احسان کا صلہ-The Reward of Kindness

مدینہ کی گلیاں (The Streets of Madinah)

مدینہ منورہ کی شامیں ہمیشہ پرسکون ہوا کرتی تھیں۔ سورج کی کرنیں مسجدِ نبوی کے گنبدوں پر نرم چمک ڈال رہی تھیں۔ فضاؤں میں درود کی خوشبو اور ایمان کی حرارت بسی ہوئی تھی۔

انہی گلیوں میں ایک عام مگر نیک دل نوجوان زید بن ناصرؓ رہتا تھا۔ وہ نہ کوئی رئیس تھا نہ عالم، مگر اس کے دل میں دوسروں کے لیے نرمی، رحم، اور احسان بھرا تھا۔ وہ ہمیشہ کہتا تھا:

“اگر میں کسی کے دل سے بوجھ ہٹا سکوں تو یہ میرے لیے صدقہ ہے۔”

.آپ پڑھ سکتے ہیں

عدل کا تاج

توکل کا انعام

احسان کا پھل

نیکی اور بدی کا انجام

قناعت اور سکون


بچپن کی تربیت (The Lesson from Childhood)

Reward of Kindness

زیدؓ کی ماں ایک غریب مگر خدا ترس عورت تھی۔ وہ ہمیشہ اپنے بیٹے کو نصیحت کرتی:

“بیٹا! انسان کا اصل حسن اس کے چہرے میں نہیں، بلکہ اس کے احسان میں ہے۔ اگر کوئی تجھے تکلیف دے، تب بھی بھلائی سے پیش آنا۔”

یہی نصیحت زیدؓ کے دل میں اتر گئی۔ وہ بچپن سے ہی دوسروں کے کام آتا، بیماروں کی خدمت کرتا، یتیم بچوں کو کھانا کھلاتا، اور کمزوروں کے لیے آواز بنتا۔


ایک اجنبی کی فریاد (A Stranger’s Plea)

ایک دن زیدؓ مسجد سے واپس جا رہا تھا کہ راستے میں ایک اجنبی شخص ملا۔ اس کا لباس پھٹا ہوا تھا، چہرہ گرد آلود، اور آنکھوں میں تھکن نمایاں تھی۔

اس نے آہستہ کہا:

“بھائی! تین دن سے بھوکا ہوں۔ کچھ کھانے کو مل سکتا ہے؟”

زیدؓ کے پاس اس دن صرف ایک روٹی تھی جو وہ خود کے لیے لے جا رہا تھا۔ مگر اس نے لمحہ بھر سوچے بغیر وہ روٹی اس مسافر کو دے دی۔

مسافر نے حیرانی سے پوچھا:

“اور تم کیا کھاؤ گے؟”

زیدؓ مسکرا کر بولا:

“میرا رب بھوکے کو کھلاتا ہے، تو اپنے بندے کو بھوکا نہیں رکھے گا۔”


بھلائی کا سفر (A Journey of Goodness)

وقت گزرتا گیا۔ زیدؓ کے احسان کے واقعات مدینہ میں مشہور ہو گئے۔ وہ کبھی کسی بیوہ کے گھر پانی بھرنے جاتا، کبھی کسی غلام کو آزاد کرانے کے لیے پیسے جمع کرتا۔

ایک دن نبی اکرم ﷺ نے زیدؓ کو مسجد میں دیکھا اور فرمایا:

“اے زید! میں نے سنا ہے کہ تم لوگوں پر احسان کرتے ہو۔ جان لو، جو بندہ مخلوق پر احسان کرتا ہے، اللہ اس پر احسان فرماتا ہے۔”

زیدؓ کے چہرے پر عاجزی تھی۔ انہوں نے عرض کیا:

“یا رسول اللہ ﷺ، میں صرف وہی کرتا ہوں جو میری ماں نے سکھایا تھا — دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرو۔”


آزمائش کا لمحہ (The Moment of Trial)

کچھ عرصہ بعد مدینہ میں ایک سخت قحط آیا۔ زیدؓ کے پاس کچھ کھجوریں، چند سکے، اور ایک اونٹ رہ گیا۔ مگر اس کے باوجود وہ ہر روز دوسروں کی مدد کرتا رہا۔

ایک دن اس کے پاس ایک غریب قبیلے کا قاصد آیا اور کہا:

“ہمارے قبیلے کے بچے بھوک سے بلک رہے ہیں۔ کچھ مدد کر دو، اے زید!”

زیدؓ نے اپنے خیمے میں دیکھا۔ وہاں صرف اتنا اناج تھا جو چند دن کے لیے کافی تھا۔ اس کی بیوی نے کہا:

“یہ ہمارا آخری ذخیرہ ہے۔ اگر تم دے دو گے تو ہم کیا کھائیں گے؟”

زیدؓ خاموش ہوا، پھر بولا:

“اگر ہم بھوکے رہ کر کسی کو بچا سکیں، تو یہی سب سے بڑا احسان ہے۔”

اس نے سارا اناج اس قاصد کو دے دیا۔


بھوک اور یقین (Hunger and Faith)

Reward of Kindness

اس رات زیدؓ اور اس کی بیوی نے بغیر کھائے سویا۔ مگر زیدؓ کے چہرے پر سکون تھا۔ وہ کہتا رہا:

“اللہ کبھی نیک نیت کو خالی نہیں جانے دیتا۔”

اگلے دن صبح سورج چڑھا ہی تھا کہ ایک قافلہ مدینہ میں داخل ہوا۔ وہ شام کے تاجروں کا قافلہ تھا جو شام سے کھجور، غلہ، اور کپڑا لے کر آیا تھا۔

قافلے کے سردار نے سب کے سامنے اعلان کیا:

“میں اپنے سامان کا ایک حصہ اس نیک شخص کے نام وقف کرتا ہوں جس نے چند دن پہلے ہمارے قاصد کی مدد کی تھی — زید بن ناصرؓ!”

مدینہ کے لوگ حیران رہ گئے۔ زیدؓ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ وہ سجدے میں گر گیا اور بولا:

“اے اللہ! تیرا وعدہ سچا ہے۔ تو نے مجھے وہاں سے دیا جہاں کا تصور بھی نہیں تھا۔”


نبی ﷺ کا فرمان (The Prophet’s Saying)

جب نبی اکرم ﷺ کو اس واقعے کا علم ہوا تو آپ ﷺ مسکرا کر فرمانے لگے:

“اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کے احسان کو ضائع نہیں کرتا۔ جو کسی کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، اللہ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔”

پھر آپ ﷺ نے فرمایا:

“زیدؓ کا دل رحمت سے بھرا ہوا ہے، اور اللہ ایسے دلوں کو اپنا محبوب بناتا ہے۔”


ایک دشمن کا بدل جانا (The Enemy Turned Friend)

کچھ دن بعد، ایک شخص جو پہلے زیدؓ سے حسد کرتا تھا، ایک دن اس پر ظلم کر بیٹھا۔ اس نے بازار میں جھوٹا الزام لگایا کہ زیدؓ نے اس کا سامان چرا لیا ہے۔ لوگ جمع ہو گئے۔

زیدؓ خاموش کھڑا رہا۔ کچھ دیر بعد وہ شخص شرمندہ ہو گیا اور بولا:

“میں نے تم پر جھوٹ بولا، صرف اس لیے کہ تمہاری نیکیوں سے لوگ تمہیں سراہتے ہیں۔”

زیدؓ نے کہا:

“میں نے تجھے معاف کیا۔ کیونکہ میں احسان کرنا نہیں چھوڑ سکتا — چاہے بدلہ تکلیف ہی کیوں نہ ہو۔”

وہ شخص حیران رہ گیا۔ چند دن بعد وہ خود زیدؓ کے پاس آیا اور کہا:

“میں نے تم سے دشمنی کی، مگر تم نے احسان کیا۔ اب میں اسلام قبول کرتا ہوں۔”

زیدؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ جانتا تھا کہ احسان دل بدل دیتا ہے۔


آخری دن (The Final Day)

سال گزرتے گئے۔ زیدؓ بوڑھے ہو گئے، مگر ان کا دل ویسا ہی نرم تھا۔ ایک دن فجر کے وقت وہ مسجد میں بیٹھے قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔ ان کی زبان پر یہ الفاظ تھے:

“فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ — جو ذرہ برابر نیکی کرے گا، وہ اسے دیکھ لے گا۔”

یہی آیت پڑھتے پڑھتے ان کی روح پرواز کر گئی۔

مدینہ کے لوگ رونے لگے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

“زیدؓ دنیا سے چلا گیا، مگر اس کے احسان آج بھی مدینہ میں زندہ ہیں۔ جو لوگوں کے دلوں میں نیکی چھوڑ جائے، وہ کبھی نہیں مرتا۔”


خواب میں دیدار (A Dream in Paradise)

چند دن بعد ایک صحابیؓ نے خواب دیکھا۔ انہوں نے جنت میں ایک باغ دیکھا جہاں نہریں بہہ رہی تھیں۔ ایک درخت کے نیچے زیدؓ بیٹھے تھے، ان کے چہرے پر نور تھا۔ وہ مسکرا کر کہہ رہے تھے:

“میں نے احسان کیا، اللہ نے احسان سے نوازا۔ میں نے دوسروں کے لیے آسانی چاہی، اللہ نے مجھے ہمیشہ کی آسانی دے دی۔”


سبق (Moral of the Story)

احسان صرف دینا نہیں — بلکہ کسی کے دکھ کو محسوس کرنا ہے۔
احسان وہ روشنی ہے جو دلوں میں امید جگاتی ہے۔

“اللہ بھلائی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔”
(القرآن – البقرہ: 195)


آخری پیغام (Final Message)

اگر تم کسی پر احسان کرو، تو بدلے کی امید نہ رکھو۔ کیونکہ انسان بھول سکتا ہے، مگر اللہ نہیں بھولتا۔

“جو بندہ دنیا میں لوگوں پر احسان کرتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس پر اپنی رحمت سے احسان کرے گا۔”

احسان وہ خوشبو ہے جو دینے والے کے ہاتھ میں رہ جاتی ہے —
اور وہی خوشبو جنت کے دروازے تک رہنمائی کرتی ہے

Leave a Comment