اس خبر کا علم ہوا تو آپ ﷺ مسکرائے اور فرمایا:

“یہ اللہ کا فضل ہے جو اپنے صابر بندوں پر نازل ہوتا ہے۔”

کچھ ماہ بعد، ایک بیٹے کی ولادت ہوئی۔ بچے کا چہرہ چمکدار تھا، اور آنکھوں میں نور تھا۔
نبی ﷺ نے اس کا نام رکھا عبداللہؓ“اللہ کا بندہ۔”

آپ ﷺ نے بچے کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا:

“یہ بچہ اپنے باپ کی طرح صابر، شاکر اور دعاگو ہوگا۔”


دعا کا اثر (The Miracle of Dua)

عبداللہؓ بڑے ہونے لگے۔ وہ اپنے باپ کے ساتھ مسجد نبوی جاتے، قرآن سنتے، اور نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر رہتے۔
ایک دن انہوں نے اپنے باپ سے پوچھا:

“ابا جان! آپ ہمیشہ دعا کیوں کرتے ہیں، جب کہ اللہ نے آپ کو سب کچھ دیا؟”

حضرت سالمؓ نے مسکرا کر کہا:

“بیٹے، دعا صرف مانگنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ سے بات کرنے کا طریقہ ہے۔ جب ہم دعا کرتے ہیں، تو ہم رب کے قریب ہو جاتے ہیں۔”


ایک اور آزمائش (Another Trial)

سالوں بعد، جب حضرت سالمؓ بوڑھے ہو گئے، مدینہ میں ایک وبا پھیل گئی۔ عبداللہؓ بھی اس مرض میں مبتلا ہو گئے۔
باپ کے لیے سب سے بڑی آزمائش بیٹے کی تکلیف تھی۔

رات کے وقت وہ عبداللہؓ کے سرہانے بیٹھے، ہاتھ اٹھا کر کہہ رہے تھے:

“اے میرے رب! اگر تو چاہے تو اسے شفا دے دے، کیونکہ تُو شفا دینے والا ہے۔ اگر اسے اپنے پاس بلانا چاہے، تو مجھے صبر دے۔”

یہ الفاظ کہہ کر وہ رو پڑے، مگر ان کے دل میں کوئی شکوہ نہ تھا۔


دعا کا معجزہ (The Miracle Happens)

صبح کے وقت، جب سورج طلوع ہوا، عبداللہؓ نے آنکھیں کھول دیں۔
وہ نرم آواز میں بولے:

“ابا جان! میں نے خواب میں ایک باغ دیکھا، جہاں نبی ﷺ نے کہا: عبداللہ! ابھی واپس جاؤ، تمہارے باپ کی دعا قبول ہو گئی ہے۔”

حضرت سالمؓ کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ پڑے۔
انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا:

“اے میرے رب! بے شک دعا تیری طاقت ہے، اور تیرا وعدہ سچا ہے۔”


نبی ﷺ کی نصیحت (The Prophet’s Advice)

کچھ دن بعد نبی ﷺ نے حضرت سالمؓ کو دیکھا اور فرمایا:

“اللہ تم سے راضی ہوا، کیونکہ تم نے صبر کیا، شکر کیا، اور دعا کا دامن نہیں چھوڑا۔”

آپ ﷺ نے فرمایا:

“دعا ایمان کی جان ہے۔ جو دعا چھوڑ دیتا ہے، وہ اپنے رب سے دور ہو جاتا ہے۔”

حضرت سالمؓ نے عرض کیا:

“یا رسول اللہ ﷺ، میں نے سیکھا کہ دعا بندے کو بدل دیتی ہے، چاہے تقدیر نہ بدلے۔”

نبی ﷺ نے فرمایا:

“تم نے حق کہا، اے سالم۔ دعا مومن کا سہارا ہے، اور اس کی طاقت دل میں ہے۔”


آخری دن (The Final Days)

وقت گزرتا گیا۔ حضرت سالمؓ کی عمر ڈھل چکی تھی۔ ایک دن وہ باغ میں بیٹھے قرآن پڑھ رہے تھے۔ ان کے بیٹے عبداللہؓ پاس بیٹھے تھے۔
سالمؓ نے کہا:

“بیٹے! زندگی کا سب سے قیمتی سبق یہ ہے کہ صبر کرو، شکر کرو، اور دعا کبھی مت چھوڑو۔ کیونکہ انہی تینوں میں ایمان کی روح ہے۔”

کچھ لمحوں بعد انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا، ہلکی سی مسکراہٹ ان کے لبوں پر آئی، اور وہ پر سکون نیند سو گئے۔


عبداللہؓ کی دعا (The Son’s Prayer)

عبداللہؓ نے باپ کے جنازے کے بعد سجدے میں گر کر دعا کی:

“اے میرے رب! میرے والد نے صبر کیا، شکر کیا، اور تجھ سے مانگا۔ اب ان پر اپنی رحمت نازل فرما۔ مجھے بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔”

مدینہ کی فضا میں سکون کی لہر دوڑ گئی۔ جیسے ہوا بھی گواہی دے رہی ہو کہ ایک صابر، شاکر، اور دعاگو بندہ اپنے رب کے حضور حاضر ہو گیا۔


اختتام (Conclusion)

حضرت سالمؓ کی زندگی تین روشن چراغوں کی طرح تھی —
صبر، شکر، اور دعا۔
یہی تین ستون ایمان کے قلعے کو مضبوط رکھتے ہیں۔

قرآن میں فرمایا گیا:

“میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ مجھ سے دعا کریں، میں قریب ہوں۔ جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے، میں اس کی پکار سنتا ہوں۔” (البقرہ: 186)


سبق (Moral Lesson)

  • دعا مومن کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
  • دعا کبھی ضائع نہیں جاتی؛ اللہ اسے اپنی حکمت کے مطابق قبول کرتا ہے۔
  • صبر، شکر، اور دعا — ایمان کے تین بنیادی ستون ہیں۔
  • جو بندہ دعا پر قائم رہتا ہے، وہ کبھی تنہا نہیں ہوتا۔

“جب دل ٹوٹ جائے، اور لبوں پر صرف دعا رہ جائے — تو سمجھ لو کہ اللہ تمہارے قریب ہے۔”

Leave a Comment