حضرت ادریس علیہ السلام کی کہانی_Prophet Idris (A.S)

Table of Contents

حضرت ادریس علیہ السلام – The Story of Prophet Idris (A.S)

حضرت ادریس علیہ السلام انبیاء کرام میں سے ایک جلیل القدر نبی تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے بہت بلند مقام عطا فرمایا۔
آپ حضرت آدم علیہ السلام کے پڑپوتے تھے، یعنی آپ کا نسب حضرت شیث علیہ السلام کے ذریعے حضرت آدم علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔

قرآن مجید میں آپ کا ذکر دو مقامات پر آیا ہے، جہاں آپ کو “صِدِّیقًا نَبِیًّا” (سچا نبی) اور “رَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا” (ہم نے اسے بلند مقام دیا) کے الفاظ سے یاد کیا گیا۔

حضرت ادریس علیہ السلام وہ نبی ہیں جنہوں نے انسانوں کو علم، تحریر، حساب، اور صنعت کے فن سکھائے۔

آپ اسے پڑھ سکتے ہیں۔”

حضرت ابراہیم علیہ السلام

حضرت نوح علیہ السلام

حضرت آدم علیہ السلام


پیدائش اور نسب (Birth and Lineage)

Prophet Idris (A.S)

حضرت ادریس علیہ السلام کی پیدائش حضرت آدم علیہ السلام کے تقریباً 622 سال بعد ہوئی۔
آپ کا نام “ادریس” اس لیے رکھا گیا کیونکہ آپ بہت زیادہ درس و تدریس (علم سکھانے) میں مشغول رہتے تھے۔

آپ کا اصل نام اخنوخ (Enoch) بتایا جاتا ہے۔
اسلامی روایات کے مطابق، آپ حضرت شیث علیہ السلام کے پوتے اور حضرت آدم علیہ السلام کے چوتھی پشت کے نبی تھے۔


نبوت کا آغاز (Beginning of Prophethood)

اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس علیہ السلام کو اس وقت نبوت عطا فرمائی جب لوگوں میں شرک اور گناہ عام ہوچکے تھے۔
لوگ دنیا میں مگن ہوچکے تھے، نافرمانی بڑھ چکی تھی، اور عدل و انصاف ختم ہو گیا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تاکہ وہ انہیں توحید، نیکی، اور عدل کی دعوت دیں۔


دعوتِ توحید (Call to Monotheism)

Prophet Idris (A.S)

حضرت ادریس علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت کی دعوت دی۔
انہوں نے فرمایا:

“اے لوگو! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو، جو تمہیں پیدا کرنے والا ہے۔”

آپ نے اپنی قوم کو شرک سے روکا، جھوٹ، ظلم، اور فریب سے منع فرمایا۔
آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو امتحان کے لیے پیدا کیا ہے اور ایک دن سب کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔


قوم کی نافرمانی (Rejection by the People)

حضرت ادریس علیہ السلام کی قوم میں کچھ لوگ نیک بھی تھے، مگر اکثریت نے ان کی بات نہ مانی۔
قوم کے بڑے لوگوں نے کہا:

“اے ادریس! تم ہمیں ان چیزوں سے روکتے ہو جن میں ہمیں مزہ آتا ہے۔ تم چاہتے ہو کہ ہم تمہارے جیسے بن جائیں؟”

قوم کے لوگ غرور میں مبتلا تھے۔
وہ کہتے:

“ہمارے باپ دادا بھی یہی کرتے آئے ہیں، تم کون ہوتے ہو ہمیں روکنے والے؟”

حضرت ادریس علیہ السلام صبر و حوصلے کے ساتھ انہیں سمجھاتے رہے، مگر وہ اپنی ضد پر قائم رہے۔


حضرت ادریس علیہ السلام کا علم و حکمت (Wisdom and Knowledge of Prophet Idris A.S)

حضرت ادریس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی علم عطا فرمایا تھا۔
وہ پہلے انسان تھے جنہوں نے تحریر (Writing) ایجاد کی۔

آپ کی علمی خدمات:

  1. آپ نے تحریر کا طریقہ سکھایا۔
  2. حساب، علمِ فلکیات، اور طب کے بنیادی اصول متعارف کرائے۔
  3. آپ نے لوگوں کو درزی کا فن سکھایا — اسی لیے آپ کو “پہلے درزی نبی” بھی کہا جاتا ہے۔
  4. آپ نے انسانوں کو صنعتی ترقی کی سمت میں رہنمائی دی۔

حضرت ادریس علیہ السلام کی حکمت اور علم کی وجہ سے انہیں “ادریس” (یعنی پڑھانے والا) کہا جانے لگا۔


عبادت اور تقویٰ (Worship and Piety)

حضرت ادریس علیہ السلام انتہائی عبادت گزار اور زاہد تھے۔
آپ دن رات اللہ کی یاد میں رہتے، روزے رکھتے، اور عبادت سے کبھی غافل نہ ہوتے۔

آپ فرمایا کرتے تھے:

“دنیا ایک گزرگاہ ہے، یہاں کے لیے نہیں بلکہ آخرت کے لیے کام کرو۔”

اللہ تعالیٰ نے آپ کے اخلاص کے بدلے آپ کو فرشتوں کی صحبت عطا کی۔


اللہ سے قربت (Closeness to Allah Almighty)

حضرت ادریس علیہ السلام کا مقام اتنا بلند تھا کہ فرشتے بھی آپ کے ذکر سے خوش ہوتے تھے۔
ایک دن ایک فرشتے نے عرض کیا:

“اے ادریس! آپ کا مقام بڑا عظیم ہے۔ میں چاہوں تو آپ کو آسمان کی سیر کرواؤں۔”

اللہ کے حکم سے فرشتے نے آپ کو اپنے پروں پر بٹھایا اور آسمان کی طرف لے گیا۔
روایات کے مطابق، حضرت ادریس علیہ السلام کو آسمانِ چہارم (Fourth Heaven) تک بلند کیا گیا۔


قرآن میں حضرت ادریس علیہ السلام کا ذکر (Mention in the Qur’an)

سورۃ مریم (19:56–57):

“اور کتاب میں ادریس کا ذکر کرو، یقیناً وہ سچا نبی تھا،
اور ہم نے اسے بلند مقام پر اٹھا لیا۔”

سورۃ الانبیاء (21:85–86):

“اور اسماعیل، ادریس اور ذو الکفل کو یاد کرو، یہ سب صبر کرنے والوں میں سے تھے۔
اور ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کیا، بے شک وہ نیک لوگوں میں سے تھے۔”

ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ نے حضرت ادریس علیہ السلام کو دنیا اور آخرت دونوں میں عزت و مقام عطا فرمایا۔


آسمان پر اٹھائے جانا (Ascension to Heaven)

حضرت ادریس علیہ السلام کی زندگی کے اختتام کے قریب، اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔
یہ واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ سے مشابہت رکھتا ہے۔

روایات میں آتا ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام آج بھی آسمان پر زندہ ہیں، اور قیامت کے قریب دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے۔


حضرت ادریس علیہ السلام کی اخلاقی تعلیمات (Moral Teachings)

حضرت ادریس علیہ السلام نے اپنی قوم کو جو بنیادی تعلیمات دیں، ان میں شامل ہیں:

  1. توحید: صرف ایک اللہ کی عبادت۔
  2. عدل و انصاف: لوگوں کے ساتھ انصاف کرنا۔
  3. سچائی: جھوٹ سے پرہیز اور وعدے کی پابندی۔
  4. زہد: دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی تیاری۔
  5. علم: علم حاصل کرنا اور اسے دوسروں تک پہنچانا۔

قوم پر اللہ کا فیصلہ (Divine Judgment)

جب قوم نے آپ کی دعوت کا انکار کیا اور گناہوں پر ڈٹی رہی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عذاب نازل کیا۔
زمین زلزلوں سے لرز اٹھی، طوفان آئے، اور قوم کا بیشتر حصہ ہلاک ہوگیا۔

یہ عذاب قوم کے لیے تنبیہ تھی کہ اللہ کے نبی کی نافرمانی کا انجام ہمیشہ ہلاکت ہے۔


حضرت ادریس علیہ السلام کے معجزات (Miracles of Prophet Idris A.S)

  1. تحریر کی ایجاد: آپ پہلے نبی تھے جنہوں نے حروف لکھے۔
  2. حساب و فلکیات: آسمانی حرکات کو سمجھنے والے پہلے انسان۔
  3. درزی کا فن: کپڑے سینے اور پہننے کا آغاز آپ نے کیا۔
  4. آسمان پر اٹھائے جانا: یہ آپ کا سب سے بڑا معجزہ تھا۔

وفات یا رفع (Death or Ascension)

قرآن کے مطابق، حضرت ادریس علیہ السلام کو اللہ نے “بلند مقام” پر اٹھا لیا۔
علماء کے نزدیک اس کا مطلب ہے کہ آپ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور اب بھی زندہ ہیں۔

آپ کو آسمانِ چہارم پر دیکھا گیا، جہاں نبی کریم ﷺ نے معراج کے موقع پر آپ سے ملاقات کی۔


حضرت ادریس علیہ السلام سے حاصل ہونے والے اسباق (Lessons from the Life of Prophet Idris A.S)

  1. علم حاصل کرنا عبادت ہے۔
  2. اللہ کے حکم پر عمل کرنے میں کامیابی ہے۔
  3. دنیا عارضی ہے، آخرت ہمیشہ باقی ہے۔
  4. صبر اور استقامت ہر نبی کا ہتھیار ہے۔
  5. نیکی سکھانا سب سے بڑا صدقہ ہے۔

عمومی سوالات (FAQs)

Q1: حضرت ادریس علیہ السلام کا اصل نام کیا تھا؟

ان کا اصل نام اخنوخ (Enoch) تھا۔

Q2: حضرت ادریس علیہ السلام کہاں پیدا ہوئے؟

آپ بابل (Iraq) کے علاقے میں پیدا ہوئے۔

Q3: حضرت ادریس علیہ السلام کو آسمان پر کیوں اٹھایا گیا؟

اللہ تعالیٰ نے ان کے علم، تقویٰ، اور صبر کے بدلے انہیں بلند مقام عطا فرمایا۔

Q4: حضرت ادریس علیہ السلام کس نبی کے زمانے میں تھے؟

وہ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد اور حضرت نوح علیہ السلام سے پہلے تشریف لائے۔

Q5: کیا حضرت ادریس علیہ السلام اب بھی زندہ ہیں؟

جی ہاں، اسلامی روایات کے مطابق آپ زندہ ہیں اور آسمان پر موجود ہیں۔


نتیجہ (Conclusion)

حضرت ادریس علیہ السلام کی زندگی علم، ایمان، اور عمل کا ایک بہترین نمونہ ہے۔
انہوں نے انسانوں کو دنیاوی علم کے ساتھ ساتھ دینی رہنمائی بھی دی۔
آپ کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم و عمل، صبر و شکر، اور توحید پر ثابت قدم رہنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت ادریس علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Leave a Comment